ایندھن کی قلت سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں: پاکستان

وزیر پیٹرولیم کے مطابق حکومت یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخری مرحلے میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔

25 اپریل، 2026 کو کراچی کے پیٹرول پمپ پر رش نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو کہا کہ خلیج میں جاری تنازعے کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی رسد متاثر ہونے کے بعد پاکستان ایندھن کی ’قلت‘ سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

ان کا یہ بیان حکومت کی جانب سے پیٹرول پر ہدفی سبسڈی کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ پاکستان نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔

تازہ ترین اضافے کے تحت حکومت نے جمعے کو ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھا کر 403.32 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت 375.82 روپے فی لیٹر کر دی تھی، جو 14 ستمبر تک نافذ ہے۔

قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے رسد کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

حکومت نے اتوار کو دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

پیٹرولیم وزیر ملک نے دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ’حکومت نے اس وقت عوام کو ضرورت سے زیادہ بوجھ سے بچانے کی کوشش کی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے اس طوفان کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’حکومت یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخری مرحلے میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا حکومت تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے لوگوں کو باوقار انداز میں ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

’وہ (عوام) تقریباً اسی قیمت پر ایندھن حاصل کر سکیں گے جو جنگ سے پہلے تھی، جبکہ حکومت ایندھن اس قیمت سے دگنی قیمت پر خرید رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے کی آئل ریفائنریوں نے ریفائن شدہ مصنوعات کے قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کی حکومت کی درخواست کا مثبت جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا ’آج بھی میں نے ان کے ساتھ ایک گھنٹہ بیٹھ کر اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ہم کس طرح یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ستمبر یا اکتوبر میں تیل کی دستیابی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔‘

حکومت نے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ ان گاڑیوں میں موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی شامل ہیں۔

اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر یہی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ کے مطابق سبسڈی حاصل کرنے کے لیے شہری 9771 پر ٹیکسٹ میسج بھیج کر رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، جس میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، وہ صوبہ یا خطہ جہاں گاڑی رجسٹرڈ ہے اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ سمیت دیگر تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا ’رجسٹریشن کی تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی کی دستاویزات موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’گذشتہ سکیم میں شرط تھی کہ صرف موٹر سائیکل کا مالک ہی رجسٹریشن کرا سکتا ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں لوگ دوسرے، تیسرے اور چوتھے ہاتھ کی موٹر سائیکلیں استعمال کرتے ہیں اور اوپن ٹرانسفر لیٹر پر گاڑیاں چلاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’لہٰذا ہم نے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے مالک کی شرط ختم کر دی ہے۔ تاہم کار کے لیے یہ شرط اب بھی ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا رجسٹرڈ افراد کو ٹوکن نمبر دیے جائیں گے، جسے وہ سبسڈی حاصل کرنے کے لیے پیٹرول سٹیشنز پر دکھا سکیں گے۔

وزیر نے کہا ’اس نظام کو فعال ہونے میں ایک ہفتہ یا ڈیڑھ ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ہم اس پورے پروگرام کو مزید بہتر اور مؤثر بنائیں گے۔‘

رواں سال اسلام آباد کی جانب سے اعلان کردہ یہ دوسری ایندھن سبسڈی ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستانی وفاقی اور صوبائی حکام نے اپریل میں صارفین کو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعدد سطحوں پر ریلیف کا اعلان کیا تھا، جس میں مفت ٹرانسپورٹ، کرایوں کو منجمد کرنا اور ہدفی سبسڈیز شامل تھیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت