ایران جنگ: پاکستانی ماہی گیر کی ڈورن ملبہ گرنے سے موت

ایران جنگ کے دوران پاکستان کی حدود میں یہ پہلے شہری کی موت ہے جب کہ متحدہ عرب امارات میں بھی دو پاکستانی شہری ڈرون اور میزائلوں کے حملوں کے دوران جانوں سے گئے تھے۔

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران بلوچستان کے ساحلی قصبے جیونی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ماہی گیر طیب بلوچ ڈرون کے ملبے کے ٹکڑے لگنے سے جان سے گئے (صحافی جاوید شئے)

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران بلوچستان کے ساحلی قصبے جیونی کے علاقے گنز سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ماہی گیر طیب بلوچ ایران اور پاکستان کی سمندری حدود میں ڈرون کے ملبے کے ٹکڑے لگنے سے جان سے گئے۔

28  فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے کی صورت حال تاحال کشیدہ ہے۔ ایران جنگ کے دوران ملکی حدود میں یہ پہلے پاکستانی شہری کی موت ہے جب کہ متحدہ عرب امارات میں بھی دو پاکستانی شہری ڈرون اور میزائلوں کے حملوں کے دوران جانوں سے گئے تھے۔

ایس ایچ او صدر تھانہ جیونی یاسر بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طیب ولد محمد حسن اپنے ساتھی کے ساتھ مچھلی پکڑنے کے لیے کلانی ندی کے قریب سمندری علاقے فیضک میں گئے تھے۔

اسی دوران ایک ڈرون (جس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ایرانی ڈرون تھا یا امریکی یا اسرائیلی) کا ملبہ ان کی کشتی پر گر گیا، جس کے نتیجے میں طیب شدید زخمی ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی محفوظ رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشتی میں موجود ساتھی نے طیب کو زخمی حالت میں ساحل پر پہنچایا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ بعد ازاں طیب کی میت یونین کونسل گنز منتقل کی گئی، جہاں ضروری کارروائی کے بعد ان کی تدفین کر دی گئی۔

مقامی صحافی جاوید شئے نے بتایا کہ واقعہ ایرانی حدود کے قریب سمندری علاقے فیضک میں پیش آیا، جہاں ایرانی فورسز نے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔

جاوید شئے کے مطابق طیب بلوچ کا خاندان ماہی گیری سے وابستہ تھا۔ ان کے والدین حیات ہیں لیکن وہ خود شادی شدہ نہیں تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان