ایران پر جاری امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی موت سے متعلق متضاد خبریں سامنے آئی ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ایلنا نے اتوار کو اطلاع دی کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد تہران میں ایک فضائی حملے میں جان سے چلے گئے ہیں۔
ایلنا نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 69 سالہ احمدی نژاد مشرقی تہران میں اپنی رہائش گاہ پر محافظ سمیت مارے گئے ہیں۔
تاہم ترک خبر رساں ادارے انادولو نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد زندہ اور محفوظ ہیں۔
انادولو کے مطابق احمد نژاد کے ایک مشیر نے کہا ہے کہ ’میں ان سے رابطے میں ہوں۔ سب ٹھیک ہے۔‘
محمود احمدی نژاد 2003 میں تہران کے میئر بننے سے قبل ایک غیر معروف شخصیت تھے اور خاص طور پر اس وقت معروف نہیں تھے جب انہوں نے 2005 کے صدارتی انتخابات میں دوسرے راؤنڈ کے رن آف ووٹ میں کامیابی حاصل کی۔
2005 کے انتخابات میں اس وقت کے صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی جیت کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن احمدی نژاد کی اکثریتی فتح نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔
احمدی نژاد نے مبینہ طور پر اس مہم پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا تھا، لیکن انہیں طاقتور قدامت پسندوں کی حمایت حاصل تھی جنہوں نے اپنی بنیادی طور پر محنت کش طبقے کے اجتماعات میں حمایت کو متحرک کرنے کے لیے مساجد کے نیٹ ورک کا استعمال کیا۔
انہیں نوجوان، دوسری نسل کے انقلابیوں کے ایک گروپ کی حمایت بھی حاصل تھی جنہیں آبادگاران، کے نام سے جانا جاتا تھا۔
2005 سے 2013 تک اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار کے دوران احمدی نژاد ابتدائی طور پر حکمران مذہبی رہنماؤں کے علاوہ پارلیمنٹ میں سخت گیر اور قدامت پسندوں کے پسندیدہ تھے۔
تاہم ان کی مدت کے اختتام پر ان کی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھتے گئے۔ ان کی جوہری پالیسیاں ایران کے خلاف متعدد پابندیوں کا باعث بنیں جس کے نتیجے میں ملک اقتصادی بحران کا شکار ہوا۔
احمدی نژاد بنیادی طور پر اپنے اسرائیل مخالف تبصروں کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کی زد میں بھی آئے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے دور صدارت کے دوران ایران اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی دھمکیوں اور ہولوکاسٹ سے انکار کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو گیا تھا۔
احمدی نژاد کے حامیوں نے تیزی سے ان سے منہ موڑ لیا تھا اور یہاں تک کہ سخت گیر حلقوں نے بھی ان کے عہدے کی مدت کے اختتام تک انہیں ایک متنازعہ شخصیت قرار دیا، حالانکہ ابتدا میں انہیں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے پسندیدہ شخصیت کے طور دیکھا جاتا تھا۔
احمدی نژاد نے اپنے ملک میں غربت، سماجی انصاف اور ایران کے اندر دولت کی تقسیم پر توجہ مرکوز کی اور امیر اور غریب کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے تیل کی رقم استعمال کرنے کا وعدہ کیا۔
اپنے انتخاب کے بعد احمدی نژاد نے ایران کے آزاد بینکنگ سیکٹر پر شرعی قانون لانے کے پروگرام کا آغاز کیا، جو پابندیوں بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔
بعدازاں ایرانی کی گارڈین کونسل نے احمدی نژاد کو 2017، 2021 اور 2024 کے صدارتی انتخابات سے باہر کر دیا تھا۔