یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ حکومت کی حمایت کرنے والے فوجی اتحاد نے منگل کو کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کے سعودی پر حملے خطرناک اشتعال انگیزی کے مترادف ہیں اور اس جارحانہ طرز عمل کا ’سختی سے جواب‘ دیا جائے گا۔
سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حوثیوں کی طرف سے حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ تازہ کشیدگی ’خطرناک‘ ہے، کیونکہ حوثیوں نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ اور اوپیک کے عملاً قائد سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) September 8, 2026
اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا کے بے مقصد تازہ ترین حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ حوثی ملیشیا کی جانب سے اشتعال انگیزی مملکت، اس کے قومی اثاثوں، شہریوں اور اس کی سرزمین پر مقیم افراد کو نشانہ بنانے کی کوششیں خطرناک اشتعال انگیزی ہیں، جو اس ملیشیا کے دشمنانہ اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تصدیق کرتی ہیں۔
میجر جنرل المالکی کا کہنا تھا کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی و تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے گئے یہ بلاجواز حملے جان بوجھ کر مملکت کے قومی وسائل، تنصیبات اور شہری مقامات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اس کے ’انتہا پسندانہ مجرمانہ رویے کی تصدیق کرتے ہیں، جو یمن اور اس کے عرب و اسلامی ہمسایہ ممالک میں امن و استحکام کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میجر جنرل المالکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمانڈ اس ’دہشت گرد ملیشیا‘ کو روکنے اور اس کے جارحانہ طرزِ عمل کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری عملی اقدامات کرے گی، تاکہ مملکت کی خودمختاری، اس کے قومی اثاثوں کے تحفظ اور اس کے شہریوں و مقیم افراد کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد خطرے کے ذرائع کا جواب دینے اور اس کے خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اور کارروائیاں بھی کرے گی۔
دوسری جانب ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے بھی منگل کو سعودی عرب پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق حوثی میڈیا انصاراللہ نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ یمنی ڈرونز اور میزائلوں سے سعودی عرب کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل پیر کو یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے مختلف محاذوں پر تازہ حملوں تنازع کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
ہانس گرونڈبرگ نے اس صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا۔