تھرپارکر میں پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر چارہ کھانے پر اونٹنی کی آنکھیں نکالنے کے معاملے پر چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے دو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
تحصیل ڈاہلی کے گاؤں بنگل رند میں 30 مئی کو پیش آنے والے اس واقعے کی ایف آئی آر تھانہ کھینسر میں مدعی لیلو میگھواڑ کی مدعیت میں رند برادری کے چھ افراد کے خلاف درج کی گئی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی کا کہنا تھا کہ جب وہ ’تلاش کے دوران قریبی گاؤں خان محمد رند پہنچے تو دیکھا کہ اونٹنی ایک باڑے میں بند تھی اور اس کی ٹانگیں بندھی ہوئی تھیں۔‘
مدعی کے مطابق: ’انہوں نے باڑہ مالکان کو بلایا تو کچھ لوگ ایک ساتھ آئے اور ہم سے جھگڑا کیا کہ اونٹنی روزانہ ہمارا چارہ کھا جاتی ہے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے کہا کہ ’ملزمان نے بے زبان اونٹنی کو کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا اور ہمارے سامنے منہ پر لاٹھیاں برسائیں۔ میں نے اونٹنی کو چھڑوانے کی کوشش کی تو مجھے دھمکیاں دی گئیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مدعی کے مطابق وہ انصاف کے لیے گاؤں کے معززین کے پاس گئے لیکن ’برادری نے 10 روز تک فیصلہ لٹکائے رکھا‘ اور ’پنچایت میں انصاف نہ ملنے پر میں نے 10 روز بعد پولیس سٹیشن پہنچ کر مقدمہ درج کروایا۔‘
ایس ایچ او کھینسر غلام مجتبیٰ بھٹو کے مطابق اب تک دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔
غلام مجتبیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ملزم محمد حنیف اور روشن علی کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘
دوسری جانب متاثرہ خاندان اور مقامی افراد نے خواتین اور بچوں سمیت احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ پڑوسی گاؤں کے بعض افراد اس واقعے میں ملوث ہیں۔
مظاہرین نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی میرپور خاص سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے جاری بیان میں پولیس کو واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’بے زبان جانوروں پر ظلم و تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘
وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد محکمہ لائیو سٹاک محکمہ بھی متحرک ہو گیا اور ڈاکٹروں کی ٹیموں نے متاثرہ اونٹنی کا طبی معائنہ مکمل کر کے علاج شروع کر دیا۔
سندھ میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ جون 2024 میں بھی سانگھڑ کے علاقے منڈ جمڑاؤ میں ایک شخص کے پالتو اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
سومر بین نامی شخص کی اونٹنی نے 13 جون کو ضلع سانگھڑ کے علاقہ منگلی میں ایک کھڑی فصل کو نقصان پہنچایا جس پر وہاں موجود ملزمان نے اس کی ٹانگ کاٹ دی تھی۔
میڈیا پر واقعے کی کوریج کے بعد زخمی اونٹنی کو سانگھڑ سے کراچی میں جانوروں کے حقوق کی تنظیم سی ڈی آر ایس بینجی پراجیکٹ فار اینیمل ویلفیئر کے شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا تھا۔