جب میں 2009 میں فیس بک سے منسلک ہوئی تو میرا یقین بانی مارک زکربرگ کے اس مشن پر تھا کہ دنیا بھر کے لوگوں کو آپس میں جوڑا جائے اور انہیں بااختیار بنایا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوا۔
فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا اب زیادہ سے زیادہ صارفین کی توجہ اور مصروفیت حاصل کرنے پر مرکوز ہے، جس کے نتیجے میں ایسے پلیٹ فارم وجود میں آئے ہیں جو صارفین کو عادی بناتے، مشتعل کرتے، غلط معلومات پھیلاتے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف تقسیم کرتے ہیں۔
میں نے 15 سال تک فیس بک میں کام کیا اور بعد میں ایک 'وسل بلوئر' بن گئی۔ میں ان کمروں میں موجود تھی جہاں ذہین افراد نے ایسی خصوصیات تیار کیں اور ان کی مارکیٹنگ کی جو لوگوں کو مجبوری کے تحت بار بار استعمال پر آمادہ کرتی ہیں، جیسے 'انفینیٹ سکرول'، 'آٹو پلے' اور الگورتھم پر مبنی فیڈز۔ یہ ڈیزائن جان بوجھ کر بنائے گئے تھے اور ان کا بنیادی مقصد ہر چیز سے بڑھ کر منافع میں اضافہ تھا۔
خوش قسمتی سے دنیا اب سوشل میڈیا کے نقصانات، خصوصاً نوجوانوں پر اس کے اثرات، کو سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔ جولائی کے آغاز میں ایک آزاد پینل نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ یورپی یونین بچوں کو آن لائن کس طرح محفوظ بنا سکتی ہے۔ موسم گرما کے بعد اس سلسلے میں قانون سازی کی ایک تجویز متوقع ہے۔
اگرچہ یورپی یونین کے کئی ممالک سوشل میڈیا پر عمر کی عمومی پابندی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن رپورٹ کا مؤقف ہے کہ نقصان دہ اور زہریلی ڈیزائن خصوصیات پر براہ راست پابندی لگائی جائے۔ یہ حکمت عملی سائنسی اتفاقِ رائے اور عوامی رائے دونوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔
اگر حکومتیں واقعی بچوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں تو انہیں سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ ثابت کرنے کا پابند بنانا ہوگا کہ ان کی مصنوعات محفوظ ہیں، بالکل اسی طرح جیسے خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں اور گاڑیوں کے مینوفیکچررز کے لیے لازم ہے۔ تب ہی انہیں نوجوانوں کی مارکیٹ تک رسائی دی جانی چاہیے۔
عمومی عمر کی پابندی کا طریقہ کار یہ فرض کرتا ہے کہ نشہ آور سوشل میڈیا ایک ناگزیر حقیقت ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ برسوں کی کارپوریٹ لابنگ اور حکومتوں کی ضابطہ بندی سے گریز کا نتیجہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ طریقہ مؤثر بھی نہیں۔ آسٹریلیا نے دنیا میں پہلی مرتبہ کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی متعارف کرائی، جب اس نے گذشتہ دسمبر 16 سال سے کم عمر صارفین کو اکاؤنٹ رکھنے سے روک دیا۔ مگر مارچ میں ای سیفٹی کمشنر کی تعمیل رپورٹ میں نفاذ کے بڑے خلا سامنے آئے اور سائبر بُلیئنگ یا تصاویر کے ذریعے ہونے والے استحصال کی شکایات میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی۔ اپریل میں بھی 12 سے 15 سال عمر کے نصف سے زیادہ بچوں کے اکاؤنٹس فعال تھے۔
اسی وجہ سے آسٹریلیا نے ان زہریلی خصوصیات کو نشانہ بنانا بھی شروع کر دیا ہے جن کے بارے میں ثابت ہو چکا ہے کہ وہ بچوں کی صحت اور فلاح و بہبود کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اسی طرح کینیڈا، سپین، برازیل اور جرمنی بھی اس بات کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات محفوظ انداز میں ڈیزائن کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
مزید حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ان ڈیزائن خصوصیات پر پابندی عائد کرنے پر توجہ دیں جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، اور اس کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سخت اور آزاد فریق کی جانب سے تصدیق شدہ سکیورٹی معیارات کا پابند بنائیں۔ 170 سے زیادہ تنظیمیں اس 'سیفٹی بائی ڈیزائن' نقطۂ نظر کے حق میں ایک درخواست پر دستخط کر چکی ہیں۔
برطانیہ کی فلاحی تنظیموں نے بھی رہنما اصول جاری کیے ہیں کہ یہ معیارات کس شکل میں ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس موقف کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ پانچ یورپی ممالک میں کیے گئے ایک حالیہ سروے میں تین چوتھائی بالغ افراد نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کے لیے 'سیف بائی ڈیزائن' طریقہ کار چاہتے ہیں، جس کے تحت بچوں کو اس وقت تک پلیٹ فارم تک رسائی نہ دی جائے جب تک اس کی حفاظت ثابت نہ ہو جائے۔
یہ بحث عدالتوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ فروری میں یورپی کمیشن نے ٹک ٹاک کو خبردار کیا کہ وہ اپنی نشہ آور ڈیزائن خصوصیات تبدیل کرے، ورنہ اسے اپنی آمدنی کے چھ فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کے ایک ابتدائی فیصلے میں کہا گیا کہ میٹا نے انفینیٹ سکرول اور صارف کی توجہ کو مسلسل گرفتار رکھنے والی خصوصیات سے پیدا ہونے والے نشے کے خطرات کا درست اندازہ نہیں لگایا، جس کے باعث کمپنی ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی۔ امریکہ میں چار ریاستیں میٹا سے 1.4 ٹریلین ڈالر کے جرمانوں کا مطالبہ کر رہی ہیں کیونکہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو نوجوان صارفین کے لیے نشہ آور بنانے کے ارادے سے ڈیزائن کیا۔
'انٹرآپریبلٹی' ایک اور اہم اصلاح ہے جس کے لیے جدوجہد ہونی چاہیے۔ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک دوسرے کے ساتھ ڈیٹا شیئر کریں تو صارفین اپنا سوشل نیٹ ورک کھوئے بغیر زیادہ محفوظ متبادل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح وہ کسی ایسے پلیٹ فارم میں پھنس کر نہیں رہیں گے جسے مثال کے طور پر کوئی انتہا پسند دائیں بازو کا ارب پتی خرید لے اور اسے انتہا پسندی کے گڑھ میں تبدیل کر دے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بالآخر تمام اصلاحات کا انحصار مضبوط نفاذی نظام پر ہوتا ہے۔ حکومتوں نے رضاکارانہ وعدوں اور آسٹریلیا جیسے قوانین کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منظم کرنے کی کوشش کی ہے، جن میں خلاف ورزیوں پر جرمانے بھی شامل ہیں۔ لیکن دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنیاں ممکن ہے ان جرمانوں کو کاروباری لاگت سمجھ کر برداشت کر لیں۔ اس لیے نتائج اتنے سخت ہونے چاہییں کہ انہیں صرف ایک اضافی خرچ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جا سکے۔
یورپ، جس کا عالمی ضابطہ جاتی ماحول کی تشکیل میں ایک نمایاں کردار رہا ہے، اب اس پوزیشن میں ہے کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر اور بامعنی حفاظتی اصول وضع کر کے دنیا کی قیادت کرے۔ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ارسولا وان ڈیر لائن، جو ماہرین کے انتباہات کے باوجود تقریباً ایک سال تک عمومی عمر کی پابندی کی حامی رہی تھیں، اب ایک نئی سمت کا اشارہ دے چکی ہیں۔
آزاد پینل کی حتمی رپورٹ کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'یورپ میں اصول یہ ہی ہے کہ تحفظ کو ڈیزائن کا حصہ بنایا جائے۔' اور اگرچہ رپورٹ عمر کی کچھ پابندیوں کی سفارش کرتی ہے، مگر انہیں عارضی قرار دیتی ہے، جب تک کہ نشہ آور اور نقصان دہ خصوصیات کو دوبارہ ڈیزائن نہ کر لیا جائے۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کی حفاظت ثابت کرنے کی ذمہ داری ریگولیٹرز کے بجائے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ہونی چاہیے۔
یورپی یونین کے پاس 'سیفٹی بائی ڈیزائن' نقطۂ نظر کے حوالے سے پہلے ہی ایک مضبوط بنیاد موجود ہے۔ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ اس کے لیے قانونی بنیاد اور عملی مثال فراہم کرتا ہے۔ خصوصی پینل نے اس قانون کے تحت ٹک ٹاک کے خلاف اس کی نشہ آور خصوصیات پر حالیہ کارروائی کا حوالہ دیا، جبکہ سنیپ چیٹ، ایکس/گروک اور میٹا کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔
سیاسی ماحول میں اس تبدیلی کے بعد یورپی یونین کو اب 'سیفٹی بائی ڈیزائن' کے اصول کو قانون کا حصہ بنانا چاہیے اور اسے ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے واحد قابلِ عمل حل تسلیم کرنا چاہیے جو ان نقصانات کو نظرانداز کرتے ہوئے بنائے گئے تھے جو وہ صارفین کو پہنچاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال کے آخر میں متوقع 'ڈیجیٹل فیئرنیس ایکٹ' میں اس فریم ورک کو مزید وسعت دی جائے، نہ کہ صرف موجودہ قوانین میں معمولی ردوبدل کیا جائے۔
اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے انفینیٹ سکرول، صارفین کی مصروفیت بڑھانے کے لیے بنائے گئے ڈیفالٹ فیچرز اور مسلسل آنے والی پش نوٹیفکیشنز ختم کر دی جائیں تو وہ نوجوانوں کے لیے کہیں زیادہ محفوظ بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس عمر کی پابندی پلیٹ فارم کو خود تبدیل نہیں کرتی بلکہ صرف اس کے نقصان دہ اثرات کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کرتی ہے۔ 'سیفٹی بائی ڈیزائن' طریقہ کار بچوں اور نوعمر افراد کو ایک ایسے ثابت شدہ نقصان دہ مصنوعے سے بچا سکتا ہے اور مارکیٹ میں ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جن میں زیادہ محفوظ پلیٹ فارم بھی مسابقت کر سکیں۔
یورپی یونین اپنے رکن ممالک میں آنے والی بیشتر مصنوعات کے لیے قانونی طور پر محفوظ ہونے کی شرط عائد کرتی ہے۔ سوشل میڈیا کو اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔
کیلی سٹون لیک، میٹا کی سابق ایگزیکٹو اور بعد ازاں 'وسل بلوئر'، بچوں کی آن لائن سکیورٹی کی سرگرم حامی ہیں۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔