|
تازہ ترین
|
جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — چوتھے دن کا احوال یہاں کلک کریں
رات 10 بج کر 45 منٹ: ہم ہر ایرانی ڈرون حملہ نہیں روک سکتے: امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو تسلیم کیا کہ ایران سے ہونے والے بعض فضائی حملے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔
پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکی فوج تیزی سے ایران کی فضائی حدود پر کنٹرول قائم کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہیگسیتھ نے ایرانی ڈرونز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ہر ممکن کاؤنٹر یو اے ایس سسٹم تعینات کر دیا ہے، کسی بھی لاگت یا صلاحیت کی پروا کیے بغیر۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جیسا کہ میں نے کہا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز روک سکتے ہیں۔‘
شام 07 بج کر 10 منٹ: فیصلہ کن، تباہ کن اور بغیر کسی رحم کے جیت رہے ہیں: امریکی وزیر دفاع
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو ایران سے جنگ کے حوالے سے کہا کہ امریکہ ’فیصلہ کن انداز میں، تباہ کن طریقے سے اور بغیر کسی رحم کے جیت رہا ہے۔‘
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ’میں آج آپ کے سامنے آپریشن ایپک فیوری کے بارے میں ایک واضح اور ناقابلِ تردید پیغام کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صدر کے براہ راست حکم پر محکمہ جنگ نے یہ آپریشن ہفتے کی صبح شروع کیا، صرف چار روز پہلے۔ مطلب، ہمیں دو چیزیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ کہ ہمیں ابھی صرف چار روز ہوئے ہیں، چیزیں بدل رہی ہیں، دھول بیٹھ رہی ہے مزید فورسز پہنچ رہی ہیں۔
’صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں جتنی ضرورت پڑے گی ہم وقت لیں گے تاکہ ہم یہ یقینی بنا سکیں کہ ہمیں کامیابی ہو۔‘
شام 05 بجے: ایران کی جوہری تنصیبات محفوظ، کسی تابکاری اخراج کا خطرہ نہیں: آئی اے ای اے
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (International Atomic Energy Agency) نے تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پر کہا ہے کہ ایران میں اُن تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جہاں جوہری مواد موجود ہے، اس لیے اس وقت کسی بھی قسم کے تابکاری اخراج کا خطرہ نہیں ہے۔
آئی اے ای اے کے مطابق، اصفہان (Isfahan) کے قریب واقع جوہری مقام پر دو عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے آثار ضرور نظر آئے ہیں، تاہم جوہری مواد محفوظ رہا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ نطنز (Natanz) میں اس سے قبل داخلی راستوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد کوئی اضافی اثرات ریکارڈ نہیں کیے گئے، جبکہ دیگر جوہری تنصیبات بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ (Bushehr Nuclear Power Plant) پر بھی کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
Based on analysis of latest available satellite imagery, IAEA sees no damage to facilities containing nuclear material in Iran and therefore no radiological release risk at this time. Near Isfahan nuclear site, damage is visible at two buildings. No additional impact detected at… pic.twitter.com/boUtjRTpAk
— IAEA - International Atomic Energy Agency (@iaeaorg) March 4, 2026
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی (Rafael Grossi) نے ایک بار پھر تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تابکاری حادثے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
دوپہر 4 بج کر 06 منٹ: آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ مؤخر: روئٹرز
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریب مؤخر کر دی گئی ہے، جب کہ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ایران کے سرکاری میڈیا پر یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں جنگی صورتحال برقرار ہے اور دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے کے وقت تہران میں موجود نہیں تھے جس میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کی اہلیہ، ایک اور بیٹے اور متعدد اعلیٰ فوجی و حکومتی شخصیات ہلاک ہوئیں۔
ایران نے کہا ہے کہ نیا سپریم لیڈر منتخب کرنے والی مجلسِ خبرگان جلد اپنے فیصلے کا اعلان کرے گی، جو 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد صرف دوسری بار ہو گا۔
مجلسِ خبرگان کے رکن آیت اللہ احمد خاتمی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امیدواروں کی نشاندہی ہو چکی ہے، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جو بھی نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا، اگر اس نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف پالیسی جاری رکھی تو وہ بھی نشانے پر ہو گا۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ نام یا مقام سے قطع نظر ایسا کوئی بھی رہنما ’خاتمے‘ کا ہدف ہو گا۔
دوپہر 2 بج کر 50 منٹ: پاکستان کی پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس، امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں پاکستان افغانستان صورت حال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ’شرکاء نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔
’شرکا نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا، انہیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں۔‘
اجلاس میں ملک سے ’دہشت گردی‘ کے خاتمے کے لیے مضبوط عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
دوپہر ایک بج کر 15 منٹ: ڈوبنے والے ایرانی جہاز کے 32 زخمی ملاحوں کو بچالیا گیا، سری لنکا
وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے کہا کہ سری لنکا نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں ڈوبنے والے ایرانی فریگیٹ IRIS Dena پر سوار 32 ’شدید زخمی‘ ملاحوں کو بدھ کو بچا لیا گیا ہے۔
وجیتھا ہیراتھ نے سری لنکن پارلیمنٹ کو بتایا کہ زخمی ملاحوں کو جزیرے کے جنوب میں واقع ایک ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
سری لنکا کی وزارت دفاع کے مطابق IRIS Dena کے دوسرے عملے کی تلاش جاری ہے۔
ہیراتھ نے کہا کہ سری لنکا کی بحریہ کے دو جہاز اور ایک طیارہ امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایرانی جنگی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ کیا تھی۔
ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن ہمیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ باقی عملے کے ساتھ کیا ہوا۔‘
ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ مزید زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے امکانات مدھم ہیں۔
دوپہر 12 بج کر 45 منٹ: نو پاکستانی ملاح اپنے جہاز سے بندر عباس منتقل: ایران میں پاکستانی سفیر
تہران میں پاکستانی سفیر مدثر نے بدھ کو بتایا ہے کہ گذشتہ شب نو پاکستانی ملاحوں کو ان کے جہاز سے بندر عباس منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی چھ نے اپنی مرضی سے جہاز پر رہنے کا فیصلہ کیا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ان میں سے کچھ سے فون پر ان کی خیریت کے بارے میں پوچھا۔ ’ہم آج انہیں پاکستان بھیج رہے ہیں۔ میں ان لوگوں کا بے حد شکر گزار ہوں، خاص طور پر کونسلر خالد تشفین اور شاہد کشمیری کا، جنہوں نے ہمیں سنگین چیلنجز کے درمیان لوگوں کی پاکستان منتقل کرنے میں مدد کی۔‘
دوپہر 12 بجے: سعودی عرب کی پاکستان کی ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کی یقین دہانی
سعودی عرب نے پاکستان کو آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ سے جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اسلام آباد نے ایک جہاز بھیج دیا ہے۔
پاکستان کی وزارت پیٹرولیم کے بدھ کو ایک بیان میں بتایا گیا کہ یہ انتظام اسلام آباد کی جانب سے سعودی عرب حکام کو لکھے گئے ایک خط کے نتیجے میں کیا گیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ ریاض نے پاکستان کی توانائی کی ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔
صبح 10 بج کر 45 منٹ: ابوظبی میں پاکستان کی قونصلر خدمات عارضی طور پر معطل
خطے کی حالیہ صورت حال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی میں پاکستانی سفارت خانے نے احتیاطی تدابیر کے تحت ذاتی طور پر قونصلر خدمات کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو ایکس پر جاری کیے گئے پیغام میں سفارت خانے کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ’خطے کی بدلتی صورت حال کی روشنی میں اور متحدہ عرب امارات کی منسٹری آف ہیومن ریسورسز اینڈ ایمریٹائزیشن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے پیش نظر‘ کیا گیا ’جس میں پرائیویٹ سیکٹر کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ملازمین کے کھلے علاقوں میں موجودگی کی ممانعت کی گئی ہے۔‘
سفارت خانے کے مطابق: ’پاکستانی شہریوں کے لیے تمام قونصلر خدمات آج سے اگلے نوٹس تک معطل رہیں گی۔‘
مزید کہا گیا کہ ’یہ عارضی اقدام پاکستانی کمیونٹی اور ساتھ ہی سفارت خانہ کے عملے کی حفاظت اور عافیت کو یقینی بنانے کے لیے لیا گیا ہے۔ قونصلر خدمات کی بحالی کے بارے میں مزید اپ ڈیٹس سفارت خانہ کے آفیشل چینلز کے ذریعے مقررہ وقت پر فراہم کی جائیں گی۔‘
صبح 10 بج کر 30 منٹ: ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کرے گی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی جلد از جلد نگرانی اور حفاظت شروع کرے گی۔
امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد سے ردعمل کے طور پر ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے۔
اس صورت حال میں ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا: ’میں نے امریکہ کی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ نہایت مناسب قیمت پر خلیج سے گزرنے والی تمام سمندری تجارت، خصوصاً توانائی کے مالی تحفظ کے لیے سیاسی رسک انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔ یہ سہولت تمام جہاز رانی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو ریاست ہائے متحدہ کی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی جلد از جلد نگرانی اور حفاظت شروع کرے گی۔ کسی بھی صورت میں، ریاست ہائے متحدہ دنیا کو توانائی کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے گا۔‘
بقول ٹرمپ: ’امریکہ کی معاشی اور فوجی طاقت دنیا میں سب سے عظیم ہے۔ مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔‘
صبح 10 بجے: مشرقی صوبے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا: سعودی وزارت دفاع
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بدھ کو بتایا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی صوبے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔
روئٹرز کے مطابق وزارت دفاع نے فوری طور پر ڈرون کے داغے جانے کا مقام یا اس واقعے سے کسی نقصان یا جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صبح 9 بجے: ایرانی حملے میں مرنے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت جاری
امریکی سینٹر کمانڈ نے ایرانی حملے میں مرنے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے، تاہم یہ ابھی تک نہیں بتایا کہ یہ اہلکار کیسے مارے گئے۔
It is with heavy hearts that we announce the deaths of four U.S. Army Reserve Soldiers supporting Operation Epic Fury on March 1st.
“We honor our fallen Heroes, who served fearlessly and selflessly in defense of our nation.” said Lt. Gen. Robert Harter, Chief of Army Reserve. pic.twitter.com/r4zBm3hfyt
— U.S. Army Reserve (@USArmyReserve) March 4, 2026
صبح 7 بجکر 45 منٹ پر: دوبئی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب ڈرون گرا
دبئی میڈیا آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی قونصلیٹ کے قریب ڈرون کے گرنے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ریسکیو ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
صبح ساڑھے 7 بجے: یو اے ای میں من گھڑت اور غیر معتبر اطلاعات پھیلانے پر پابندی
متحدہ عرب امارات کے سٹیٹ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ (ایس ایس ڈی) نے حساس سکیورٹی مقامات کی تصاویر بنانے اور غیر معتبر معلومات پھیلانے کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔
ایس ایس ڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’موجودہ حالات کے پیش نظر، حساس سکیورٹی مقامات کی تصاویر لینا یا انہیں شیئر کرنا، یا غیر معتبر یا من گھڑت معلومات پھیلانا قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ممنوع ہے۔‘
موجودہ حالات کے پیشِ نظر، حساس سکیورٹی مقامات کی تصاویر لینا یا انہیں شیئر کرنا، یا غیر معتبر یا من گھڑت معلومات پھیلانا قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ممنوع ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرنا مضبوط قومی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
— جهاز أمن الدولة (@ssd_gov_ae) March 3, 2026
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’ان ہدایات پر عمل کرنا مضبوط قومی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔‘
صبح 7 بجے: ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، ایران نے جوابی حملوں کا دائرہ کار بڑھا دیا
اسرائیل نے کہا کہ اس نے منگل کے روز ایرانی میزائل لانچروں اور ایک جوہری تحقیقی مرکز پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا اور ایندھن کی فراہمی اور سفر میں خلل ڈالا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارہ دیے جانے کے چار روز بعد کہ یہ جنگ کئی ہفتوں یا اس سے زیادہ جاری رہ سکتی ہے، ایران میں تقریباً 800 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ انہیں ملک کے ممکنہ مستقبل کے رہنماؤں کے طور پر زیرِ غور لا چکے تھے۔
منگل کو تہران کے علاوہ لبنان میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جہاں اسرائیل نے کہا کہ اس نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ اسی طرح سعودی عرب میں امریکی سفارت خانہ اور متحدہ عرب امارات میں امریکی قونصل خانہ بھی ڈرون حملوں کی زد میں آئے۔
ایران اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ چکا ہے، تاہم بیشتر حملے روک لیے گئے۔ اس جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل میں 11 اموات ہو چکی ہیں۔
دیگر پیش رفت میں، پینٹاگون نے کویت میں ایک کمانڈ سینٹر پر اتوار کو ہونے والے ڈرون حملے میں جان سے جانے والے امریکی ریزرو فوج کے چار اہلکاروں کی شناخت ظاہر کی۔ اس حملے میں دو دیگر فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔
جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ یہ کب اور کیسے ختم ہوگی۔
امریکی انتظامیہ نے مختلف اہداف بیان کیے ہیں، جن میں ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو ختم کرنا، اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اسے اتحادی مسلح گروہوں کی حمایت جاری رکھنے سے باز رکھنا شامل ہے۔
اگرچہ ابتدائی امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے چلے گئے تھے اور ٹرمپ نے ایرانیوں پر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے پر زور دیا تھا، تاہم بعد ازاں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی مقصد نہیں ہے۔
منگل کو ٹرمپ نے بظاہر اس امکان کو کم اہمیت دی کہ یہ جنگ ایران کی مذہبی حکمرانی کا خاتمہ کر دے گی، اور کہا کہ امریکی-اسرائیلی مہم کے اختتام پر اقتدار سنبھالنے کے لیے ایرانی نظام کے اندر سے کوئی شخص بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے جن لوگوں کو امریکہ زیرِ غور لا رہا تھا، وہ مر چکے ہیں۔
اوول آفس میں منگل کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی ان افراد میں شامل نہیں، جن پر ان کی انتظامیہ نے سنجیدگی سے غور کیا ہو۔
اندرونِ ایران ممکنہ رہنماؤں کے بارے میں انہوں نے کہا: ’جن لوگوں کو ہم ذہن میں رکھے ہوئے تھے وہ مر چکے ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا: ’بدترین صورتِ حال یہ ہو سکتی ہے کہ ہم یہ سب کریں اور پھر کوئی ایسا شخص اقتدار سنبھال لے جو پچھلے شخص جتنا ہی برا ہو، ٹھیک ہے؟ ایسا ہو سکتا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔‘
دوسری جانب ایران کے رہنما خامنہ ای کے متبادل کے لیے سرگرم ہیں، جنہوں نے 37 برس تک ملک پر حکمرانی کی۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ صرف دوسری بار ہے کہ نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ امیدواروں میں ایسے سخت گیر عناصر شامل ہیں جو مغرب کے ساتھ محاذ آرائی کے حامی ہیں اور ایسے اصلاح پسند بھی جو سفارتی روابط کے خواہاں ہیں۔
ایران سے آنے والی معلومات محدود رہی ہیں کیونکہ مواصلاتی نظام متاثر ہے، چوبیس گھنٹے فضائی حملے جاری ہیں اور صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ تاہم ایران کے دارالحکومت میں مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
شمالی تہران میں مقیم ایک انجینیئر علی آملی نے کہا: ’آدھی رات سے میں اور میری اہلیہ دھماکوں کی آوازیں سن رہے ہیں۔‘
کولوراڈو میں قائم کمپنی وینٹر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھایا گیا کہ تہران میں ایران کے صدارتی کمپلیکس کی گنبد نما چھت تباہ ہو چکی ہے، جو اسرائیل کے رات گئے کیے گئے حملے کے دعوے کی تائید کرتی ہے۔ ایران نے نقصان کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع دی۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ فوج نے ایرانی شہر قم میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں علما کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر غور کے لیے جمع ہونے کی توقع تھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج ابھی جائزہ لے رہی ہے کہ کوئی ہدف بنا یا نہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایران کے ان مقامات پر بھی فضائی حملے کیے جہاں بیلسٹک میزائل تیار اور ذخیرہ کیے جاتے ہیں، اور اس نے اس چیز کو تباہ کر دیا جسے اس نے ایران کا خفیہ زیرِ زمین جوہری ہیڈکوارٹر قرار دیا۔ بغیر شواہد فراہم کیے اس کا کہنا تھا کہ یہ مقام ’جوہری ہتھیاروں کے لیے ایک اہم جزو تیار کرنے‘ کی تحقیق کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اس مقام کے بارے میں جس کا اسرائیل نے نام لیا، امریکہ یا ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جون کے بعد سے یورینیم کی افزودگی نہیں کی، اگرچہ اس نے ایسا کرنے کے اپنے حق کو برقرار رکھا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
صبح 6 بجے: 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کیا، 2000 اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے منگل کو بتایا ہے کہ امریکی فوج نے 17 ایرانی جہازوں کو تباہ کر دیا ہے، جن میں ایک آبدوز بھی شامل ہے جبکہ ایران میں تقریباً 2,000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی مرکزی کمان کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایکس پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا: ’آج، خلیجِ عرب، آبنائے ہرمز یا خلیجِ عمان میں ایک بھی ایرانی جہاز زیرِ سفر نہیں ہے۔‘