چوہا سکرین پر ہیرو اور اصل میں ولن کیوں؟

جیری کو ہم اس لیے پسند نہیں کرتے کہ وہ چوہا ہے۔ اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ کمزور ہے، جسمانی طور پر ہر لحاظ سے بے بس، لیکن عقل مند بلکہ شاطر ایسا کہ جب جیسے چاہے گھما دے۔

صرف چوہا ہی نہیں، بھیڑیا، ڈریگن، راکشس، ویمپائر، حتیٰ کہ ولن بھی ہمارے لیے فیورٹ سکرین کریکٹرز ہیں (ٹام اینڈ جیری ویب سائٹ)

کوئی دبلا پتلا ہو یا ذرا سی رنگت کالی نکل آئی، اسے ایک ہی لفظ میں تباہ کرنے کے لیے ہم ’چوہا‘ کہہ دیتے ہیں۔

نفرت، طنز اور ناپسندیدگی کی انتہا، لیکن یہی چوہا بچوں کے کارٹونوں میں اتنا سویٹ اور کیوٹ کیوں دکھایا جاتا ہے؟

ٹام اینڈ جیری ہم نے نہیں دیکھے لیکن انہیں دیکھنے والوں کو دیکھا ہے۔

پورا خاندان رات کو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر جیری کے لیے دعائیں مانگ رہا ہوتا ہے۔ ٹام جب بھی اسے پکڑنے کے قریب پہنچتا ہے، ان کی سانس رک جاتی ہے کہ بس جیری کسی نہ کسی طرح بچ نکلے۔

 حقیقی زندگی میں چوہا دکھائی دے تو انسان کی پہلی خواہش اسے مارنے کی ہوتی ہے، نزدیک ترین ہتھیار جوتا اتار کر حملے شروع کر دیتے ہیں لیکن سکرین پر نظر آئے تو وہی انسان چاہتا ہے کہ ہیرو آخر تک زندہ رہے۔

یہ تضاد صرف چوہے تک محدود نہیں۔ انسان کی پوری تہذیب اسی اصول پر کھڑی ہے۔

وہ حقیقت میں جن چیزوں سے ڈرتا ہے، کہانیوں میں ان ہی سے محبت کرتا ہے۔ شاعر ایسے ہی تو نہیں کہتا کہ کہانیوں نے میری عادتیں بگاڑی تھیں۔

پچھلے چند برسوں میں سوشل میڈیا نے اس تضاد کو اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ اپنے پالتو چوہوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔

ننھے ننھے چوہے مالک کے کندھے پر بیٹھے ہیں، کسی کے ہاتھ سے سٹرابیری کھا رہے ہیں، کوئی ننھا سا سویٹر پہنے سو رہا ہے۔

لاکھوں لوگ ان ویڈیوز پر ’سو کیوٹ‘ لکھتے ہیں۔ ان ہی لوگوں میں سے شاید آدھے وہ ہوں گے جو اگر رات کو اپنے کچن میں ایسا ہی چوہا دیکھ لیں تو اگلے دن پورا گھر زہر سے بھر دیں۔

آخر ایک ہی جانور دو مختلف دنیاؤں میں اتنا مختلف کیوں لگتا ہے؟

دراصل، جیری کو ہم اس لیے پسند نہیں کرتے کہ وہ چوہا ہے۔ اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ کمزور ہے، جسمانی طور پر ہر لحاظ سے بے بس، لیکن عقل مند بلکہ شاطر ایسا کہ جب جیسے چاہے گھما دے۔ اس کے مقابلے میں ٹام طاقت ور مگر بے وقوف ہے۔

کارٹونوں کی دنیا میں ہمیشہ طاقت ہارتی اور ذہانت جیت جاتی ہے۔ جیری صرف ایک چوہا نہیں، وہ اس خواہش کی علامت ہے کہ چھوٹا آدمی بھی بڑے کو شکست دے سکتا ہے۔

صرف چوہا ہی نہیں، بھیڑیا، ڈریگن، راکشس، ویمپائر، حتیٰ کہ ولن بھی ہمارے لیے فیورٹ سکرین کریکٹرز ہیں۔

کبھی جوکر لوگوں کے لیے صرف بیٹ مین کا دشمن تھا، آج اس کی تصویریں نوجوانوں کی ٹی شرٹس پر چھپی ہوتی ہیں۔

تھانوس نے آدھی کائنات ختم کر دی مگر اس کے مکالمے آج بھی میمز کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔

چوہے کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا۔ حقیقت میں وہ اب بھی اناج کھاتا ہے، تاریں کاٹتا ہے، بیماریوں کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

سائنس نے اس کے بارے میں ہماری رائے زیادہ نہیں بدلی۔ اسے بدلنے کا کام کہانیوں نے کیا۔ ایک اچھے سکرپٹ نے اس کی پوری عوامی شبیہ بدل دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آج دنیا کے کروڑوں بچے چوہے کو پہلی بار کتابوں یا کارٹونوں میں دیکھتے ہیں، باورچی خانے میں نہیں۔ ان کے ذہن میں چوہے کی پہلی تصویر جیری کی ہے، کسی گندے نالے کی نہیں۔

اصل فرق فاصلے کا ہے۔ جس جانور سے ہمارا روزمرہ واسطہ نہ پڑے، اس سے ڈر بھی کم ہو جاتا ہے۔

سکرین پر موجود چوہا ہماری خوراک خراب نہیں کرتا، الماری میں سوراخ نہیں کرتا اور نہ ہی بیماری کا خطرہ بنتا ہے۔

وہ صرف ایک کردار ہے، اس لیے ہمارا ذہن اس کی اصل فطرت نہیں بلکہ اس کی شخصیت کو دیکھتا ہے۔

اسی لیے کہانی سنانے والے جانوروں کو انسانوں جیسی صفات دے دیتے ہیں۔ جب چوہا ہنستا ہے، روتا ہے، دوستی نبھاتا ہے یا مشکل میں ہمت دکھاتا ہے تو وہ جانور سے کردار بن جاتا ہے۔

انسانی ذہن کہانیاں سنتے سناتے اب کرداروں کا فیصلہ ان کی نسل کی بجائے ان کے رویوں سے کرتا ہے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ فلموں اور کارٹونوں میں چوہا کبھی عام چوہا نہیں ہوتا۔ وہ نہ گندا ہوتا ہے، نہ بدبو دیتا ہے، نہ بیماریاں پھیلاتا ہے۔

اس کی مونچھیں صاف ہوتی ہیں، آنکھیں بڑی بڑی، آواز میٹھی اور چال مستانی۔ وہ محبت کرتا ہے، حسد کرتا ہے، شرمندہ ہوتا ہے، خواب دیکھتا ہے، ناکام ہوتا ہے اور دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔

ہم حقائق سے زیادہ اچھی کہانیوں، مضبوط کرداروں اور اس امید سے محبت کرتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی ذہانت، حوصلہ اور ثابت قدمی طاقت پر غالب آ سکتے ہیں۔

اسی لیے ایک ہی چوہا ہماری سکرینوں کا ہیرو اور ہمارے گھروں کا ولن ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فن