پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 27 جولائی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات 2026 جاری سکیورٹی صورت حال کے باعث اب مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
منگل کو سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’موجودہ سکیورٹی صورت حال کے پیشِ نظر انتخابات مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پولنگ کا عمل فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں پرامن انداز میں مکمل کیا جا سکے۔‘
الیکشن کمیشن نے ترمیم شدہ انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پولنگ تین مراحل میں ہوگی۔
چیف الیکشن کمشنر کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے سینیئر رکن الیکشن کمیشن خواجہ محمد احسن، ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی اور سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان کے ہمراہ مظفرآباد میں پریس کانفرنس میں نئے شیڈول کا اعلان کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق میرپور ڈویژن میں پولنگ پہلے سے مقررہ تاریخ 27 جولائی کو ہوگی، جبکہ مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر ووٹنگ 2 اگست کو کرائی جائے گی۔ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہوگی۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ صاف، شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق انتخابی شیڈول میں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی مبصرین اور ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو انتخابات کی کوریج کی مکمل اجازت دی جائے گی تاکہ انتخابی عمل شفاف انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
کشمیر میں عام انتخابات ایسے وقت میں مرحلہ وار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں خطے کی سکیورٹی صورت حال اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئے شیڈول کا مقصد انتخابی عمل کو محفوظ، منظم اور پرامن ماحول میں مکمل کرنا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں میں مقامی ایکشن کمیٹی ککی جانب سے پناہ گزینوں کی نشستوں اور دیگر مطالبات پر حکومت کے ساتھ شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
کشمیری مظاہرین اور فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے صورت حال کو کشیدہ کیا ہے جن میں اموات بھی ہوئی ہیں۔
کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کا اس حکومتی فیصلے پر ردعمل تو سامنے نہیں آیا لیکن ان کے ایک رہنما عمر نذیر کشمیری نے سوشل میڈیا پر منگل کو اعلان کیا کہ ان کا رضاکارانہ احتجاجی شٹر ڈاؤن و پہیہ جام جاری ہے- ان کا کہنا تھا کہ 23 جولائی اہم دن ہے۔