پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بدھ کو کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے حوالے سے رابطے میں ہے اور اسے مثبت امید ہے کہ دونوں ممالک ’مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے‘۔
معمول کی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر، کے گذشتہ ماہ تہران کے دورے سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر ’نمایاں پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو تہران کا دورہ کیا تھا جس کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ اسلام آباد کی جانب سے امریکی، ایران تنازعے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے لیے جاری سفارتی کاوشوں کا حصہ تھا۔
پاکستان کا موقف ہے کہ اسلام آباد، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات ختم کرنے میں کی مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔
تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں ایک دوسرے پر حملوں میں غیر اعلانیہ تعطل کے بعد ایک بار پھر براہ راست فوجی جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، امریکی افواج نے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں تہران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق تازہ فضائی حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ریڈارز، بحری اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔
ایران نے بھی جوابی حملے کیے ہیں اور بحرین نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی فضائی حملہ ناکام بنا دیا۔ تہران نے خلیجی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
بحرین، جہاں امریکہ کا ایک اہم بحری اڈہ موجود ہے، نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے حملے کو روک دیا۔ بحرینی فوج نے ایک بیان میں ایران پر ’شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں‘ کا الزام عائد کیا۔
ایک ماہ سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد، ہفتے کے اختتام سے امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت آنا شروع ہوئی۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے ایک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے، تاہم تمام میزائلوں کو روک لیا گیا۔