تنازعات کا سمندر اور کراچی پولیس

پولیس پر انتظامیہ کا اصل رسوخ کم سے کم ہو اور پولیس چیف کی تقری و تعیناتی اور ہٹانے کا اختیار ایک آزاد کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔

17 فروری 2025 کی اس تصویر میں کراچی کی ایک سڑک پر پولیس اہلکار گشت کرتے ہوئے (فائل تصویر/ اے ایف پی)

آج  کل کراچی میں ایک نوجوان میر رضا علی کے قتل کا تنازع چل رہا ہے۔ معمہ یہ ہے کہ یہ قتل ہے یا خودکشی؟ مختلف میڈیکل رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایک مبینہ منشیات فروش پنکی کی منشیات کے مقدمے میں رہائی ہوئی ہے۔ اس خاتون کی گرفتاری پر بڑا شور مچا تھا۔ پاکستان میں اب یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ پہلے میڈیا میں کیس چلتا ہے اور پھر پولیس اور عدالتوں میں شنوائی ہوتی ہے۔

عوام کی نظر اور کراچی پولیس کے تصور پر دو اہم تحقیقی مکالے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق اور واہ اکیڈیمیا جرنل آف سوشل سائنسز ۔ میں لکھے گئے ہیں۔ ان کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ عام طور پر شہری صرف اس وجہ سے زیادہ انصاف کی توقع نہیں کرتے کہ پولیس افسر کا تعلق ان ہی کی نسل یا گروہ سے ہے۔

2۔ جن لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ پولیس میں ان کے اپنے گروہ کی نمائندگی کم ہے، وہ دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کے بارے میں زیادہ خدشات رکھتے ہیں۔ ایسے شہریوں کو خوف ہوتا ہے کہ مختلف نسل یا گروہ سے تعلق رکھنے والا پولیس افسر ان کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں

3۔ جو لوگ زیادہ معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، وہ پولیس کی کارکردگی کو زیادہ منفی انداز میں دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ پولیس ان کی مدد کرنے میں مؤثر نہیں ہے اور قانون سب کے لیے برابر طریقے سے نافذ نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے ایسے شہری جرائم کا شکار ہونے کے بعد بھی پولیس کو رپورٹ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ معاشی مشکلات اور پولیس پر کم اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

اگر شہری سمجھتے ہیں کہ پولیس ان کی مدد نہیں کرے گی یا ان کی شکایت پر مناسب کارروائی نہیں ہوگی تو وہ پولیس سے تعاون کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی میں پولیس پر عوام کا کم اعتماد صرف افواہوں یا ذاتی تجربات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی، سماجی اور پولیس کے نظام سے متعلق کئی وجوہات موجود ہیں۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے جرائم کو روکنا پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کراچی پولیس جرائم پر قابو پانے اور شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر جرائم میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن اس کے باوجود شہریوں کو خاص طور پر سٹریٹ کرائم کا سامنا ہے۔

سال 2025 میں کراچی میں سٹریٹ کرائم کے 64,323 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 71,105 تھی۔ اس طرح 2025 میں سٹریٹ کرائم کے واقعات میں 6,782 کی کمی ہوئی۔

سال 2025 میں سٹریٹ کرائم کے دوران 70 افراد جان کھو بیٹھے اور 290 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے مقابلے میں 2024 میں 99 افراد مارے گئے اور تقریباً 400 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ بعض شہری جرائم کا شکار ہونے کے بعد پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرواتے۔ موبائل فون چھیننے، گاڑیوں کی چوری، ٹریفک حادثات اور ہوائی فائرنگ  بھی بہت بڑی مسائل ہیں۔

مالی سال 2026-27 کے لیے سندھ حکومت نے قانون اور امن و امان کے لیے 210.573 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 2.7 فیصد زیادہ ہے۔ اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ پولیس کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

سندھ کے وزیراعلیٰ کے مطابق اس اضافی بجٹ اور پولیس کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے کراچی میں:

  • •گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات میں 67 فیصد کمی ہوئی۔
  • •پرتشدد سٹریٹ کرائم میں 54 فیصد کمی ہوئی۔
  • •جرائم کی نشاندہی کی شرح 81 فیصد تک پہنچ گئی۔

لیکن کراچی میں جرائم میں کمی کے باوجود ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت کم مجرموں کو عدالت سے سزا ملتی ہے۔ تفتیشی مسائل حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مصنوعی ذہانت، سائبر کرائم، ڈرون کے ذریعے نگرانی اور خصوصی تفتیشی یونٹس کے قیام پر کام کرے گی۔

اگر پولیس اپنی کارکردگی بہتر بنائے، شہریوں کے ساتھ انصاف اور اچھا رویہ اختیار کرے، قابلیت کی مناسب نمائندگی یقینی بنائے اور جرائم کی شکایات پر مؤثر کارروائی کرے تو عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھ سکتا ہے۔

عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھانا جرائم کی بہتر رپورٹنگ اور جرائم پر قابو پانے کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ کراچی پولیس کو ایک مثالی پولیس ہونا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جس میں تمام قومیں آباد ہیں۔ یہ شہر اور اس یہاں کی پولیس اگر مثالی ثابت ہو تو دوسرے شہر اس کی تقلید کرسکتے ہیں۔ اس پولیس پر انتظامیہ کا اصل رسوخ کم سے کم ہو اور پولیس چیف کی تقری و تعیناتی اور ہٹانے کا اختیار ایک آزاد کمیشن کے پاس ہونا چاہیے۔

اس اقدام سے پولیس سیاسی طور پر غیر جانب دار ہوسکتی ہے۔ اس کمیشن میں حکومتی، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے لوگ مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ دوسرا قدم کراچی پولیس چیف کو یہ اختیارات دینے چاہیے کہ وہ دفعہ 144 لگا سکے اور جلسے اور جلوسوں کی ضابطہ کاری اور نگرانی کر سکے۔

تیسرا، قانون میں ترمیم کر کے سائنسی شہادت کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس شہادت کو زبانی شہادت کے مقابلے میں کم اہمیت دی جائے۔ ان ہی اقدامات کے وجہ سے وہ کمزوریاں دور ہو سکتی ہیں جن کی نشاندہی بالا  تحقیقی مقالات میں کی گئی ہے۔

یہ تحریر مصنف کی رائہ پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ