غزہ: نصیرات کیمپ پر اسرائیلی حملے میں آٹھ فلسطینی قتل

جمعے کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والے 14 فلسطینیوں کی لاشیں اور 37 زخمی افراد بھی غزہ کی پٹی کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچائے گئے۔

غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البریج مہاجر کیمپ میں 16 جولائی 2026 کو اسرائیلی حملے کے مقام کا فلسطینی جائزہ لے رہے ہیں (ایاد بابا / اے ایف پی)

جمعے کی شام غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں واقع نصیرات پناہ گزین کیمپ کے بلاطة مارکیٹ کے علاقے میں شہریوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم آٹھ فلسطینی قتل اور 20 دیگر زخمی ہو گئے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نیوز کے مطابق یہ حملہ ان فلسطینیوں پر کیا گیا جو ایک ایسے فلسطینی شہری کے جنازے کے جلوس میں شریک تھے جو اس سے قبل قتل کر دیے گئے تھے۔

 اس حملے میں متعدد افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔

جمعہ کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والے 14 فلسطینیوں کی لاشیں اور 37 زخمی افراد بھی غزہ کی پٹی کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچائے گئے۔

فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق، جمعرات کو بھی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی جان سے گئے۔

امریکا میں قائم ایک تحقیقی ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اکتوبر میں نافذ ہونے والی تازہ جنگ بندی کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

طبی عملے کے مطابق غزہ کے شمال میں واقع طفاح محلے کے قریب ایک اسرائیلی فضائی حملے میں دو افراد قتل ہوئے، جبکہ غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون میں اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری سے ایک اور شخص جان سے گیا۔

عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ وسطی غزہ میں واقع نصیرات پناہ گزین کیمپ کی ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا، جس سے قریبی کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق، اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان سیزفائر نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار ایک سو سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، قتل ہو چکے ہیں۔

غزہ شہر کے الشفاء اسپتال میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے ایک کے رشتہ دار جبریل خطّاب نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’غزہ کے پورے عوام نے جنگ بندی کا ایک دن بھی نہیں دیکھا، ایک لمحہ بھی نہیں دیکھا۔ یہ جنگ بندی محض ایک فریب ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پورے غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔‘

حملوں میں اضافہ

جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی کو روک دیا تھا، لیکن تقریباً روزانہ ہونے والے اسرائیلی حملوں کو نہیں روک سکی۔

اسی عرصے کے دوران غزہ میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے ACLED، جو غزہ میں اسرائیلی حملوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، نے کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی تعداد جون میں 40 سے تجاوز کر گئی، جو جنگ بندی کے بعد کسی بھی مہینے کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ACLED کے مشرقِ وسطیٰ کے اسسٹنٹ ریسرچ منیجر ناصر خضور  نے کہا: رائے عامہ کے جائزوں میں اپوزیشن کی برتری ظاہر ہونے کے ساتھ، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو حماس کے خلاف زیادہ سخت سکیورٹی مؤقف اختیار کرنے کے لیے اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

وہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کا حوالہ دے رہے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا مقصد غزہ میں موجود عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانا ہے۔

غزہ کے تقریباً 20 لاکھ باشندوں میں سے قریباً سبھی اب ساحل کے ساتھ واقع ایک محدود پٹی پر رہ رہے ہیں، زیادہ تر عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں، جو حماس کے کنٹرول میں ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا