رپورٹس کے مطابق ایپل ایک نئی مصنوعی ذہانت کے آلے پر کام کر رہا ہے جس میں متعدد کیمرے، مائیکروفون اور ایک سپیکر شامل ہوں گے، لیکن اس میں کوئی سکرین نہیں ہو گی۔
اے آئی پِن، جس کی پہلی خبر دی انفارمیشن نے دی، ایپل کے ایئر ٹیگ ٹریکرز کے برابر سائز کی ہو گی اور اسے جسم پر پہننے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ ایک پتلا، چپٹا، گول ڈسک نما آلہ ہوگا جس کا خول ایلومینیم اور شیشے سے تیار کیا جائے گا۔
اس میں ایک فزیکل بٹن بھی ہو گا اور یہ ایپل واچ کی طرح وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی پر کام کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایپل اس آلے کو اگلے سال جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور ابتدائی مرحلے میں 2 کروڑ یونٹس تیار کرنے کا ارادہ ہے۔
ایپل پہلی کمپنی نہیں ہو گی جو اے آئی ویئرایبل متعارف کرائے گی۔
امریکی سٹارٹ اپ ہیومین نے 2024 میں ایک پہننے کے قابل، آواز سے چلنے والا اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرایا تھا۔
ایپل کے دو سابق ملازمین کے ڈیزائن کردہ ہیومین کی 700 ڈالر کی یہ اے آئی پِن سست رفتاری، کم فیچرز اور زیادہ گرم ہو کر بند ہو جانے کی شکایات کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی۔
یہ پروڈکٹ اب نہ فروخت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ ہیومین نے بالآخر اپنے زیادہ تر اثاثے ایچ پی کو فروخت کر دیے۔
اے آئی ویئرایبل کے بارے میں یہ خبریں ایپل کے گذشتہ ہفتے ایک اعلان میں سامنے آئیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ اس کی مصنوعی ذہانت کی خصوصیات، بشمول نئے انداز کی سری، گوگل کے جیمنائی ماڈل سے چلائی جائیں گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں ٹیک کمپنیوں کے مشترکہ بیان کے مطابق یہ کئی سالوں پر مشتمل شراکت ایپل صارفین کے لیے ’نئے اور جدید تجربات‘ پیدا کرے گی۔
چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی بھی ایک اے آئی ڈیوائس تیار کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے اس نے گذشتہ سال ایک ہارڈ ویئر سٹارٹ اپ حاصل کیا تھا جس کی سربراہی ایپل کے سابق ڈیزائنر جانی آئیو کر رہے تھے۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کا دعویٰ ہے کہ یہ ’دنیا کی اب تک کی سب سے زبردست ٹیکنالوجی‘ ہو گی، اگرچہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
آلٹمین نے مبینہ طور پر گذشتہ سال ایک اندرونی کال میں کہا تھا کہ ’یہ آلہ صارف کے اردگرد کے ماحول اور اس کی زندگی سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکے گا، نظر نہ آنے کے برابر ہوگا اور جیب یا میز پر آسانی سے رکھا جا سکے گا۔‘
یہ کمپنی کی پہلی فزیکل پروڈکٹ ہوگی اور توقع ہے کہ 2026 میں کسی وقت متعارف کرائی جائے گی۔
© The Independent