کشمیر کے شورش زدہ ہمالیائی خطے میں انڈیا کے حکام نے تمام تعلیمی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ کتابوں میں ’قابل اعتراض مواد‘ کا جائزہ لیں۔ حکام نے علیحدگی پسند رہنماؤں کی مبینہ طور پر تعریف کرنے پر تین پبلشروں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
وفاق کے زیر انتظام علاقے میں ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن نے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ٹیوشن سینٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام شائع شدہ مواد، جن میں کتابیں، تحقیقی اور تعلیمی مقالے شامل ہیں، کا جائزہ لیں اور ایسے مواد کی اطلاع دیں جسے ’مذہبی جذبات، قوانین، تعلیمی اقدار اور طے شدہ روایات‘ کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہو۔
اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر انہیں ایسا مواد ملتا ہے تو وہ سات دن کے اندر تفصیلی رپورٹیں جمع کروائیں۔ ان رپورٹوں میں قابل اعتراض کتاب یا پرچے کا عنوان، اس کے مصنف، پبلشر، اشاعت کا سال اور موجود کاپیوں کی تعداد شامل ہونی چاہیے۔ اس ہدایت نامے میں ضلعی چیف ایجوکیشن افسران کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کی تعمیل کی نگرانی کریں اور 19 جولائی تک جامع رپورٹیں جمع کروائیں۔
اس ہدایت نامے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ناقدین اسے تعلیمی آزادی پر حملہ، انڈیا کی حکومت کی جانب سے کشمیر کی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تاریخ کو مسخ کرنے اور کشمیری آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ اقدام وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کے اس احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے جو اس نے سرکاری سکولوں کی لائبریریوں کے لیے ایسی دو کتابوں کی خریداری پر کیا تھا جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ ان میں خطے کے علیحدگی پسند رہنماؤں کی تعریف و توصیف کی گئی اور ’ملک دشمن جذبات‘ کو فروغ دیا گیا ہے۔
احتجاج کے بعد، حکام نے سکولوں کی لائبریریوں سے ’پرسنیلٹیز اینڈ لیجنڈز آف جے اینڈ کے‘ اور ’گریٹ پرسنیلٹیز آف جموں اینڈ کشمیر‘ کے عنوان سے کتابیں واپس لے لیں اور ان کی خریداری پر آٹھ اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
پولیس نے کہا کہ واپس لیے جانے سے قبل جموں، رام بن، ادھم پور اور بارہ مولہ اضلاع کے سکولوں میں کتابوں کی 251 کاپیاں تقسیم کی جا چکی تھیں۔ انہوں نے دونوں کتابوں میں مبینہ طور پر’انتہائی غیر مناسب مواد‘ شامل کرنے میں مدد دینے پر تین افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔
برطانیہ کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کی کشمیری نژاد پروفیسر نتاشا کول نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اس حکم کا مقصد محض انتہا پسندانہ مواد کو ہٹانا نہیں تھا، بلکہ اس بات پر ریاستی کنٹرول کو بڑھانا تھا کہ لوگ کیا پڑھ سکتے ہیں، کیا پڑھا سکتے ہیں اور کن موضوعات پر بحث کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سوچ اور الفاظ پر سینسر شپ کے ساتھ ساتھ علم تخلیق کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوششیں، آمروں کے پرانے ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ جہالت کا تسلسل ہی ہے جو جبر اور ذہن سازی کے لیے رضامندی پیدا کرتا ہے۔ آمریت کا راستہ اختیار کرنے والی جمہوریتیں آزادانہ سوچ اور علمی تحقیق سے خوفزدہ ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’قابل اعتراض مواد‘ جیسی مبہم اور غیر واضح اصطلاحات کو ایسے تمام علمی مواد کو سینسر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہو، جس سے ایک ایسی آبادی کے معاملے میں جسے پہلے ہی دیوار سے لگایا جا چکا ہے، مدلل تنقید، آزادی اظہار رائے اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔
نتاشا کول کے مطابق: ’اگرچہ تشدد اور مذہبی بنیاد پرستی کی تعریف و توصیف کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے، لیکن اس کا اطلاق ہر سمت اور اسلام کے ساتھ ساتھ ہندو مت سمیت تمام مذاہب پر ہونا چاہیے۔
’یہ مبہم زبان خوف اور دباؤ کی فضا کے لیے مزید راہ ہموار کرتی ہے، جس سے تعلیمی اداروں میں ریاست کا غیر ضروری کنٹرول بڑھتا ہے اور سیاست، معیشت اور معاشرے سے متعلق معاملات پر ارباب اختیار کے سامنے سچ بولنے کی سکالرز کی صلاحیت مزید خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘
کشمیر سے تعلق رکھنے والے انڈیا کی پارلیمنٹ کے رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ ’تعلیمی اداروں کے جاری آڈٹ کے ساتھ ساتھ، کشمیر یونیورسٹی سے کشمیر کی تاریخ اور تشخص سے متعلق کتابیں ہٹائے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’لائبریریاں علم محفوظ کرنے کے لیے ہوتی ہیں، سیاسی بیانیے گھڑنے کے لیے نہیں۔ کتابیں مٹانے سے تاریخ نہیں مٹتی، اس سے محض علمی تحقیق کا نقصان ہوتا ہے۔
’جو معاشرہ خیالات سے خوفزدہ ہو، وہ دراصل سچائی سے ڈرتا ہے۔ تعلیمی آزادی اور تاریخ سے جڑے رہنے کے حق کو کبھی بھی نظریاتی کنٹرول کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔‘
انہوں نے جریدے فرنٹ لائن کو بتایا کہ ’یہ تازہ ترین پابندی کشمیر کی اجتماعی یادداشت کو نئے سرے سے لکھنے اور ہماری تاریخ اور یادداشت کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ صرف منتخب تعلیم اور منتخب بھول جانے کے عمل کو فروغ دیتی ہے۔‘
تاہم بی جے پی کے ترجمان سنیل سیٹھی کا استدلال ہے کہ حکومت لوگوں کو ’تعلیمی آزادی کے نام پر علیحدگی پسندوں کی تعریف کرنے‘ کی اجازت نہیں دے سکتی۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خطے میں بڑی مشکل سے امن بحال ہوا ہے اور ہم حالات کو دوبارہ قابو سے باہر نہیں ہونے دے سکتے۔‘
گذشتہ برس، حکام نے کشمیر میں 25 کتابوں پر پابندی عائد کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اس متنازع خطے میں ’غلط بیانیوں‘ اور ’علیحدگی پسندی‘ کو فروغ دیتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پابندی کے تحت بکر انعام یافتہ ارندھتی رائے، آئینی ماہر اے جی نورانی اور سمنترا بوس، کرسٹوفر سنیڈن اور وکٹوریہ سکوفیلڈ جیسے ممتاز ماہرین تعلیم اور مؤرخین کی تحریروں کو فروخت کرنے یا حتیٰ کہ اپنے پاس رکھنے پر لوگوں کو قید کی دھمکی دی گئی تھی۔
اپنی پیچیدہ تاریخ کی وجہ سے کشمیر طویل عرصے سے مختلف بیانیوں کی جنگ کا میدان رہا ہے۔ ہمالیہ کے اس خطے کے کچھ حصے انڈیا اور پاکستان کے کنٹرول میں ہیں، لیکن دونوں پورے کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کئی دہائیوں سے انڈین حکمرانی کے خلاف سیاسی اور مسلح بغاوتیں جاری ہیں۔
گذشتہ چار دہائیوں کے دوران اس تنازعے میں کبھی شدت آئی اور کبھی کمی ہوئی، جب کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے گئے۔
انڈیا کا الزام ہے کہ پاکستان کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک، خاص طور پر مسلح بغاوت کو ہوا دے رہا ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
2019 میں انڈین حکومت نے خطے کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرکے اسے براہ راست مرکزی حکومت کے ماتحت کر دیا تھا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے حکام اختلاف رائے کو تیزی سے جرم قرار دے رہے ہیں اور شہری آزادیوں کو محدود کر رہے ہیں۔
کشمیر اب بھی دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فوج کی موجودگی سب سے زیادہ ہے۔
© The Independent