اسلام آباد لانگ مارچز: کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ پر ٹرانسپورٹروں کا احتجاج

گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس کا کہنا ہے کہ کنٹینروں میں موجود کروڑوں روپے کا سامان خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

26 جولائی، 2024 کو اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج سے قبل پولیس نے شپنگ کنٹینرز لگا کر ایک سڑک بند کر رکھی ہے (اے ایف پی)

 آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے بدھ کو حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں سڑکیں بند کرنے کے لیے کنٹینر پکڑنے پر احتجاج کرتے ہوئے تمام کنٹینر اور گاڑیاں چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ ناقابل قبول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کنٹینرز کے پہاڑ تو دکھا رہا ہے، یہ نہیں پوچھ رہا کہ یہ کنٹینر کہاں سے آئے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر اور جماعت اسلامی کی طرف سے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال کے بعد انتظامیہ نے بڑی تعداد میں کنٹینر دارالحکومت میں پہنچا دیے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پانچ اگست کو پشاور میں ایک جلسے سے خطاب میں 27 ستمبر کو اسلام آباد جانے کا اعلان کیا تھا۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’اب بہت ہو چکا، نکلنے کا وقت آ گیا ہے۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہو گا۔

’اگر آپ سب عمران خان کے لیے تیار ہیں تو پھر 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے۔‘ 

امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 12 ستمبر کو گوجرانوالہ میں جلسے خطاب کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج اور دھرنے کو لانگ مارچ میں تبدل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

فی الحال اسلام آباد آنے جانے کے راستے بند تو نہیں کی گئے لیکن کنٹینر شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سڑکوں کے کنارے پر موجود ہیں۔ 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ڈی چوک سمیت کشمیر ہائی وے، اسلام آباد ایکسپریس وے اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد کے قریب سڑک کے کنارے رکھے کنٹینر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اویس چوہدری نے مزید کہا ’یہ کنٹینرز ٹرانسپورٹرز سے زبردستی لے کر راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

’کروڑوں روپے مالیت کا سامان کنٹینرز میں موجود ہے جو خراب ہونے اور کاروباری نقصان کا خدشہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے سوال کیا کہ نجی ٹرانسپورٹرز کے اثاثے راستے بند کرنے کے لیے استعمال کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

’ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت بتائے کہ ٹرانسپورٹرز کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا؟‘

محمد اویس چوہدری کے بقول ’ہمارے کنٹینرز کاروبار اور ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے ہیں، راستے بند کرنے کے لیے نہیں۔

’ٹرانسپورٹرز ظلم اور ناانصافی کے خلاف حکومت سے سراپا احتجاج ہیں۔‘

انہوں نے پکڑی گئی تمام گاڑیاں اور کنٹینر کو فوری طور پر چھوڑنے اور پکڑ دھکڑ سے ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت