پچھلے دنوں کراچی اور بیرون ملک کچھ دوستوں سے رابطے رہے اور ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ بدقسمتی سے ہم سب ملکی اور عالمی سطح پہ جاری بھونڈے سیاسی اور عسکری موضوعات پہ ہی سر کھپاتے ملے۔
میں نے ایک بیٹھک کے دوران خواتین سے ازراہ تبدیلی موضوع یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے سماج کی تنگ و تاریک حقیقتوں کے درمیان اگر معیار حسن کو پرکھنے کے پیمانے دیکھے جائیں تو کیا پاکستان میں خواتین کے انتخاب کے حوالے سے ’گورے رنگ‘ سے بات آگے بڑھی ہے یا نہیں۔
ریسرچر زبیدہ بروانی نے جو خاکہ پیش کیا وہ تو آج بھی وہی فرسودہ گورے رنگ اور تیکھے نین نقش والا تھا۔ ان کے بقول ’کردار اور شخصیت کی گہرائی اور کشش آج بھی ڈھونڈنے والے کم ہی نظر میں آتے ہیں۔‘
نسوانی حسن کا معیار ہمارے معاشرے میں اکثر سطحی پیمانوں پہ تولا جاتا ہے۔ عورت یا تو محض ’صنفِ نازک‘ کے طور پر دیکھی جاتی ہے، یا پھر اگر وہ رائج حسن کے معیار پر پوری نہ اترے تو گویا دائرۂ حسن سے خارج کر دی جاتی ہے۔
افسوس کہ بات صرف یہیں تک نہیں ٹھہرتی بلکہ درجہ بندی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جہاں رنگت، نقوش، قد و قامت اور ظاہری خدوخال کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔
ماڈلنگ کے بعد اب اداکاری سے منسلک نوین نقوی بھی کچھ ملی جلی رائے کے ساتھ کہتی ہیں کہ ’گوروں کے دور سے چلا آ رہا گوری رنگت والا معیار حسن آج بھی ہمارے پاکستانی سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کیے بیٹھا ہے۔ ہم پوسٹ کلونیئل دور کی ایک نوزائیدہ مملکت ہیں جہاں خواتین کے حوالے سے ذہانت، شعور اور قابلیت سے بڑا پرکھنے کا پیمانہ گورا رنگ اور بڑی بڑی آنکھیں اور کالے لمبے بال مانے جاتے ہیں۔‘
نوین نقوی مانتی ہیں کہ آج بھی ’ماڈلز کے لیے ناتواں حد تک دبلا ہونا، سفید پھیکا رنگ اور لمبے بال اہم سمجھے جاتے ہیں۔‘
ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ اب پچھلے کچھ برسوں سے ٹی وی نے اداکاری کی فیلڈ میں اس معیار کو قدرے کم اہم جانا ہے اور اب ہم ڈراموں میں رنگت اور خوبصورتی سے زیادہ شخصیت اور ایکٹنگ کا معیار بلند نظر آتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ بات بھی مان لینی چاہیے کہ اب کا نوجوان خوبصورتی سے زیادہ ذہانت، اخلاقی رواداری کو ہر جانچ پہ ترجیح دیتا ہے، چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے۔ اور ’باڈی شیمنگ‘ کسی کھیت کی مولی نہیں تسلیم کی جاتی۔
فلم ٹی وی نقاد اور صحافی عمیر علوی کے بقول اب اس طرح لوگوں کو ’کلو، موٹو، ٹھگنے یا چپٹے‘ کے ناموں سے نہیں پکارا جاتا۔ اب نوجوان شکل صورت سے زیادہ ذہنی اور شعوری حسن کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی کے ساتھی سے متعلق انتخاب کرتے بھی ملتے ہیں۔‘
شاید ’نسوانی حسن‘ کی تعریف اب تبدیل ہوتی جائے گی اور لوگ شعوری حسن کو پرکھتے ملیں، لیکن ’بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔‘
میں نے اس بلاگ کی تحریر میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم بھی کچھ خواتین سے رابطے کیے اور ان کا تجزیہ جاننے کی کوشش کی۔
کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم اور دو ذہین بیٹیوں کی والدہ سائرہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ایک وقت تھا ور آج بھی بڑے پیمانے پہ گوری رنگ اور ستواں جسم کو ترجیح کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن سماجی اور معاشی شعور نے اب جیسے کروٹ لی ہے اور اب ذہانت اور رواداری کو شخصی حسن کی بنیاد مانا جانے لگا۔ اب لوگوں کی سوچ کا زاویہ بدلنا شروع ہوا ہے۔ اب تعلیم اور شعور کا حسن اپنی جگہ بنا رہا ہے۔‘
دوسری طرف اسلام آباد کی رہائشی اور برسوں بیرون ملک زندگی گزارنے والی فرزانہ رشید مانتی ہیں کہ ’سماجی حسن کے بھونڈے پن کی چھاپ اتنی آسانی سے ہمارے ذہنوں سے نہیں مٹنے والی، ٹی وی کے اشتہار ہی اس بات کی ٹھوس مثال ہیں کہ ہم عوام میں حسن کے کس معیار کی تشہیر کر رہے ہیں۔‘
بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی اسی عدم توازن کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں ظاہری خوبصورتی کو اکثر ذہانت، بصیرت اور کردار پر فوقیت دی جاتی ہے۔
جب تک ہم انسانوں کو ان کے شعور، فکر اور کردار کی بنیاد پر پرکھنے کی روایت کو فروغ نہیں دیتے، اس وقت تک ایک حقیقی معنوں میں متوازن، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
ایک متوازن اور باشعور معاشرے میں کسی فرد کی قدر و منزلت کا معیار اس کی سوچ، علم، کردار، نظریے اور معاشرے کے لیے مثبت کردار ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت۔ جب حسن کے مصنوعی اور سطحی پیمانے انسان کی قابلیت اور شخصیت پر غالب آ جائیں تو معاشرہ فکری اور اخلاقی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔