کراچی: سٹریٹ کریمنلز کی نیلی، گھریلو ملازمین کی گلابی کتاب تیار

کراچی میں پولیس نے شہر کے پوش علاقوں میں گھروں میں ہونے والی ڈکیتیوں اور چوری کی وارداتوں میں ملوث گھریلو ملازمین اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا جامع ریکارڈ مرتب کر لیا ہے۔

پولیس اہلکار 14 نومبر 2012 کو کراچی کی ایک سڑک پر گشت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

کراچی میں پولیس نے شہر کے پوش علاقوں میں گھروں میں ہونے والی ڈکیتیوں اور چوری کی وارداتوں میں ملوث گھریلو ملازمین اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا جامع ریکارڈ مرتب کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حالیہ وارداتوں کے تناظر میں تیار کی گئی ان فہرستوں کو پنک بک اور بلیو بک کا نام دیا گیا ہے، جن میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو گھروں میں جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’گھریلو ملازمین پر مشتمل جرائم پیشہ گروہوں کی فہرست کو پنک بک کا نام دیا گیا ہے، جبکہ گھروں میں ڈکیتی اور سٹریٹ کرائم میں ملوث گینگز کا ریکارڈ بلیو بک میں شامل کیا گیا ہے۔‘

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق: ’پنک بک میں 154 خواتین گھریلو ملازمین، جن میں ماسیوں کے نام اور تصاویر شامل ہیں، کا ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے۔ یہ خواتین زیادہ تر ڈیفنس اور دیگر پوش علاقوں میں گھروں میں کام کے دوران وارداتوں میں ملوث پائی گئیں، جن میں سے متعدد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

’اسی طرح بلیو بک میں گھروں میں ڈکیتی اور لوٹ مار میں ملوث 270 مرد ملزمان کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو گھریلو وارداتوں کے علاوہ سٹریٹ کرائم کی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمین کے ذریعے ہونے والی وارداتوں کی نشاندہی کے بعد ایسے افراد کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔ ان افراد کے نام، تصاویر، شناختی کوائف، وارداتوں کی نوعیت اور متاثرہ علاقوں کی تفصیلات کو پنک بک اور بلیو بک میں شامل کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا گیا کہ مختلف تھانوں اور انویسٹیگیشن یونٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا یکجا کر کے تصدیق کے عمل سے گزارا گیا، تاکہ صرف ان افراد کو فہرست میں شامل کیا جائے جن کے خلاف ٹھوس شواہد یا مقدمات درج ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنک اور بلیو بک تیار کرنے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب شہر کے پوش علاقوں میں گھریلو وارداتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعدد ملزمان ملازم بن کر گھروں کا اعتماد حاصل کرتے اور بعد ازاں وارداتیں کرتے تھے۔

ان فہرستوں کے ذریعے نہ صرف ایسے عناصر کا ڈیٹا ایک جگہ جمع کیا گیا ہے بلکہ مستقبل میں جرائم کی روک تھام، تفتیش اور شہریوں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی

پولیس کے مطابق ان فہرستوں کی مدد سے گھروں میں لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، جبکہ شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملازمین رکھنے سے قبل احتیاط برتیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان