صدر ولادی میر پوتن اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کریملن نے بتایا ہے کہ یوکرینی، امریکی اور روسی حکام آج (جمعے کو) متحدہ عرب امارات میں ملاقات کریں گے۔
یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے، تاہم جنگ کے بعد کے تصفیے میں علاقائی حدود سے متعلق تنازعے پر ماسکو اور کیئف کے درمیان اب بھی اختلاف برقرار ہے۔
کریملن کے بیان کے مطابق سٹیو وٹکوف کی قیادت میں امریکی مذاکرات کاروں نے جمعے کو علی الصبح تک ماسکو میں روسی صدر سے بات چیت کی۔
کریملن کے سفارتی مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی گفتگو ’ہر لحاظ سے مفید‘ رہی۔
سٹیو وٹکوف اور امریکی ٹیم اس کے بعد ابوظبی روانہ ہو گی، جہاں مذاکرات کے جاری رہنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یوری اوشاکوف کے مطابق روسی وفد، جس کی قیادت روس کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی جی آر یو کے سربراہ جنرل ایگور کوستیوکوف کریں گے، بھی ’آنے والے چند گھنٹوں میں‘ وہاں پہنچے گا۔
انہوں نے مزید کہا: ’یہ طے پایا ہے کہ سلامتی سے متعلق سہ فریقی ورکنگ گروپ کی پہلی نشست آج ابوظبی میں ہوگی۔‘
متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بات چیت کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا روسی اور یوکرینی حکام آمنے سامنے ملاقات کریں گے یا نہیں۔
یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا: ’ہم حقیقی طور پر (اس تنازعے کو) سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’جب تک ایسا نہیں ہوتا، روس میدانِ جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرتا رہے گا۔‘
جمعرات کو یوکرینی صدر وولودی میر زیلینسکی نے کہا کہ معاہدہ کا ایک مسودہ ’تقریباً، تقریباً تیار‘ ہے اور یہ کہ انہوں نے اور ٹرمپ نے جنگ کے بعد کی سلامتی ضمانتوں کے مسئلے پر اتفاق کر لیا ہے۔