پاکستان نے منگل کو سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی اہداف پر یمنی حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
حوثیوں نے آج سعودی عرب کے شہر ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے، جن میں خواتین سمیت کم از کم 73 افراد زخمی ہو گئے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا یہ حملے ’پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور یمن کے تنازع کے پُرامن اور پائیدار حل کے حصول کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’پاکستان نے مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
’پاکستان نے حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان مملکتِ سعودی عرب کے اس جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقے کا دفاع، اپنے شہریوں اور رہائشیوں کا تحفظ اور اپنے قومی اثاثوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔‘
بیان میں کہا گیا ’پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے ماضی میں بھی تمام ممکنہ کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رکھے گا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ایک علیحدہ بیان میں ’حوثیوں کے بزدلانہ حملے‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s strongest condemnation and denunciation of the terrorist Houthi militia’s targeting of civilian and economic assets in Abha, Khamis Mushait, Jazan, and Najran, which resulted in the injury of seventy-three… pic.twitter.com/qZ8XpGX1Ea
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) September 8, 2026
ایکس پر ایک بیان میں شہباز شریف نے شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا ’اس طرح کے بزدلانہ اور قابلِ مذمت حملے نہ صرف بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘
پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا ’ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے سعودی پر حملے خطرناک اشتعال انگیزی کے مترادف ہیں اور اس جارحانہ طرز عمل کا ’سختی سے جواب‘ دیا جائے گا۔
حوثیوں کی طرف سے حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے حوثی ملیشیا کے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ’بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق اپنی سرزمین یا قومی اثاثوں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔‘
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) September 8, 2026
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا مملکت بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ملیشیا کے مسلسل حملوں اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کو لاحق خطرات کی بھی مذمت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مملکت اپنی خودمختاری کے دفاع، اپنے قومی اثاثوں کے تحفظ اور اپنے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے اپنے جائز حق پر زور دیتی ہے۔
’مملکت عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔‘
توانائی کی تنصیاب کو نشانہ بنایا گیا: سعودی وزارت توانائی
سعودی وزارتِ توانائی نے کہا کہ مملکت کے جنوبی علاقے میں توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق حملوں کے نتیجے میں بعض مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کچھ آپریشنز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
وزارتِ توانائی نے بتایا کہ متعلقہ حکام نے متاثرہ تنصیبات سے نمٹنے اور صورت حال پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے اور ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
#Statement | Energy Sector Facilities Targeted in Saudi Arabia's Southern Region. pic.twitter.com/olZoupwH48
— وزارة الطاقة (@MoEnergy_Saudi) September 8, 2026
اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے منگل کو کہا تھا کہ تازہ کشیدگی ’خطرناک‘ ہے، کیونکہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کے بے مقصد تازہ ترین حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ حوثی ملیشیا کی جانب سے اشتعال انگیزی مملکت، اس کے قومی اثاثوں، شہریوں اور اس کی سرزمین پر مقیم افراد کو نشانہ بنانے کی کوششیں خطرناک اشتعال انگیزی ہیں، جو اس ملیشیا کے دشمنانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تصدیق کرتی ہیں۔
میجر جنرل المالکی کا کہنا تھا کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے گئے یہ بلاجواز حملے جان بوجھ کر مملکت کے قومی وسائل، تنصیبات اور شہری مقامات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس کے ’انتہا پسندانہ مجرمانہ رویے کی تصدیق کرتے ہیں، جو یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میجر جنرل المالکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمانڈ اس ’دہشت گرد ملیشیا‘ کو روکنے اور اس کے جارحانہ طرزِ عمل کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گی، تاکہ مملکت کی خودمختاری، اس کے قومی اثاثوں کے تحفظ اور اس کے شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد خطرے کے ذرائع کا جواب دینے اور اس کے خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اور کارروائیاں بھی کرے گی۔
دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے بھی منگل کو سعودی عرب پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق حوثی میڈیا انصاراللہ نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ یمنی ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل پیر کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے مختلف محاذوں پر تازہ حملوں تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
ہانس گرونڈبرگ نے اس صورتحال کو ’انتہائی تشویش ناک‘ قرار دیا۔