انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بدقسمتی کہ جمہوری ملک میں آئینِ ہند کے دائرے میں رہ کر حصول حقوق کے لیے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی گوکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت سے اس کی اُمید نہیں تھی۔
یعنی کشمیریوں کے لیے سارے راستے بند کردیے گئے ہیں۔
اس قوم کی یہ بدقسمتی کہ انڈیا کے لاکھوں طلبہ اور نوجوان گذشتہ تین ہفتوں سے پہلے ہی مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے خلاف جنتر منتر پر مورچہ زن ہیں اور اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ بن چکے ہیں۔ قومی میڈیا نے سرکاری بیانیہ چلانے میں اور کشمیری احتجاج کو نظر انداز کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
کشمیریوں کی یہ بھی بدقسمتی کہ گذشتہ انتخابات میں نیشنل کانفرنس (این سی) کو بھاری اکثریت سے جتانے کے باوجود وہ اپنے وعدے سے ہی پھر گئی۔ شدید عوامی دباؤ نے اسے خواب غفلت سے جگایا مگر اس پر ستم یہ کہ وہ اندرونی خودمختاری بحال کروانے کی جدوجہد کی بجائے ریاستی درجہ حاصل کرنے پر سمجھوتہ کر گئی اور بڑے طمطراق سے دہلی پہنچ کر چند بینر اٹھانے کی ہمت جتائی۔
ہمارا جرم یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کی جو چھوٹی بڑی دوسری پارٹیاں کل تک نیشنل کانفرنس کو حصول حقوق کی تحریک کو بھلانے کے طعنے دیتی آ رہی تھیں، وہ نہ دہلی گئے اور نہ کشمیر میں نظر آئے بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق این سی کی سرکار گرانے کے چکر میں میونسپلٹی کو قبول کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
اور ہم سخت سزا کے قصور وار اس لیے بھی ہیں کہ یہ قوم اس وقت تک اُف بھی نہیں کرتی جب تک اس کی زمین پیروں تلے سے کھسک نہیں جاتی-
پھر جب یہ قوم اٹھتی ہے تو مچھروں کی طرح کچل دی جاتی ہے اور اتنی پامال ہوتی ہے کہ خود اپنے اعمال کو غلط قرار دے کر اپنے حریف کو جتانے کا کریڈٹ دیتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ چند برسوں میں ہمیں نہ صرف فرقوں، عقیدوں، نسلوں، ذاتوں اور علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے بلکہ خاندانوں کے اندر بھی اس قدر پھوٹ ڈالی گئی ہے کہ بیٹے کو والد کا پتہ نہیں کہ وہ کس پارٹی کا طرف دار ہے، ماں اپنی بیٹی کی نقل و حمل سے اس قدر پریشان ہیں کہ وہ پوچھ نہیں پاتی کہ ادارے کا نام کیا ہے جہاں وہ ملازمت کرتی ہیں۔
ایسے حالات میں جب نیشنل کانفرنس کی لولی لنگڑی سرکار نے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تو میڈیا کا سرکاری بیانیہ ایک طرف، دوسری جانب ریاستی درجے کی بحالی کو پاکستانی ایجنڈا قرار دے کر جنتر منتر پر احتجاجی تحریک کی اہمیت کو زائل کرنا ایک مقصد کے تحت کروایا گیا، جس میں کشمیری پنڈتوں کی بعض انجمنوں کا کردار نمایاں تھا۔
اندرون کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں کی این سی کی احتجاجی تحریک کی مخالفت اور ہندوتوا کے جتھوں کے بیانات نے کشمیری آبادی کے اس خاموش طبقے کو شدید پریشان کردیا جو اپنا سب کچھ کھو کر گوشہ نشین ہوگئے ہیں اور بس تماشئہ اہل کرم دیکھتے ہیں کے مصداق اپنی بربادی کا جشن دیکھ رہے ہیں۔
جموں و کشمیر کی اسمبلی کے نصف سے زائد عوامی نمائندے دہلی پہنچے، احتجاج کرنے کی سعی کی، عمر عبداللہ نے آٹو رکشہ میں بیٹھ کر فوٹو کھنچوائی، فاروق عبداللہ نے سیکولر جذبات کا اظہار کیا، کانگریسی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے رہے، کچھ نعرے بھی سنے گئے مگر قومی میڈیا، مرکزی سرکار اور ’پلانٹڈ سول سوسائٹی‘ نے نظر انداز کرکے کشمیری قوم کو پھر یہ پیغام دیا کہ کشمیر کے معاملے میں ہم سنہ 47 سے متحد ہیں، اگر کوئی بکھر گیا ہے تو وہ تم ہو جس کو انتشار اور مسائل میں اتنا غرق کر دیا گیا ہے کہ صدیوں تک بھی تم اس بھنور سے نکل نہیں پاؤ گے۔
یہ وہی سول سوسائٹیز ہیں جو آج کل کشمیریوں کو مذہبی یگانگت، انتہا پسند سوچ کی روک تھام اور پر امن رہ کر سیاسی اور معاشی بے اختیاری کو قبول کرنے کے لیے بے شمار سیمینار کر رہی ہیں اور سرکاری خرچے پر ثقافتی میلے بھی لگاتی ہیں۔
کشمیری قوم کی بدقسمتی کہ وہ پھر اس در پر دستک دیتی ہے جہاں کئی بار اسے دھتکار دیا گیا ہے اور چند بے ضمیر، بددیانت اور بے وقار سیاست دانوں کے ہاتھوں میں ریموٹ کنٹرول دے کر ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
