کراچی کے ضلع جنوبی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن میں حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ تین روز میں ضلعی انتظامیہ نے 460 دکانیں اور 100 سے زائد ہوٹلز سیل کر کے متعدد پتھارے اور ٹھیے ہٹا دیے ہیں۔
جبکہ چار افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق یہ کارروائی کمشنر کراچی کے احکامات پر عمل میں لائی جا رہی ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی میں 5 جنوری سے تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد یہ شہریوں کو فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر بغیر کسی مشکل کے آمد و رفت کر سکیں، جو طویل عرصے سے تجاوزات کے باعث متاثر ہو رہی تھی۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’کمشنر کراچی کے احکامات کے بعد ضلع ساؤتھ کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، جس کے دوران اب تک 46 دکانیں اور 100 سے زائد ہوٹلز سیل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ چار دکانداروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ صدر کے علاقے میں واقع اکبر مارکیٹ، آٹو سپیئر پارٹس کی مارکیٹ میں تقریبا 80 دکانیں سیل کروائی گئی ہیں کیونکہ آٹو سپیئر پارٹس کے دکانداروں نے ’غیر قانونی طور سے سڑک پر قابض ہو گئے تھے۔‘
ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ ’اس کارروائی کا بنیادی مقصد شہریوں کو پیدل چلنے کے لیے جگہ فراہم کرنا ہے، جو ان کا بنیادی حق ہے، جبکہ غیر قانونی پتھارے اور ٹھیے بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔‘
ضلعی انتظامیہ کے مطابق پیر کو ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ صرف وہی دکاندار اپنی دکانیں دوبارہ کھول سکیں گے جو تحریری حلف نامہ جمع کرائیں گے، جس میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عملدرآمد کی یقین دہانی شامل ہو گی۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ حلف نامے جمع کرانے والی دکانیں مرحلہ وار کھولی جائیں گی، تاہم ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دکان کو تین روز کے لیے دوبارہ سیل کر دیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی نے خبردار کیا کہ حلف نامے کے باوجود خلاف ورزی کی صورت میں گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی اور قانونی کارروائی کے تحت مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔
تاہم ضلع جنوبی کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کراچی کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں ضلع جنوبی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’یہ ضلع ثقافتی اور مالی طور پر انتہائی اہم ہے۔ بڑے کاروباری مراکز اور پورٹ قاسم کی کنیکٹیویٹی بھی اسی ضلع سے منسلک ہے، اسی لیے انتظامیہ چاہتی ہے کہ یہاں عوام کے لیے مزید بہتری لائی جا سکے۔‘
دوسری جانب، متاثرہ تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد نے انتظامیہ کے اقدام پر ملا جلا ردعمل دیا ہے۔ پان کے کھوکھے پر کاروبار کرنے والے شہزاد کا کہنا تھا کہ شہری انتظامیہ کا اقدام اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، تاہم چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے متبادل انتظامات بھی حکومت کی ذمہ داری ہیں۔
'ہم کہاں جائیں؟ اگر ٹھیے ہٹائے جا رہے ہیں تو ہمارے لیے کوئی جگہ مختص کی جائے۔‘
الیکٹرونکس کے کاروبار سے وابستہ حنیف سیہگل نے شکایت کی کہ دکان سیل کرنے سے قبل انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ ’اچانک دکان سیل ہونے سے میرا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اور روزانہ لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ حکومتی فیصلے اپنی جگہ، مگر تاجروں کے نقصانات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔‘
تاہم بعض دکانداروں اور شہریوں نے انتظامیہ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن بہت پہلے ہونا چاہیے تھا، کیونکہ فٹ پاتھوں پر اس حد تک قبضہ ہو چکا تھا کہ راہ گیروں کے لیے چلنے تک کی جگہ میسر نہیں تھی۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ شہر میں نظم و ضبط اور شہری سہولتوں کی بحالی ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔