امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو مسلسل ساتویں رات ایران پر حملے مکمل کر لیے ہیں، جن کے دوران کئی ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ دوسری جانب تہران نے بھی خلیجی ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’سینٹ کام نے نگرانی کے ٹھکانوں، فوجی نقل حرکت کے بنیادی ڈھانچے، زیر زمین ہتھیاروں کے ذخیروں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔‘
ایران نے امریکی حملوں میں تین اموات کی اطلاع دی جب کہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور اردن میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کو کہا کہ ’فریب کار امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں‘ کی ہدایت پر چلنے والے تیل کے دو ٹینکر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دھماکے سے تباہ ہو گئے‘، جس کی امریکی فوج نے فوری طور پر تردید کر دی۔
پاسداران انقلاب نے سرکاری ٹیلی ویژن پر یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار بحری جہازوں کو ’روک‘ دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ سب سے بڑی کشیدگی میں، ایران نے امریکی افواج پر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا، جن میں ایک ہوائی اڈا، ایک ریلوے سٹیشن اور دو پل شامل ہیں۔ تہران کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں خطے بھر میں امریکی اثاثوں پر حملے کیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، لیکن امریکی جانب سے جمعے کو اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی کہ امریکی افواج نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر فوجی مشیر میجر جنرل محسن رضایی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف امریکی حملے مزید دو یا تین دن تک جاری رہے تو تہران ’بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیاں‘ دوبارہ شروع کر دے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی آر آئی بی کے مطابق محسن رضایی نے کہا کہ ’ایران اب خود کو محض جوابی اور جیسے کو تیسا ردعمل تک محدود نہیں رکھے گا اور کوئی بھی سیاسی سرحد محفوظ نہیں رہے گی۔‘
یہ جنگ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دنیا کے زیادہ تر تیل کی ترسیل کے اہم تجارتی راستے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا اور خلیج بھر میں اسرائیل اور امریکی مفادات پر حملے شروع کر دیے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے ہفتے کو اطلاع دی کہ جنوبی ایرانی صوبے ہرمزگان میں امریکی حملوں میں تین افراد جان سے گئے اور آٹھ زخمی ہو گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہفتے کو ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ایران کی فوج نے کہا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور اردن میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
کویت میں ایرانی افواج نے الادری کیمپ میں گولہ بارود کے ایک ڈپو، علی السالم بیس میں ہیڈ کوارٹرز کی عمارتوں اور گولہ بارود کے ڈپوؤں، اور رابطے کے کئی پلوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اردن میں الازرق بیس پر ایندھن کے ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پیرس میں قائم تھنک ٹینک، ژاں ژوریس فاؤنڈیشن میں مشرق وسطی کے ماہر ڈیوڈ خلفا نے نشاندہی کی کہ اب ’سٹریٹیجک بنیادی ڈھانچے کا ایک وسیع دائرہ‘ تنازعے کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔
خلفا کے مطابق: ’تضاد یہ ہے کہ اگرچہ تنازعے میں شدت آتی جا رہی ہے، لیکن کسی بھی فریق کا اس صورت حال کو جاری رہنے دینے میں کوئی سٹریٹیجک مفاد نہیں۔ اس کے باوجود دونوں فریق کسی بھی طرح کے سمجھوتے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔‘
روئٹرز کے مطابق ایرانی میڈیا نے مقامی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جاسک میں کئی میزائلوں نے بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں کو نشانہ بنایا جب کہ خرم آباد میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اردنی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے 10 میزائلوں کو مار گرایا۔ حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
اسی طرح بحرینی وزارت داخلہ کے مطابق جمعے کو بحرین میں تیسری بار سائرن بجے جبکہ کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ میزائل اور ڈرون خطرات کا جواب دے رہی ہے۔