وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد کی ٹیلیفونک گفتگو: حوثی حملوں کی شدید مذمت

شہباز شریف کا سعودی قیادت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کو علاقائی امن، عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان 20 مارچ 2025 کو جدہ کے السلام پیلس میں ہونے والی ملاقات کا ایک منظر (سعودی پریس ایجنسی)

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان اتوار کو ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں، بالخصوص شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔

حوثیوں نے اس ہفتے کے شروع میں سعودی عرب کے علاقوں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

 وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے اتوار کو جاری بیان کے مطابق نہایت گرمجوشی اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی گفتگو کے دوران وزیراعظم نے سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حوثیوں کی حالیہ کارروائیاں علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کا باعث بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ہمراہ کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے موجودہ بحران کے دوران دانشمندانہ اور دوراندیش قیادت پر سعودی ولی عہد کو خراج تحسین پیش کیا اور خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات اور دلی احترام کا اظہار بھی کیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی مسلسل اور ثابت قدم حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان