حکومت پاکستان نے تقریباً 45 سال قبل ملک بھر میں قائم کیے جانے والے افغان پناہ گزین کیمپوں میں سے 16 کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں، جن میں میانوالی میں کوٹ چاندنہ کے مقام پر پنجاب کا پہلا اور بڑا افغان کیمپ بھی شامل تھا۔
اس کیمپ کی ابتدائی آبادی ایک لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔
ان کیمپوں میں اقوام متحدہ کی جانب سے سکول، ہسپتالوں میں خدمات و دیگر سہولیات کے لیے یو این ایچ سی آر کے علاوہ سرکاری ملازمین بھی تعینات تھے۔
انہی سرکاری ملازمین میں کوٹ چاندنہ کیمپ کے مضافات کے رہائشی 30 سالہ عابد نور بھی تھے، جو چھ سال تک کیمپ میں واقع ہسپتال میں بطور لیب ٹیکنیشن ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ بطور پولیو ورکر اور ویکسینیٹر کے طور پر بھی فعال رہے اور افغان پناہ گزینوں کی کثیر آبادی میں ہر گھر تک ان کی رسائی اور کافی جان پہچان رہی۔ لیکن ان کی اصل پہچان وہ نایاب لمحے ہیں جو انہوں نے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے دوران اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کیے۔
گو کہ عابد نے کیمپ کوٹ چاندنہ میں افغان پناہ گزین کے خاندانوں کے انخلا کے مناظر کو محض ذاتی یادگار کے طور پر موبائل کیمرے میں محفوظ کرنا شروع کیا تھا، جس میں گھروں اور گلیوں کے سینکڑوں مناظر فلمبند کرنے کے علاوہ افغانوں کے ان اداس اور خاموش جذبات کی بھی عکاسی شامل تھی، جو اپنے گھر یا جائے پیدائش چھوڑنے پر نظر آتے ہیں۔
یہ صرف ویڈیوز نہیں بلکہ ہجرت، محرومی اور یادوں کی داستانیں ہیں۔ عابد نور کا افغان کیمپ کے پناہ گزینوں کے ساتھ اور ان کے بیچ یادگار وقت گزرا جو کہ خالصتاً بھائی چارے پر مبنی تھا۔
انخلا پر جتنے افغان شہری افسردہ تھے، عابد بھی اتنے ہی اداس تھے۔
حالیہ انخلا کے دوران بطور ذاتی یادداشت انہوں نے افغانوں کی وطن روانگی، ان کے جذبات، ان کے گھروں اور بازاروں کے سینکڑوں مناظر جو جب وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا شروع کیے تو افغان کوٹ چاندنہ کیمپ چھوڑ کر سالوں پہلے بیرون ملک منتقل ہونے والے سینکڑوں افغانوں نے ان سے رابطہ شروع کیا اور ان سے اپنے گھروں اور گلیوں کی ویڈیوز مانگنے لگے۔
عابد نے بغیر کسی معاوضے کے یہ یادگار لمحات سب کو بذریعہ وٹس ایپ بھیجے اور ساتھ ہی ہر گھر کا حوالہ دے کر بتایا کہ وہاں کون رہتا تھا۔
عابد نور کے مطابق وہ ویڈیوز بناکر بلامعاوضہ لوگوں کو بھیجتے ہیں، جس میں گھر کے مکینوں کو بتاتے اور دکھاتے بھی بتاتے بھی ہیں۔
ان کے مطابق انخلا کے دوران جب انہوں نے ویڈیوز بنائی تھیں تو افغانستان جانے والے پناہ گزین کا تقاضا تھا کہ یہ انہیں دے دی جائیں جو کہ مشکل کام تھا۔
بقول عابد نور: ’میں نے ان افغاں بھائیوں کی آسان رسائی کے لیے ان تمام ویڈیوز کو فیس بک پر الوداعی انداز میں پوسٹ کر دیا جبکہ کئی افراد کو آن ڈیمانڈ وٹس ایپ کے ذریعے بلامعاوضہ بھی ویڈیوز بھیجتا رہا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔‘