انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس نے اتوار کو خبردار کیا کہ ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث خطرے سے دوچار ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر وکٹوں کی ضرورت ہے نہ کہ ایسی پچوں کی، جیسی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں دیکھنے کو ملی، جہاں انگلینڈ نے 115 رنز سے کامیابی حاصل کی۔
کرکٹ کے تاریخی میدان لارڈز میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ صرف 166 مکمل اوورز میں ختم ہو گیا، جو یہاں کھیلے گئے 150 ٹیسٹ میچوں میں دوسرا مختصر ترین ٹیسٹ تھا۔
دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر صرف 617 رنز بنائے۔ بلے بازوں کے لیے اس انتہائی مشکل اور غیر متوقع پچ پر ہر 25 گیندوں کے بعد ایک وکٹ گری۔
بی بی سی کے مطابق انگلینڈ میں 1907 کے بعد یہ سب سے کم اوسط تھی۔ 40 آؤٹ ہونے والے بلے بازوں میں سے 24 یا تو بولڈ ہوئے یا ایل بی ڈبلیو قرار پائے جو انگلینڈ میں کسی بھی ٹیسٹ میچ کا ایک ریکارڈ ہے۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سٹوکس نے، جو ٹیسٹ کرکٹ کے بڑے حامیوں میں شمار ہوتے ہیں، کہا کہ اس قسم کا میچ ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے اچھا تاثر نہیں چھوڑتا جسے بہت سے لوگ زوال پذیر سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’مجھ سے اکثر ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اسے مزید ترقی دینے اور مستقبل میں مضبوط رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔‘
اپنی طویل گفتگو کے اختتام پر انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’ایک ایسے شخص کے طور پر جو ٹیسٹ کرکٹ سے محبت کرتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورتحال ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔‘
اگرچہ میچ چوتھے دن تک پہنچا لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تیسرے دن کا تقریباً پورا کھیل بارش کی نذر ہو گیا تھا۔
سٹوکس نے کہا ’اگر آپ کے پاس پہلے دن کا ٹکٹ تھا تو یقیناً آپ نے خوب لطف اٹھایا ہوگا۔ ہر طرف وکٹیں گر رہی تھیں، گیندیں بے قابو ہو رہی تھیں کیونکہ بلے بازوں نے محسوس کیا کہ رنز بنانے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’لیکن دوسری جانب اگر بارش نہ ہوتی تو میچ بہت جلد ختم ہو جاتا۔ کیا ہم واقعی یہی چاہتے ہیں؟
’میرا خیال ہے کہ ہمیں دونوں انتہاؤں کے درمیان کوئی متوازن راستہ تلاش کرنا چاہیے۔‘
تاہم سٹوکس نے اپنی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے انتہائی مشکل پچ کے مطابق خود کو ڈھالا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صورتحال یہ تھی کہ کئی بلے باز آؤٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم واپس جاتے ہوئے ہنس رہے تھے کیونکہ انہیں خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گیند کس طرح حرکت کر رہی ہے اور ان کی فٹ ورک میں کیا خرابی رہ گئی۔
خود سٹوکس بھی دوسری اننگز میں صرف تین گیندیں کھیل کر صفر پر آؤٹ ہوئے۔ نیتھن سمتھ کی ایک گیند اندر آتی ہوئی اچانک سیدھی ہوئی اور آف سٹمپ کے اوپری حصے سے ٹکرا گئی۔
آؤٹ ہونے کے بعد سٹوکس کو مایوسی سے سر ہلاتے دیکھا گیا۔ ’اس سے ہماری کارکردگی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ ہم یہاں آئے، ہم نے انہی حالات کے مطابق کرکٹ کھیلی اور اسی انداز نے ہمیں کامیابی دلائی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ممکن ہے اگلے ہفتے ہم میدان میں آئیں اور حالات بالکل مختلف ہوں، تب ہمیں مختلف حکمت عملی اپنانا ہو گی۔‘
اس مؤقف کی حمایت نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتھم نے بھی کی، جن کی ٹیم 17 جون سے اوول میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ کا سامنا کرے گی۔
لیتھم نے کہا ’میرے خیال میں ضروری ہے کہ ہم اس میچ میں زیادہ نہ الجھیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اوول میں حالات یہاں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوں گے۔‘