پاکستان کی وزارتِ توانائی نے پیر کی شب ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 12.90 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.72 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے درمیان خلیجی خطے میں شدید لڑائی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کیا گیا۔
وزارتِ توانائی کے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی نئی قیمت 358.77 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 381.77 روپے فی لیٹر میں فروخت ہوگئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 8 ستمبر، منگل سے ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا نظام 15 روز سے تبدیل کر کے ہفتہ وار کر دیا تھا۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث جولائی میں قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل شروع کر دیا گیا۔
ایران اور امریکہ کی جانب سے حال ہی میں ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس کے باعث خطے میں کشیدگی کا ماحول ہے اور اس کے تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات دیکھے گئے ہیں۔
ایران نے اہم سٹریٹیجک مقام آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے جب کہ واشنگٹن کی جانب سے بھی ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کموڈٹی بحری جہازوں کی تعداد کل سات رہی، جبکہ اس سے پچھلے دن یہ تعداد آٹھ تھی۔
گولڈمین سیکس نے بھی دسمبر 2026 اور 2027 کے لیے برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں کے تخمینوں میں اضافہ کر دیا، کیونکہ اس کا اندازہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں شپنگ میں رکاوٹیں اگلے سال تک برقرار رہیں گی۔
تاہم باب المندب آبنائے سے گزرنے والی ٹریفک میں اضافہ ہوا، جو کموڈٹی بحری جہازوں کے لیے ایک اور اہم آبی گزرگاہ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب برینٹ خام تیل کے سودے 79 سینٹ یعنی 0.82 فیصد اضافے کے ساتھ 97.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 80 سینٹ یعنی 0.87 فیصد اضافے کے ساتھ 92.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
گذشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.8 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔ امریکا اور ایران کی جانب سے دوبارہ حملوں کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کمی آئی، جہاں فروری میں تنازع شروع ہونے سے قبل دنیا کی پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی گزرتی تھی۔
خطے میں دوبارہ سے حملے شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھے جا رہے ہیں جب اس سب کے تناظر میں وزارت توانائی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی وزارت توانائی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ پٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت اوگرا نے 8 ستمبر 2026 کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں نظرثانی کی ہے۔‘
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں سمیت دو پہیہ گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔
دوسری جانب ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں استعمال ہونے کے علاوہ بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز کے لیے بھی بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔