برفانی تودوں سے گھرا آرکٹیک کا خطہ دنیا کے قطب شمالی میں واقع ہے، جس میں روس، امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ یعنی ڈنمارک، آئس لینڈ، فن لینڈ، سوئیڈن اور ناروے شامل ہیں۔
امریکہ کی طویل مدتی دفاعی اور معاشی پالیسی میں آرکٹیک اہم ہے کیونکہ اس خطے میں امریکہ اور روس دونوں آمنے سامنے ہیں، باقی جو قیمتی معدنیات و تیل کے ذخائر ہیں وہ الگ۔
ہم سمجھ گئے کہ ٹرمپ کو گرین لینڈ کا قبضہ کیوں چاہیے۔ اس معاملے پر فی الحال امریکہ اور یورپ بالخصوص سکینڈینیوین ممالک میں ضد چل رہی ہے۔
ٹرمپ کے امریکہ کو یورپ سے اور بھی بڑے گلے شکوے ہیں۔
روس یوکرین جنگ
یورپ یوکرین کی جنگ میں روس کو شکست خوردہ دیکھنا چاہتا ہے، لیکن وہ بھی اپنے نہیں امریکہ کے بل بوتے پہ۔
یورپ کی ٹھنڈی ٹھار دفاعی پالیسی وہ نکتہ ہے جس پہ امریکہ گاہے بگاہے یورپ کی کلاس لیتا ہے۔
ویسے یوکرین جنگ کے نام پہ یورپ کو بھڑ کے چھتے میں دھکیلنے والا بھی امریکہ ہی ہے، لیکن اب امریکہ یوکرین سے معدنیات کی شکل میں وصولی کے موڈ میں ہے جبکہ یورپ والے یوکرینی پناہ گزینوں کا خرچہ اٹھا رہے ہیں۔
اسرائیل کی حمایت
یورپ اور امریکہ کی عالمی سیاست میں ایک لائن نہ پکڑنے کی ایک اور وجہ اسرائیل کا معاملہ ہے۔ امریکہ غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی پہ اسرائیل کی لامحدود حمایت کرتا ہے۔
اگرچہ خود کو ملحقہ رکھنے کی خاطر کئی یورپی ممالک ایک کے بعد ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، لیکن یورپ کا اس معاملے میں کوئی براہ راست کردار ہے، نہ ہی ٹرمپ یورپ کو شامل کرتا ہے۔
تارکین وطن مخالف پالیسی
ٹرمپ ٹیم امریکہ میں تارکین وطن کا مکمل صفایا پھیرنے پہ تلی ہے، جہاں بدنام زمانہ آئس فورس چن چن کر تارکین وطن کو دن دیہاڑے گرفتار کر رہی ہے۔
یورپ تارکین وطن کے خلاف ابھی ایسی کسی بے باک مہم جوئی کے لیے تیار نہیں۔
اس سے قبل ایلون مسک اور ٹرمپ کی ٹیم نے امریکہ اور برطانیہ سمیت پورے یورپ میں مہم چلائی تھی کہ تارکین وطن مقامی سفید فام نسل کی لڑکیوں کے ریپ میں ملوث ہیں۔
یورپی سوشل میڈیا تک یہ بات تو آئی لیکن اس نعرے کو یورپ میں امریکہ جیسی حکومتی سرپرستی نہیں ملی۔
دائیں بازو کی سیاست
امریکہ میں دائیں بازو کی سیاست کو دوام مل گیا ہے اور نسل پرستی کی ایک ہوا چلی ہوئی ہے۔
اگرچہ یورپ میں بھی دائیں بازو کے سفید نسل پرست گروپوں کو سیاسی نمائندگی ملی ہے لیکن دائیں بازو کے سیاسی مطالبات من و عن نہیں مانے جاتے۔
موسمیاتی تبدیلی کی سیاست
کوئی 15، 10 برسوں سے موسمیاتی تبدیلی، گرین انرجی، گرین پاور، گرین پالیسی، کاربن فٹ پرنٹ وغیرہ وغیرہ یورپ کے معاشی ایجنڈے میں سب سے اوپر ہیں۔
ادھر ٹرمپ اور ان کی کیپٹلسٹ ٹیم موسمیاتی تبدیلی کی پوری مہم کو بوگس قرار دیتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ اینڈ کمپنی انڈسٹری، کاروبار، جنگوں اور پاور پلے میں یورپ کی موسمیاتی پالیسیوں کو مذاق میں اڑاتے نظر آتی ہے۔
جنسی آزادی کی سیاست
ایسے ہی جنسی آزادی، ہم جنس پرستی، جنس کی تبدیلی اور کسی بھی جنس سے آزادی کا معاملہ ہے۔
امریکہ دنیا میں جنسی آزادی کا علم بردار ہوا کرتا تھا لیکن ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی اعلان کیا کہ امریکہ میں فقط دو جنس ہوں گی مرد یا عورت۔
ٹرمپ انتظامیہ اور یورپ اس معاملے پہ بھی ایک صفحے پہ نہیں۔
یورپ میں اب بھی جنس کا موضوع حساس ہے اور یورپی حکومتیں فی الحال ٹرانس جینڈر برادری کے حق میں ہیں۔
جمہوریت کا سوال
یورپین جمہوریت کو بطور سیاسی نظام بڑا آئیڈلائز کرتے ہیں۔
امریکہ فی الحال جمہوریت کے بھیس میں آمریت کی جس ڈگر پہ چل نکلا ہے لگتا ہے جلد ہی یورپ کو جمہوری نظام کے طعنے بھی مل سکتے ہیں۔
صحافتی آزادی
جمہوریت کی طرح صحافتی آزادی بھی ٹرمپ کے امریکہ میں آہستہ آہستہ محدود ہو رہی ہے۔
پروپیگنڈا، جعلی خبریں اور مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں آزاد میڈیا کو خاصا دباؤ میں لیا جا چکا ہے۔
یورپ میں میڈیا بنیادی طور پہ آزاد ہے جس میں اسرائیل-فلسطین سمیت بہت سے معاملات میں ملی جلی لائن پکڑنے کا رجحان ہے ۔
معاشی کھینچا تانی اور چین
یورپ اور امریکہ میں دراڑ کا ایک رخ معاشی کھنیچا تانی ہے۔ ہر دوسرے، تیسرے دن کسی بھی معاملے پر ٹرمپ کا بیان آ جاتا ہے کہ فلاں ضد پوری نہ کی تو درآمدات و برآمدات پر ٹیرف لگا دوں گا۔
یورپ اسے بلیک میلنگ کہتا ہے اور اب یکے بعد دیگرے یورپی ملک چین کی جانب بھی بطور پلان بی رخ کر رہے ہیں۔ اگرچہ چین کو مشترکہ دشمن سمجھنے کا رجحان اب بھی موجود ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ یورپ اپنے وجود اور اپنی بقا کے لیے فکر مند ہے۔
یہاں تک کہ دنیا میں خوش حالی کے عالمی پیمانوں میں ٹاپ پر آنے والے سکینڈنیوین ممالک بھی کسی اَن دیکھے دشمن کے لیے خود کو تیار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔