کوئٹہ میں پیڑول کی قلت نہیں، ڈپٹی کمشنر کی وضاحت

کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں پٹرول کے حصول کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب سرکاری حکام صوبے میں پٹرول کی باقاعدہ قلت کی تردید کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر مہر اللہ بادینی کے مطابق صوبے میں پٹرول کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی قلت نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی ترسیل رکنے کے بعد بڑی تعداد میں صارفین نے مقامی پٹرول پمپوں کا رخ کیا، جس کے باعث رش میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی ایک بڑی آبادی ایرانی تیل استعمال کرتی ہے جبکہ کراچی سے آنے والی ریگولر سپلائی بدستور جاری ہے۔

مہر اللہ بادینی کے مطابق طلب میں اچانک اضافے کے باعث کراچی سے اضافی پٹرول منگوایا گیا ہے، تاہم اس کی ترسیل میں کچھ وقت درکار ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اضافی سپلائی پہنچنے کے بعد صورتحال معمول پر آ جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ بعض اوقات میڈیا پر قلت کی خبروں کے بعد لوگ ضرورت سے زیادہ پٹرول ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے مصنوعی قلت اور خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے۔

ادھر کوئٹہ کے ایک پٹرول پمپ مینیجر محمد عامر کے مطابق ایرانی پٹرول کی فراہمی رکنے کے بعد پمپوں پر صارفین کا رش نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، تاہم کراچی سے پٹرول کی سپلائی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران حکومت بلوچستان نے عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت کو ضابطے میں لانے کی کوشش کی تھی کیونکہ روزانہ لاکھوں لیٹر تیل ایران سے بلوچستان لایا جاتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد عامر کے بقول ایرانی تیل کی فراہمی اچانک رکنے کے بعد شہریوں نے بڑی تعداد میں پٹرول پمپوں کا رخ کیا، جس سے دباؤ میں اضافہ ہوا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں سکولوں اور دفاتر میں حاضری کم رہی، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی بلیک مارکیٹنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

شہر کے مضافاتی علاقوں میں پٹرول 500 روپے فی لیٹر تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ضلع مسلم باغ سے تعلق رکھنے والے محمد اسلم کا دعویٰ ہے کہ ان کے علاقے میں پٹرول کی قیمت 800 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ کوئٹہ کے رہائشی شامیر خان نے کہا کہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں گھنٹوں دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ایک اور شہری داور خان کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندانوں کے معمولات متاثر ہوئے ہیں اور بعض بچوں کو پٹرول نہ ہونے کے باعث سکول جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان