کینسر اور علاج کی کڑی آزمائشیں

کینسر کا علاج کروانا ہر ایک بس کی بات نہیں، یہ علاج طویل اور مہنگا ہوتا ہے، مریض خراب صحت اور معاشی تناؤ کا شکار ملتے ہیں۔

معالج کے مزاج اور تعاون کا بھی مریض اور متعلقہ افراد پہ اہم اثر ہوتا ہے (تصویر: اینوانتو)

سیما کے شوہر کو جب کینسر کی تشخیص ہوئی تو جیسے ان پہ پہاڑ سا آ گرا۔ لفظ ’کینسر یا سرطان‘ ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی اور پھر لمبے چوڑے علاج اور دوائیں سب مل کر مریض کو جکڑ لیتے ہیں۔ اور یہ ہی کچھ میری پڑوسن سیما اور ان کے شوہر کو بھی در پیش تھا۔

مثانے کے کینسر کے علاج کے دوران جہاں ان کے ریڈی ایشن کے تین درجن سے زائد سیشن ہوئے وہیں، سہ ماہی انجیکشن بھی لگنے لگا۔ ریڈی ایشن کے بعد تو جیسے تھکاوٹ کا غلبہ اپنی لپیٹ میں لے لیتا، اوپر سے بے خوابی اور ہاضمے کی تکالیف۔ اس سے قبل ہارمون تھیراپی نے کھانے کی اشتہا کچھ ایسے بڑھا دی تھی کہ ہر آدھے گھنٹے پہ بھوک معدے پہ دستک دے ڈالتی۔

شکر ہوا کہ ہارمون تھیراپی تو تین ہفتے بعد روک دی گئی، لیکن سہ ماہی انجیکشن تو جاری رہے گا اور اسی انجیکشن نے ہمارے پڑوسی جناب ریاض صاحب کو دیا ہے پانی جیسا جاری زکام۔ وہ سارا دن ناک پونچھتے اور ٹشو پیپر کے گولے بنا کر کوڑے دان میں پھینکتے رہتے ہیں۔

جب پلمونولوجسٹ سے رجوع کیا اور ’گوگل‘ کو کھنگالا تو معلوم ہوا کہ یہ سہ ماہی انجیکشن کے مضر اثرات کا تحفہ ہے۔ اب بیچارے کیا ہی کر سکتے۔ کچھ اینٹی الرجی کا استعمال کیا اور مزید ٹشو پیپر خرید لائے۔

اسلام آباد میں کام کرنے والے کنسلٹنٹ اونکولوجسٹ ڈاکٹر علی واجد نے کینسر کے علاج اور بنیادی مضر اثرات کے بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کیمو اور ریڈیوتھراپی سے بال بھی گرتے ہیں اور دل خراب ہوتا ہے۔ تقریباً ستر فیصد مریض ان اثرات سے دو چار ہوتے ہیں۔ ریڈی ایشن جس جگہ دی جاتی ہے وہاں جلد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے، مریضوں کو تھکاوٹ اور شدید گرمی کے فلیشز آتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ دسمبر میں بھی یہ مریض پنکھے میں بیٹھ جاتے ہیں۔‘

پڑوسن کے ہمراہ اکثر شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انکولوجی میں جانے کا اتفاق رہا، ریڈیولوجی میں تقریبا سبھی مرد و زن مریض یا تو مثانے، گلے یا خواتین میں چھاتی کے کینسر سے دو چار ملے۔ سبھی مریضوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ انہیں ڈاکٹر نے کوئی خاص پرہیز نہیں بتایا۔

اسی بارے میں لکھنے کے لیے جب انڈپینڈنٹ اردو نے کینسر کے علاج سے جڑے مختلف مریضوں سے رابطہ کیا تو مسز شمیم جو چھاتی کے کینسر کا علاج کروا رہی ہیں، انہوں نے اور ان کی بیٹی نے بتایا: ’وہ پہلے بہت مضبوط اعصاب کی مالک تھیں لیکن اب اگر ذرا سی ٹھوکر بھی لگ جائے تو چلنے پھرنے کے لیے رضامند نہیں ہوتیں کہ کہیں گر نہ جائیں۔ بھوک اور نیند بھی کافی متاثر ہو گئے ہیں۔ بے آرامی کے باعث اعصاب تھکاوٹ اور کمزوری کا شکار ہو رہے ہیں، کسی چیز میں دلچسپی نہیں رہی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت جو ہمیشہ قوی تھی، اب معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ خود کو دوسروں پہ بوجھ محسوس کرنے لگی ہیں۔‘

کیمو تھراپی ہو، ریڈی ایشن ہو یا ہارمون تھراپی سبھی علاجوں سے اعصاب اور بھوک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ڈاکٹر علی واجد کے مطابق سرجری کے بعد ان مریضوں میں ’بھوک اور نیند کی کمی بھی نوٹ کی جاتی ہے اور جلد سے متعلق امراض جنم لے لیتے ہیں۔ سرجری بعد ریکوری میں تین چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ کینسر مخالف ادویات کے اپنے اثرات مریض کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن اب ایسی نئی دوائیں متعارف کی جا چکی ہیں جن کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سب سے نمٹنے کے لیے ایک مریض کی خوراک اس پر کس قدر اثر انداز ہوتی ہے، اس بارے میں ماہرانہ رائے کے حوالے سے، غذائی ماہر یا نیوٹریشنسٹ اور پبلک ہیلتھ پروفیشنل جناب شاہد فضل کا ماننا ہے کہ ’ایسے مریضوں کے لیے تازہ غذا تیار کی جانی چاہیے اور بادی اشیا سے پرہیز ضروری ہے۔ ان مریضوں کو سخت علاج کے باعث ہائی کیلوری ڈائٹ دی جانی چاہیے۔ مریضوں کی بھوک علاج کے باعث متاثر ہو چکی ہوتی ہے لہذا ان کو مختصر وقفوں میں غذا دیتے رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر ضرورت پڑے تو مائیکرو نیوٹریئنٹس پہ مبنی لکوئیڈ سپلیمنٹس بھی دیے جا سکتے ہیں۔‘

مضر اثرات تو علاج کے دوران رونما ہوتے ہیں اور غذا کو اس حساب سے ترتیب دیا جاتا ہے، لیکن علاج سے قبل بھی مریض کی رہنمائی اہم ہے۔ کینسر کا لفظ ہی مریض اور تیمار دار کے ہوش اڑا دیتا ہے، مریض اکثر گم صم ہو جاتے ہیں۔

علاج سے متعلق رہنمائی بھی اہم ہے۔ بقول ڈاکٹر علی واجد: ’سب سے پہلے بیماری کے بارے میں بتاتے ہیں، بیماری کو شفا میں بدلنے میں کتنا عرصہ لگے گا، کن کن اعضا پہ بیماری کا اثر ہو سکتا ہے۔ دوائیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے، کیا ٹریٹمنٹ ہوگا، ریڈیو تھراپی ہوگی، کیمو کی جائے گی یا ہارمون تھراپی بھی درکار ہو گی۔ ان کے عام اثرات کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہم مریض کو ڈرانے کی کوشش نہیں کرتے۔‘

ان سبھی کے ساتھ ہی مریض سے اس کی رضا مندی لی جاتی ہے کہ وہ علاج کے لیے سب کچھ جاننے کے بعد راضی ہے۔ پھر دور رس اثرات مثلاً فرٹیلیٹی پہ فرق، یا دیگر اثرات پہ بات کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ علاج کے دوران عام طور پہ کیا غذا لی جائے، ملنے جلنے کی احتیاط اور بنیادی صفائی رکھنے سے متعلق بھی آگاہی دی جاتی ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پہلے پہل مریض گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کا علاج سے متعلق خوف آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے، لیکن معالج کے مزاج اور تعاون کا بھی مریض اور متعلقہ افراد پہ اہم اثر ہوتا ہے۔

ڈی آئی خان سے آئی مریضہ جمشید پروین نے چھاتی کے کینسر کا علاج کروایا۔ ان کو پہلے 27 ریڈی ایشن دی گئیں لیکن دس فیصد ٹیومر باقی رہ جانے کے بعد کیمو تھراپی اور سرجری سے بھی گزرنا پڑا۔ اب وہ گھر پہ ہیں۔ انہوں نے اپنے معالج اور فیملی کے تعاون سے اس مرض کا بہادری سے سامنا کیا اور مضر اثرات کو بھی جھیلا، ان میں نیند کی کمی، ہاضمے کی شکایت اور کمزوری شامل رہے اور ان سبھی پہ انہوں نے اپنی ہمت اور بروقت تیمار داری سے قابو پایا۔

اونکولوجسٹ ڈاکٹر علی واجد کا ماننا ہے کہ ’کینسر کے مریض ایک بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہوتے ہیں، انہیں ذہنی سپورٹ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو نہیں پتہ ہوتا کہ ان کے پاس کتنا وقت بچا ہے اور جن کے پاس کم وقت ہوتا ہے وہ شدید مایوسی میں چلے جاتے ہیں۔ پھر ان کی کاؤنسلنگ کرنی ہوتی ہے اور فیملی کا تعاون بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ علاج بہت مہنگا ہے، مریض اس کے خرچ کو پورا کرنے میں اعصابی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

کینسر کا علاج کروانا ہر ایک بس کی بات نہیں، یہ علاج طویل اور مہنگا ہوتا ہے، مریض خراب صحت اور معاشی تناؤ کا شکار ملتے ہیں۔ کبھی کبھی مریض اگلی کیمو یا ریڈی ایشن کے بجٹ کا سوچتے ہوئے ہسپتال تک آتے ہیں۔ معاشی فکر کسی بیماری کا شاخسانہ تو نہیں ہوتی بلکہ اکثر بیماریوں کی جڑ ضرور بن جاتی ہے۔ 

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین