ایپل نے نئی ایپل واچز متعارف کرائی ہیں جن میں ایک ایسا فیچر شامل ہے جس کا مقصد لوگوں کو اپنی پوری زندگی کے اہم لمحات کے نوٹس رکھنے میں مدد دینا ہے۔
نئی ایپل واچ سیریز 12 اور الٹرا 4 رواں ہفتے آئی فون ڈوو کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان گھڑیوں کو بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں سے ایک نئے فیچرز کا مجموعہ ’آڈیو انٹیلیجنس‘ ہے۔
ان فیچرز کا مقصد گھڑی میں موجود سینسرز اور ایپل کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے گھڑی پہننے والے کے اردگرد کی دنیا کے ساتھ زیادہ ذہانت سے تعامل کرنا ہے۔
ان میں سے بعض فیچرز کا استعمال نسبتاً آسان ہے، مثلاً ایک ایسا ٹول جو ممکنہ طور پر اہم آوازوں، جیسے بچے کے رونے یا شیشہ ٹوٹنے کی آواز، پر نظر رکھے گا اور گھڑی کے مالک کو خبردار کرے گا۔
اسی طرح شزام کی طرح ہر وقت فعال رہنے والا ایک فیچر لوگوں کو اردگرد بجنے والی موسیقی کو فوری طور پر شناخت کرنے کی سہولت دے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تاہم دیگر فیچرز قدرے پیچیدہ ہیں اور ان پر تنازع بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ ان میں ’لائیو ریوائنڈ‘ اور ’سِری ریکیپ‘ نامی دو فیچرز شامل ہیں، جو دونوں گھڑی کے مائیکروفون کے ذریعے مسلسل آڈیو حاصل کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔
’لائیو ریوائنڈ‘ کا مطلب ہے کہ گھڑی مسلسل آڈیو محفوظ کرتی رہے گی تاکہ اگر آپ کسی کی بات سننے سے رہ جائیں، مثلاً تیز بولنے والے ویٹر کے بتائے گئے مینیو کی کوئی تفصیل یا کسی اجلاس میں بتائی گئی کوئی تکنیکی بات تو آپ گھڑی پر بٹن دبا کر گذشتہ 15 سیکنڈ کے دوران سنی گئی آواز کی تحریری شکل دیکھ سکیں۔
’سِری ریکیپ‘ بھی مسلسل آڈیو سنتا ہے اور پھر اسے تحریری شکل میں منتقل کر کے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس کا خلاصہ تیار کرتا ہے۔
یوں یہ دن بھر ہونے والی اہم گفتگو کے مختصر نوٹس پیش کرتا ہے، جنہیں بعد میں دوبارہ دیکھا یا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
ایپل کی ویب سائٹ کے مطابق ’سِری ریکیپ آپ کے دن بھر ہونے والی گفتگو کے نوٹس پسِ منظر میں تیار کرتا ہے اور ایپل انٹیلیجنس کی مدد سے اعلیٰ سطح کے خلاصے بناتا ہے، جنہیں آپ بعد میں اپنی یادداشت تازہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں تاکہ آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔
’اگر آپ انہیں محفوظ نہ کریں تو آپ کے خلاصے سات دن بعد خود بخود حذف ہو جاتے ہیں۔‘
دونوں فیچرز کے حوالے سے ایپل نے زور دیا ہے کہ انہیں رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جو کمپنی کے طویل عرصے سے جاری اور واضح مؤقف کے مطابق ہے۔
اس مقصد کے لیے ’آڈیو انٹیلیجنس‘ کے فیچرز میں متعدد تکنیکی اور ڈیزائن کے حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
مثلاً ’لائیو ریوائنڈ‘ کسی بھی وقت صرف 15 سیکنڈ کی آڈیو محفوظ کرتا ہے اور اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو یہ آڈیو مستقل طور پر حذف ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی شخص اس فیچر کو استعمال کرنے کا انتخاب کرے تو گھڑی ایک بلند آواز پیدا کرتی ہے جسے بند نہیں کیا جا سکتا تاکہ اردگرد موجود لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کی کہی ہوئی بات گھڑی کی سکرین پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اسی طرح ’سِری ریکیپ‘ کو استعمال کرنے کے لیے صارف کو باقاعدہ طور پر اس کی اجازت دینا ہوگی۔ اسے کسی بھی وقت بند کیا جا سکتا ہے اور اس طرح بھی سیٹ کیا جا سکتا ہے کہ یہ صرف مخصوص اوقات میں فعال ہو، مثلاً جب گھڑی کا مالک دفتر میں ہو۔
فعال ہونے کی صورت میں تمام آڈیو نجی رکھی جاتی ہے۔ اسے گھڑی کے ایک مخصوص محفوظ حصے میں محفوظ کیا جاتا ہے جس تک ایپل سمیت کوئی بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد اسے آئی فون کے اسی طرح محفوظ حصے میں منتقل کیا جاتا ہے اور پھر ایپل کے نجی اور محفوظ مصنوعی ذہانت کے سرورز کے ذریعے اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس عمل میں کوئی ریکارڈنگ تیار نہیں کی جاتی اور نہ ہی مکمل تحریری متن محفوظ کیا جاتا ہے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ خود ان خلاصوں کو بھی اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی رازداری برقرار رہے۔ ٹول کی جانب سے فراہم کیے جانے والے نوٹس عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان میں مخصوص تفصیلات شامل نہیں ہوتیں۔
ان میں کسی بات کو کسی مخصوص شخص سے منسوب نہیں کیا جاتا اور حساس مواد، جیسے توہین آمیز گفتگو یا مالی معلومات، کو بھی شامل نہیں کیا جاتا۔
اس کے باوجود یہ فیچر پہلے ہی تنازع کا باعث بن چکا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کسی ایسے شخص سے گفتگو کرنے والا فرد، جس نے یہ فیچر فعال کر رکھا ہو، اس کی گفتگو کا خلاصہ اس کی لاعلمی میں تیار کیا جا سکتا ہے۔
ایپل کی ویب سائٹ پر موجود معاونتی دستاویزات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اس امکان سے آگاہ ہے کہ یہ فیچر لوگوں کے باہمی تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، اگرچہ کمپنی نے زور دیا ہے کہ سنائی دینے والی آڈیو اور اس سے تیار ہونے والی تحریری معلومات نجی رہیں گی۔
ایپل کی ویب سائٹ پر ’آڈیو انٹیلیجنس‘ کے نئے فیچرز سے متعلق ایک دستاویز میں خبردار کیا گیا ہے، ’اپنے اردگرد موجود لوگوں کا خیال رکھیں۔ اگرچہ آڈیو ریکارڈ یا محفوظ نہیں کی جاتی اور کسی گفتگو کو کسی شخص سے منسوب نہیں کیا جاتا، تاہم ان لوگوں کا خیال رکھیں جو آپ کے آس پاس موجود ہیں، خاص طور پر جب گفتگو نجی یا حساس نوعیت کی ہو۔‘
ایپل کی معاونتی دستاویزات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’لائیو ریوائنڈ‘ اور ’سِری ریکیپ‘ فیچرز رواں سال کے آخر میں ’بیٹا‘ ورژن میں دستیاب ہوں گے، جس کا مطلب ہے کہ عام صارفین کے لیے مکمل طور پر جاری کیے جانے سے قبل ان میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
’آڈیو انٹیلیجنس‘ کے فیچرز ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایپل آئی فون کو ایک ’ذہین ذاتی مرکز‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو ایپل واچ سمیت دیگر ڈیوائسز سے معلومات حاصل کرکے انہیں یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹیو جان ٹرنس نے کمپنی کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی پہلی تقریب کا آغاز آئی فون کو مصنوعی ذہانت کے دور میں ایک ذاتی اے آئی ڈیوائس کے طور پر پیش کرتے ہوئے کیا۔
ان کا یہ مؤقف بظاہر اوپن اے آئی سمیت ان کمپنیوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا جو اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی ’آئی فون کلر‘ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ٹرنس نے تقریب کی ویڈیو میں کہا کہ جو کوئی بھی ایسی ڈیوائس ابتدا سے بنانے کی کوشش کرے گا، غالباً اس میں بیرونی دنیا کو سمجھنے کے لیے کیمروں اور مائیکروفون جیسے سینسرز، اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے طاقتور پروسیسر اور حاصل ہونے والی معلومات دکھانے کے لیے ایک ڈسپلے شامل کرے گا یعنی ایسی ڈیوائس جو حیرت انگیز طور پر آئی فون ہی سے مشابہ ہوگی۔
یہ بات مصنوعی ذہانت کے فیچرز سے بھرپور دنیا میں آئی فون کے حوالے سے ان کے وژن کا اظہار بھی تھی اور ان کمپنیوں کے لیے پیغام بھی جو اپنی نئی مصنوعات کے ذریعے آئی فون کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
متعدد سٹارٹ اپس نے ایسی ڈیوائسز کے مختلف ورژن متعارف کرائے ہیں، مثلاً گلے میں پہنے جانے والے پینڈنٹس، جو ڈیٹا حاصل کرکے اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیے کے لیے محفوظ کرتے ہیں تاکہ بعد میں اس کا جائزہ لیا جا سکے۔
دیگر بڑی کمپنیوں کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، جن میں اوپن اے آئی بھی شامل ہے، جس کے ساتھ ایپل اس وقت ایک قانونی تنازع میں الجھا ہوا ہے۔
ان تمام مصنوعات کا مقصد اپنے صارفین کی زندگی سے متعلق ڈیٹا حاصل کرنا، اسے محفوظ کرنا اور پھر مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ لوگوں کو اہم معلومات دوبارہ یاد کرنے یا تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔
تاہم دیگر تمام مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی طرح یہ مصنوعات بھی اس وقت زیادہ کارآمد ہوتی ہیں جب انہیں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا دستیاب ہو۔
ڈیٹا کی یہ ضرورت پہلے ہی اس تشویش کا باعث بن چکی ہے کہ لوگوں کو ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
ایپل کے نئے ’آڈیو انٹیلیجنس‘ فیچرز ایسے وقت میں بھی سامنے آئے ہیں جب اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ لوگوں کی جانب سے اپنے ڈیٹا کے جمع کیے جانے کی اجازت کس حد تک اور کس طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر میٹا نے اپنے سمارٹ گلاسز کو جزوی طور پر اس انداز میں پیش کیا کہ ان میں موجود کیمروں کو استعمال کرکے سوالات کیے جا سکتے ہیں یا اردگرد کی دنیا کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
تاہم ان گلاسز کو اس تنقید کے باعث بھی شہرت ملی کہ ان کے ذریعے لوگوں کو ان کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ یا ان کی تصاویر بنانا آسان ہو جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایپل بھی ایسی ہی مصنوعات پر کام کر رہا ہے، جن میں بلٹ ان کیمروں والے ایئرپوڈز اور مستقبل میں اپنے سمارٹ گلاسز شامل ہیں۔
میٹا کے سمارٹ گلاسز پر ہونے والے تنازعے نے پہلے ہی ایپل کے اندر یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ کمپنی اپنے سمارٹ گلاسز اس طرح کیسے متعارف کرا سکتی ہے کہ لوگوں کی رازداری متاثر ہونے کے خدشات سے بچا جا سکے۔
© The Independent