پاکستان لارڈز ٹیسٹ کیوں ہارا؟

لیڈز ٹیسٹ ہارنے کے بعد لارڈز میں یادگار میچز کی بدولت موہوم سی امید تھی کہ شاید پرندے کچھ پرواز کرسکیں۔

پاکستانی کھلاڑی لارڈز میں 30 اگست 2026 کو ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد انگلش کھلاڑیوں سے ہاتھ ملا رہے ہیں (روئٹرز)

لارڈز سے پاکستان کرکٹ کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ کرکٹ کی جنم بھومی لارڈز میں کرکٹ کھیلنا اور دیکھنا ہر ایک کی آرزو ہوتی ہے  لیکن موقع کچھ کو ہی ملتا ہے۔

انگلینڈ کا دورہ پاکستان ٹیم کے لیے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کیوں کہ بالکل مختلف صورت حال میں بیٹنگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی زیادہ تر آسان اور سست پچز پر کھیلتے ہیں جس سے ان کی ٹائمنگ اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ انگلینڈ کی پچز پر اچھی طرح کھیل سکیں۔

ماضی میں ظہیر عباس، ماجد خان، عمران خان، جاوید میاں داد، یونس خان، محمد یوسف وغیرہ لارڈز میں اسی طرح کھیل چکے ہیں جیسے پاکستان میں کھیلتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سارے کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے جس سے وہ وہاں کی کنڈیشنز کو سمجھتے تھے۔

دور حاضر کے کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ نہ کھیلنا چاہتے ہیں اور نہ کاؤنٹی ان کو کھلانا چاہتی ہے۔ آج کے کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل کر صرف پیسہ بنانا چاہتے ہیں جس نے کرکٹ کا حسن دھندلا دیا ہے۔

لارڈز ٹیسٹ 

دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران جس قسم کے تبصرے سننے کو ملے اور تبصرہ نگاروں نے جس قسم کی باتیں کی ہیں، اس سے کرکٹ کی دنیا میں بھونچال آگیا ہے۔ 

بے ربط بولنگ اور معمولی درجے کی بیٹنگ نے ٹیم کو چوتھے درجے کی ٹیم بنا دیا ہے۔ لیڈز ٹیسٹ ہارنے کے بعد ٹیم پر سب کا ہی اعتماد ختم ہوچکا تھا لیکن لارڈز میں یادگار میچز کی بدولت موہوم سی امید تھی کہ شاید پرندے کچھ پرواز کرسکیں۔

ماضی میں پاکستان ٹیم نے لارڈز میں ہمیشہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔  1982 میں مدثر نذر کی بولنگ ہو یا محسن خان کی ڈبل سینچری ہو یا پھر 1992 اور 1996 میں وسیم اکرم کی آل راؤنڈ کارکردگی، ہر بار پاکستان فتح یاب ہوا۔ پھر 2016 میں یاسر شاہ اور 2018 میں محمد عباس کی بولنگ نے پاکستان کو عزت دلائی  لیکن وہ سب ماضی تھا۔

پاکستان ٹیم جس طرح شرمناک انداز میں شکست خوردہ ہوئی اس پر کھلاڑیوں کے سوا سب کے سر جھک گئے۔  بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ اور کوچنگ سب نے ناکامی کا منہ دیکھا۔

 بیٹنگ میں دوسری اننگز میں سعود شکیل نے جوانمردی سے 97 رنز بنائے مگر وہ کسی کام نہ آسکے۔  جب کہ ٹیم کے سب سے بہترین بلے باز بابر اعظم سمیت تمام بلے باز بے بسی کی تصویر بنے رہے۔  بولرز بھی پچ سے کوئی خاص مدد نہیں لے سکے۔ اگرچہ محمد عباس نے عمدہ بولنگ کی لیکن وہ بھی انگلش ٹیم کو اس طرح آؤٹ نہ کرسکے 

جیسے انگلش بولرز ہماری دھجیاں اڑا رہے تھے۔ 

امام الحق کی پراسرار چوٹ 

ٹیم کے اوپنر امام الحق جن پر پاؤں کی سوجن سے متعلق میڈیا سنگین الزام لگا رہا ہے کہ وہ پچ سے ڈر گئے اور بیٹنگ کے لیے نہیں آئے۔ ان پر سابق چیف سیلیکٹر نے بھی سوشل میڈیا پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ یہ سوجن ایسی سنگین نہیں تھی کہ آپ بیٹنگ نہ کرسکیں۔

پنڈلی کی سوجن بولرز کو تو تنگ کرتی ہے لیکن بلے باز کے لیے اتنی مشکل نہیں ہوتی اکثر بلے باز اس کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ امام الحق پر سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال نے بھی سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ مشکل صورت حال دیکھ کر بیٹنگ چھوڑ دیتے ہیں۔  بہرحال سچ کیا ہے یہ ٹیم کو معلوم ہوگا لیکن پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ 10کھلاڑیوں سے کھیلی یہ بھی شکست کی ایک وجہ ہے۔

عاقب جاوید کی پنکھا پچز

لارڈز ٹیسٹ کی شکست کے ایک ذمہ دار عاقب جاوید ہیں جنہوں نے جیت کا فارمولہ کھردری پچز بناکر دریافت کیا تھا اور اس پر لگے ہوئے دیوقامت پنکھوں کی وجہ سے وہ پنکھا پچ کے نام سے معروف ہوگئے۔

ان پچوں پر سست بولنگ کے باعث پاکستان انگلینڈ کو ہرانے میں کامیاب ہوگیا لیکن ٹیم کی بیٹنگ بھی تباہ ہوگئی۔ اب انہی بلے بازوں کو جب انگلینڈ میب تیز باؤنسی پچ ملی توبیٹ اٹھانے کا وقت بھی نہیں مل رہا تھا۔ سست پچوں کے موجد عاقب جاوید بھی پاکستان کی شکست کے ذمہ دار ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدترین بیٹنگ تکنیک

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے موجودہ تمام بلے بازوں کی تکنیک بہت خراب ہے۔  ان کے بیٹ اور جسم کی آپس میں کوئی ہم آاہنگی نہیں ہے جس سے اولی رابنسن اور جوفرا آرچر کی تیز گیندوں پر بیٹ دیر سے آتا ہے۔ یہی ایک کمزوری ہے جو ہر بلے بازکو لے ڈوبی۔ انگلیند کے میڈیانے تو اس ٹیم کو گذشتہ 50 سال کی کمزور ٹیم قرار دے دیا۔ 

نیا تنازع

میچ کے پہلے دن لنچ کے دوران سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو نے تہلکہ مچادیا۔ امکان پیدا ہو گیا کہ ان کے انٹرویوزنشر ہونے کے بعد پاکستان ٹیم میچ کابائیکاٹ کردے گی۔

شاید یہ احمقانہ فیصلہ ہوتا کیوں کہ سکائی ٹی وی سے انگلینڈ کرکٹ بورڈ یا آئی سی سی کا کوئی تعلق نہیں۔ پہلے دن کے اختتام پر جب کوچ سرفراز احمد پریس سے بات کرنے آئے تو ہر صحافی اس انٹرویو پر سوال کرنا چاہتا تھا شاید یہ تنازع بھی شکست کا کچھ سبب ہو لیکن اس انٹرویو پر پاکستان کرکٹ بورڈ یا ٹیم کا کوئی بھی ردعمل غیر دانش مندانہ ہوتا۔  

پاکستان کو شکست ہوگئی۔ اب اس کے جتنے بھی جوازڈھونڈے جائیں کم نہیں ہوں گے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ موجودہ ٹیم انتہائی ناکارہ اور غیر ذمہ دار ہے۔ ٹیم کے سب سے سینئیر کھلاڑی محمد رضوان جس طرح آؤٹ ہوئے اس سے ان کی غیر ذمہ داری ہی عیاں نہیں ہوتی بلکہ کھیل سے دلچسپی بھی مفقود نظر آتی ہے۔

انگلش کمنٹیٹر ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن نے مسلسل اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس ٹیم کے پاس ٹیلنٹ ہے اور نہ ذمہ داری ہے  بارش نے بہت مدد کی ورنہ یہ ٹیسٹ شاید دوسرے دن ہی اختتام پذیر ہوجاتا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ