مٹی کے برتن، رلی آرٹ اور گھر کا اچار: کراچی میں روایتی ہنر کی نمائش

ایکسپو سینٹر میں منعقدہ دو روزہ نمائش میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے کاریگروں، ہنرمندوں اور نوجوان کاروباری افراد نے سٹالز لگائے۔

خیرپور میرس کی ہاتھ سے تیار کردہ رلیاں، ٹنڈو باگو کے مٹی کے برتن، ہالا کی روایتی گلیزنگ اور پانچ نسلوں سے گھروں میں تیار ہونے والا اچار، کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ دو روزہ نمائش میں ملک کے مختلف علاقوں کے روایتی ہنر ایک ہی چھت تلے جمع ہوئے۔

ڈاچی فاؤنڈیشن کی اس نمائش میں کاریگروں، ہنرمندوں اور نوجوان کاروباری افراد نے رلی آرٹ، کڑھائی، ایپلیق (کپڑے کی آرائش)، پیچ ورک، مٹی کے برتن، ہالا کی مصنوعات، بلو پوٹری، تانبے اور لکڑی کی دستکاری، زیورات، کپڑے اور پینٹنگز سمیت مختلف اشیا کے سٹال لگائے۔

خیرپور میرس سے رلی آرٹ لے کر آنے والے کاریگر ریاض نے بتایا ’ہمارے پاس ایپلیق، کڑھائی، ایپلیق اور پیچ ورک سمیت مختلف مصنوعات ہیں۔ 

’یہ کام دیہات میں خواتین اپنے گھروں میں تیار کرتی ہیں اور ہم اپنی تنظیم کے ذریعے ان سے یہ مصنوعات لا کر یہاں فروخت کرتے ہیں۔‘

ریاض کے مطابق رلی آرٹ کی مصنوعات کی طلب موجود ہے اور ایسی نمائشیں دیہی خواتین کے تیار کردہ ہنر کو بڑی مارکیٹ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں۔

ٹنڈو باگو سے آنے والے کاریگر غلام محمد کا کہنا تھا ’یہ ہمارا مٹی کے برتنوں کا کام ہے۔ ہم نے اس میں آرائشی اشیا کے علاوہ مختلف نئی چیزیں بھی بنائی ہیں۔ یہ کام ہمارے خاندان میں بَاپ دادا کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا مٹی سے برتن بنانے کے بعد انہیں رنگ دینے سمیت کئی مراحل گھر میں ہی مکمل کیے جاتے ہیں اور خاندان کے بچے بھی اس کام میں حصہ لیتے ہیں۔

غلام محمد کے بقول ’یہ چیزیں دیکھ کر لوگوں کو اپنے بچپن کی یاد آتی ہے کیونکہ ہم بھی بچپن میں مٹی سے ایسی چیزیں بنایا کرتے تھے۔‘

ہالا سے آنے والے کاریگر شاہد نے بتایا ’ہم مٹی کی چیزوں پر گلیز کرتے ہیں۔ پہلے مٹی کے سامان پر گلیز لگاتے ہیں، پھر اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

’تقریباً دو دن بھٹی میں رہتا ہے اور تیسرے دن نکالتے ہیں۔ اس کے بعد اسے استعمال بھی کر سکتے ہیں اور سجاوٹ کے لیے بھی رکھا جا سکتا ہے۔‘

نمائش میں خواتین کے روایتی ہنر کو کاروباری ماڈل سے جوڑنے کی ایک مثال ’کھٹاس مٹھاس‘ کے سٹال پر بھی نظر آئی۔

اس برانڈ کے بانی عبدالرازق نے اپنی گفتگو میں کہا ’ہمارے پاس کھجور اور شکارپور کا گھر میں تیار کیا گیا اچار ہے۔ یہ اچار پانچ نسلوں سے بن رہا ہے اور پہلے عموماً گلی محلوں میں تحفے کے طور پر دیا جاتا تھا، اس سے آمدن یا بڑے پیمانے پر مارکیٹ کا تصور نہیں تھا۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نے سات خواتین کو اپنے ساتھ جوڑا ہے اور انہیں سوشل انٹرپرائز کے منافع میں شراکت کے ماڈل میں لائے ہیں۔ ہم نے انہیں پیکیجنگ، لاگت، گفت و شنید اور کمیونیکیشن اسکلز کی تربیت دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اب وہ ایک برانڈ کے تحت اچار بناتی ہیں، جسے ہم بہتر پیکیجنگ کے ساتھ بڑی مارکیٹ تک لے جاتے ہیں اور منافع ان کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔‘

ڈاچی فاؤنڈیشن کے رکن عمیر نورانی نے کہا ’اس نمائش کا مقصد ہمارے مقامی کاریگروں کو فروغ دینا اور نوجوان کاروباری افراد کو بھی ایک ایسا پلیٹ فارم دینا ہے جہاں وہ اپنا آرٹ اور مصنوعات نمائش کے لیے پیش کر سکیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ ہماری 25ویں نمائش ہے اور یہ لاہور اور کراچی دونوں شہروں میں ہوتی ہے۔ یہاں زیورات، کپڑے، بلو پوٹری، تانبے، لکڑی کے دستکاری کے سامان اور پینٹنگز سمیت مختلف چیزیں موجود ہیں۔‘

نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے شہری ندیم شیخ کا کہنا تھا ’میں پہلی بار اس پروگرام میں آیا ہوں اور یہاں آکر بہت مزہ آیا۔

’میں نے ہالا کی مصنوعات اور کاشی کی ٹائلز دیکھیں، اس کے علاوہ مٹی سے بنی وہ چیزیں بھی دیکھیں جو ہمیں بچپن کی یاد دلاتی ہیں۔‘

’یہاں موئن جو دڑو کی مہروں کی طرز پر بنی چیزیں،  چادریں اور ہاتھ سے بنائی جانے والی رلیاں بھی ہیں۔ یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن