غزہ: اسرائیلی ٹارگٹڈ فضائی حملے میں صحافی أحمد وشاح جان سے گئے

الجزیرہ ٹی وی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ الجزیرہ مباشر کے نامہ نگار کو ’نشانہ بنا کر قتل کیے جانے کے گھناؤنے جرم‘ کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘

صحافی أحمد وشاح (أحمد وشاح/انسٹاگرام)

غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں ہفتے کو ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے میں صحافی أحمد وشاح جان سے چلے گئے۔

ان کا تعلق الجزیرہ ٹی وی سے تھا، جس نے ایک بیان میں کہا کہ وہ الجزیرہ مباشر کے نامہ نگار کو ’نشانہ بنا کر قتل کیے جانے کے گھناؤنے جرم‘ کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ’یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ایک نئی اور کھلی خلاف ورزی ہے اور صحافیوں کو نشانہ بنانے اور سچ کی آواز کو خاموش کرنے کی مسلسل منظم پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔‘

احمد وشاح کے بھائی محمد وشاح، جو الجزیرہ کے نامہ نگار تھے، اپریل میں ایک اسرائیلی حملے میں جان سے گئے تھے۔

فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق آج غزہ میں اسرائیلی حملوں میں دو بچوں اور وشاح سمیت کم از کم چھ افراد جان سے گئے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تقریباً روزانہ اسرائیلی حملے جاری ہیں، جن میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان سے جا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت صحت کے مطابق ہفتے کی صبح تقریباً دو بجے پہلا حملہ غزہ شہر میں ایک اپارٹمنٹ پر کیا گیا۔

جائے وقوعہ پر موجود ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک صحافی نے ملبہ اور خون آلود کنکریٹ کے ٹکڑے دیکھے۔

چار سالہ زینا اور 14 سالہ لانا نامی دو بہنوں کی لاشیں الشفا ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کی گئیں۔

ان کے کزن محمد صفدی نے، جن کی پیشانی پر زخم آیا، کہا ’میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ راکٹ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ہم پر آ گرا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ہفتے کی شام اسرائیل کے تین مزید حملوں میں مزید چار افراد جان سے گئے اور کم از کم ایک درجن زخمی ہو گئے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا