امریکہ، ایران اور اسرائیل کے تصادم میں انڈیا کہاں کھڑا ہے؟

ایران کے اسرائیل اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اس لیے وہ جنگ کے دوران سفارتی کشمکش سے دوچار ہے۔

7 مارچ 2026 کو تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کے مقام سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں (اے ایف پی)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا جیوپولیٹیکل منظرنامہ ہے جس کے اثرات دنیا کے ہر خطے تک پہنچ رہے ہیں۔

اس بحران نے عالمی طاقتوں کو نئے سفارتی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ انہی طاقتوں میں ایک اہم نام انڈیا کا ہے، جو بیک وقت امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں انڈیا کی پوزیشن نہ تو مکمل غیر جانبداری ہے اور نہ ہی کھلی صف بندی، بلکہ ایک پیچیدہ توازن کی کوشش ہے۔

انڈیا کی خارجہ پالیسی گذشتہ دو دہائیوں میں جس اصول کے گرد گھومتی رہی ہے اسے عموماً ’ڈی ہائفنیشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت نئی دہلی نے مختلف باہم متصادم ممالک کے ساتھ تعلقات کو الگ الگ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی، تاکہ ایک تعلق دوسرے تعلق پر حاوی نہ ہو۔ اس پالیسی کے تحت انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی تعاون بڑھایا، جبکہ ایران کے ساتھ توانائی اور علاقائی تجارت کے روابط برقرار رکھے۔ مگر امریکہ، ایران اور اسرائیل کے موجودہ تصادم نے اس توازن کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

حالیہ بحران کے دوران انڈیا نے سرکاری طور پر محتاط زبان استعمال کی ہے۔ نئی دہلی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل کی بات کی ہے۔ اس محتاط بیان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عنصر خلیج میں انڈیا کے معاشی اور انسانی مفادات ہیں۔

اندازہ ہے کہ تقریباً ایک کروڑ انڈین شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں اور خطے کی معیشت سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے خطے میں کسی بڑے تصادم کا مطلب صرف جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ انڈیا کے لیے اقتصادی اور سماجی بحران بھی ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

توانائی کا مسئلہ بھی انڈیا کی پالیسی کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انڈیا دنیا کے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کی بڑی مقدار خلیجی خطے سے آتی ہے۔ ایران اور خلیج میں کسی بھی جنگ کا سب سے فوری اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کو اپنی توانائی پالیسی میں فوری تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ اسی تناظر میں انڈیا نے حالیہ کشیدگی کے دوران اپنے تیل کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش شروع کی ہے تاکہ خلیج پر انحصار کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب اسرائیل کے ساتھ انڈیا کے تعلقات گذشتہ دہائی میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ دفاعی تعاون، سائبر سکیورٹی، زرعی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط قائم ہو چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل I2U2 نامی تعاون کا ایک فریم ورک بھی وجود میں آ چکا ہے، جو اقتصادی اور سٹریٹجک تعاون کو بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس تعاون نے خطے میں انڈیا کو ایک ایسے بلاک کا حصہ بنا دیا ہے جو بالواسطہ طور پر ایران کے جیوپولیٹیکل اثر کو محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

لیکن اسی کے ساتھ ایران بھی انڈیا کے لیے ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ چاہے وہ چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ ہو یا وسطی ایشیا تک رسائی کا خواب، ایران انڈیا کے لیے ایک اہم جغرافیائی دروازہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی مکمل طور پر کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریز کرتی رہی ہے۔ حالیہ بحران کے دوران بھی انڈیا نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، کیونکہ خطے کے کسی بھی ممکنہ سیاسی منظرنامے میں ایران کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا انڈیا کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

اس کے باوجود بعض مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا کی پالیسی میں بتدریج جھکاؤ نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون، اسرائیل کے ساتھ تکنیکی اتحاد اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی شراکت داری نے انڈیا کو ایک ایسے جیوپولیٹیکل دائرے کے قریب کر دیا ہے جسے بعض تجزیہ کار ’انڈو ابراہیمی اتحاد‘ یا ’انڈو ابراہیمی بلاک‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے جیو اکنامک نظام کو فروغ دینا ہے جو امریکہ کے وسیع تر انڈو پیسیفک وژن سے ہم آہنگ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین انڈیا کی موجودہ پالیسی کو مکمل غیر جانبداری کے بجائے ’سٹریٹجک خاموشی‘ قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف انڈیا نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف براہ راست تنقید سے گریز کیا، دوسری طرف اس نے ایران کی کھلی حمایت بھی نہیں کی۔ اس طرزِ عمل کو بعض حلقے حقیقت پسندی کہتے ہیں، جبکہ کچھ اسے اصولی موقف سے انحراف سمجھتے ہیں۔

انڈیا کے لیے ایک اور اہم مسئلہ خلیج میں موجود اس کی بڑی تارکینِ وطن آبادی ہے۔ جنگ کے دوران ہزاروں انڈین شہری ایران اور اسرائیل میں پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے حکومت کو خصوصی انخلائی کارروائیاں بھی کرنی پڑیں۔ اس طرح کے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ انڈیا کی پالیسی کا ایک اہم پہلو انسانی سلامتی بھی ہے۔

اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو انڈیا اس بحران میں تین سطحوں پر توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پہلی سطح توانائی اور معاشی مفادات کی ہے، جس میں خلیج کے ساتھ مستحکم تعلقات ضروری ہیں۔ دوسری سطح سٹریٹجک اتحاد کی ہے، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ جبکہ تیسری سطح علاقائی سفارت کاری کی ہے، جس میں ایران کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے طاقت کے بدلتے ہوئے دھاروں پر کھڑی رہی ہے۔ آج اگر انڈیا امریکہ اور اسرائیل کے قریب دکھائی دیتا ہے تو کل اسے ایران کے ساتھ بھی کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی اکثر واضح موقف کے بجائے محتاط سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ انڈیا کس فریق کے ساتھ کھڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی دیر تک اس توازن کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی نظام کو ایک نئے دور کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ایسے میں انڈیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات، جیوپولیٹیکل اتحادوں اور تاریخی تعلقات کے درمیان ایک ایسا راستہ تلاش کرے جو اسے کسی ایک محاذ کا مستقل حصہ بننے سے بچا سکے۔

اگر مجموعی تصویر کو دیکھا جائے تو امریکہ، ایران اور اسرائیل کے تنازع میں انڈیا کی پوزیشن کسی واضح اتحاد کی نہیں بلکہ محتاط توازن کی ہے۔ نئی دہلی ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سٹریٹجک اور دفاعی روابط کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور جغرافیائی مفادات کو مکمل طور پر قربان بھی نہیں کر سکتا۔ توانائی کی ضروریات، خلیج میں موجود انڈین تارکینِ وطن، اور وسطی ایشیا تک رسائی جیسے عوامل انڈیا کو کسی ایک فریق کے ساتھ کھلے طور پر کھڑا ہونے سے روکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی موجودہ حکمت عملی عملی حقیقت پسندی پر مبنی ہے، جس میں کھلی صف بندی کے بجائے سفارتی احتیاط اور مفادات کا توازن نمایاں ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں اگر کشیدگی مزید گہری ہوتی ہے تو یہ توازن برقرار رکھنا نئی دہلی کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا، کیونکہ عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے دھارے اکثر درمیانی راستوں کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہنے دیتے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سنٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا