پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے دورے نے صرف شکستوں کی تعداد نہیں بڑھائی بلکہ اس دورے کے اختتام سے قبل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سیٹ اپ میں بھونچال آ گیا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ کی شکست نے اس قدر مایوس کیا کہ بورڈ اپنی ہی روایات ہی بھول گیا۔ ماضی میں ہر دورے کے اختتام پر ٹیم کا اچھا برا محاسبہ ہوتا تھا لیکن موجودہ دورے کے خاتمے کا بھی انتظار نہیں کیا گیا۔ بہت سی تبدیلیاں کر کے شاید بورڈ توقع کر رہا ہے کہ شکستوں کا بوجھ ٹیم تک محدود رہے گا۔ لیکن شاید وہ بھول گیا کہ لوگ اب کرکٹ سے اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ اس بارے میں بات بھی نہیں کرتے۔
سات کھلاڑیوں، محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد کو وطن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ان میں سے پانچ کی جگہ ایسے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جنہوں نے ابھی تک پاکستان کی نمائندگی نہیں کی۔
بورڈ کے عجلت میں کیے گئے فیصلوں کے پیچھے کون ہے، یہ ابھی واضح نہیں، لیکن شکستیں کچھ بڑے لوگوں کا کیریئر ضرور ختم کر دیں گی۔
سیلیکٹرز کو نوٹس اور استعفوں کی بارش
لارڈز ٹیسٹ کے بعد پی سی بی میں صاحبانِ اختیار نے سلیکٹرز کو نوٹس دے دیا کہ وہ وضاحت کریں کہ امام الحق اور محمد رضوان کو کیوں منتخب کیا گیا، حالانکہ سلیکشن سے قبل ایسی کوئی ہدایت دی ہی نہیں گئی تھی، اور لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں لینے والے سی ای او کو ایک ماہ بعد معلوم ہوا کہ رضوان اور امام الحق کو ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے۔
اب سلیکٹرز سے منتخب کرنے کی وجہ پوچھی جا رہی ہے اور 24 گھنٹوں میں جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل نوٹس میں یہ واضح نہیں کہ کس کس کو یہ ’محبت نامہ‘ دیا گیا ہے۔ اب تک چونکہ سلیکشن کمیٹی میں مصباح الحق، اسد شفیق، سرفراز احمد اور عاقب جاوید شامل ہیں، لہٰذا یہ نوٹس بظاہر ان چاروں کو ہی ملنا چاہیے۔
اس نوٹس کے منظر عام پر آنے سے قبل ہی گذشتہ روز مصباح الحق مستعفی ہو گئے تھے جبکہ اسد شفیق نے بھی استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ تاہم عاقب جاوید نے ایک ٹی وی چینل پر کہا کہ ٹیم کی بری کارکردگی کے ذمہ دار کپتان بابر اعظم اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد ہیں، کیونکہ میچ کے لیے ٹیم کپتان اور ہیڈ کوچ بناتے ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے پر کوئی بات نہیں کی جبکہ سرفراز احمد منظر عام سے غائب ہیں۔
ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان کے سابق کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے رکن مصباح الحق نے ان تبدیلیوں پر مشاورت نہ کیے جانے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
مصباح الحق کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا: ’مصباح نے پیر کی شب ای میل کے ذریعے اپنا استعفیٰ پی سی بی کو بھیج دیا تھا، تاہم انہیں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔‘
پاکستان کے سابق کوچ مکی آرتھر نے برطانیہ سے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ صورتِ حال مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ درست قیادت، منصوبہ بندی اور مضبوط ڈھانچے کے ساتھ پاکستان کرکٹ کیا کچھ بن سکتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سرفراز احمد کو برطرف کرنے کا فیصلہ ’انتہائی توہین آمیز‘ تھا۔
کیا مصباح الحق معصوم ہیں؟
سوشل میڈیا پر مصباح الحق کے استعفے کے بعد ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ مصباح نے گذشتہ دو سال میں کون سا کارنامہ انجام دیا ہے۔
وہ 2024 میں مینٹور بنائے گئے تھے اور ذرائع کے مطابق 50 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے تھے، لیکن کرکٹ کی بہتری کے لیے بظاہر کوئی کام نہیں کیا۔ وہ قومی ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ بھی ہیں، لیکن اتنے عہدے رکھنے کے باوجود ایک کھلاڑی بھی نہیں تیار کر سکے۔ ان پر اب الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے محمد رضوان اور امام الحق کو دوسرے سلیکٹرز کی مخالفت کے باوجود شامل کیا تھا، جو یکسر ناکام رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مصباح نے مستعفی ہو کر خود کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ اتنی بھاری تنخواہ لینے پر مصباح الحق کا احتساب بہت ضروری ہے۔ مصباح اپنے کیریر کے خاتمے سے اب تک بورڈ سے منسلک ہیں اور کروڑوں روپے لے کر بھی ایک کھلاڑی تیار نہیں کر سکے۔
غلط فیصلے
پی سی بی نے بوکھلاہٹ میں ایسے فیصلے کیے ہیں جن پر دنیا ہنس رہی ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے کہ دورے کے دوران ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کو سبکدوش کر دیا گیا ہو اور وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کو ایک ٹیسٹ کے لیے کوچ مقرر کیا گیا ہو۔
اس سے زیادہ جگ ہنسائی اور کیا ہو گی کہ کچھ دن قبل سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ بناتے ہوئے ان کی شان میں ایسے قلابے ملائے گئے کہ ایسا لگا باب وولمر زندہ ہو گئے ہوں، لیکن اب انہیں جس توہین آمیز انداز میں نکالا گیا، اس کے بعد شاید ہی وہ پی سی بی میں نظر آئیں۔
ویسے وہ پی سی بی نہیں چھوڑیں گے کیونکہ وہ بھی مینٹور بن کر 50 لاکھ روپے ماہانہ لے رہے ہیں۔ ان کی جگہ مائیک ہیسن کو کوچ مقرر کیا گیا ہے، جن کے کریڈٹ پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی بھر پور ناکامی ہے اور ٹیم تنزلی کا شکار ہے۔
غلط انتخاب
دوسرا انتہائی غلط فیصلہ یہ کیا گیا کہ ٹیم سے سات کھلاڑیوں کو نکال دیا گیا اور پاکستان سے چھ کھلاڑی بھیج دیے گئے ہیں۔
جن سات کھلاڑیوں کو نکالا گیا، ان میں لیڈز ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا بھی شامل ہیں۔ ایک ٹیسٹ میں کپتان بنانا اور چند دن بعد ٹیم سے نکال دینا، ایسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ ٹیم کے سپنر علی عثمان، جنہوں نے لیڈز ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لی تھیں، وہ بھی فارغ کر دیے گئے، جبکہ چند ایسے کھلاڑی بھی شامل ہیں جنہیں کھیلنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔
دوسری جانب انگلینڈ پہنچنے والے کھلاڑیوں میں زیادہ تر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے کھلاڑی ہیں۔ چند تو بالکل نئے ہیں اور ابھی فرسٹ کلاس کرکٹ بھی نہیں کھیلے۔ رضا اللہ اور عمران جونیئر کا انتخاب حیران کن ہے۔
صائم ایوب، جو کئی دفعہ ٹیم سے باہر کیے گئے، ایک بار پھر ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی کون سی ایسی تہلکہ خیز کارکردگی ہے جس پر ان کا انتخاب ہوا ہے؟ ویسٹ انڈیز میں لیگ میں ایک عاد اننگ میں ہی وہ چل سکے ہیں جہاں سے انہیں طلب کیا گیا ہے۔ ان کھلاڑیوں کے انتخاب پر شاہد آفریدی نے بھی تنقید کی ہے اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
انہوں نے سرفراز کو ہیڈ کوچ بنانے پر بھی غصے کا اظہار کیا کہ وہ اچھے اور محنتی کھلاڑی رہے ہیں، لیکن ہیڈ کوچ بننا ان کے بس کی بات نہیں۔ انہیں پہلے انڈر 19 سے کوچنگ شروع کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے راہول ڈریوڈ کی مثال دی کہ اتنے بڑے کھلاڑی نے بھی جونیئر سطح سے کوچنگ کا آغاز کیا تھا۔
لڑنے کی طاقت غائب؟
لارڈز ٹیسٹ میں جس طرح ٹیم نے شرمناک کارکردگی دکھائی، اس پر تنقید کا ایک طوفان مچ گیا ہے۔ ہر ایک نے ٹیم سے لے کر بورڈ تک کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اب سلیکٹرز بھی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ عاقب جاوید نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ٹیم کو کمزور اور جنگ سے پہلے ہی شکست خوردہ قرار دیا۔ انہوں نے سکواڈ کے انتخاب کی ذمہ داری لی، لیکن شکست کی ذمہ داری ہیڈ کوچ اور کپتان پر ڈال دی۔
ٹیم کا مورال اس قدر گر گیا ہے کہ کھلاڑی کھیلنے سے بھاگ رہے ہیں۔ لیڈز ٹیسٹ میں چوٹ کا بہانہ کر کے بابر اعظم بظاہر فرار ہوئے تو لارڈز ٹیسٹ میں امام الحق نے خود کو زخمی دکھانے کی وہ ایکٹنگ کی کہ انگلش کمینٹیٹرز قہقہے لگا کر ہنستے رہے۔
لارڈز ٹیسٹ میں پچ سے دھوکہ کھا گئے، ورنہ بابر یہ ٹیسٹ بھی نہ کھیلتے۔
سابق سلیکٹر اور پاکستان کے سابق سپنر توصیف احمد نے ان تبدیلیوں کو ’غیر معمولی اور ناانصافی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ’پاکستان کرکٹ کا ماحول آلودہ ہو گیا ہے۔ اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’آپ اپنے سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔‘
پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی اور شعیب ملک نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی۔ شاہد آفریدی نے اے ایف پی کو بتایا: ’اپنے سینیئر کھلاڑیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔‘
انہوں نے کہا: ’سیریز کے دوران اس نوعیت کے بڑے فیصلے تشویش کا باعث ہیں۔‘
شعیب ملک نے کہا: ’سکواڈ سے نکالے گئے تمام کھلاڑی ہمارے قومی کرکٹر ہیں جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’احتساب کا عمل دورہ مکمل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، اس کے دوران نہیں۔‘
ان شرمناک شکستوں کے بعد بورڈ پر جو لعن طعن ہو رہی ہے، وہ شاید ارباب اختیار تک نہ پہنچے، کیونکہ بے حسی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، تو کرکٹ بورڈ کیوں پیچھے رہے۔ لیکن بورڈ اب ساری ذمہ داری بابر اعظم اینڈ کمپنی پر ڈال رہا ہے۔
لیکن بورڈ بھول گیا ہے کہ وہ ان سے زیادہ بے حس ہیں۔ بات بس اتنی سی ہے کہ شکستوں کا بوجھ کوئی اٹھانے کو تیار نہیں، لیکن کرکٹ کی آمدنی سے سب فیض یاب ہو رہے ہیں۔