پنجابی فلموں کا ذکر ہو تو ذہن میں فوراً سلطان راہی کی تنی ہوئی مونچھیں اور ہاتھ میں گنڈاسا ابھرتا ہے، یا پھر ہیر جو اٹھکھیلیاں کرتی سرسوں کے کھیتوں میں ’ونجلی والڑیے‘ گاتی ہے۔ یہ دو لہریں ہمارے اجتماعی تخیل میں گہری جڑیں رکھتی ہیں جنہیں پروان چڑھانے میں سینیما کا کردار اہم رہا۔
ایک طرف پنجاب کی دیہی زندگی، غیرت، دشمنی اور طاقت کی وہ دنیا ہے جسے گنڈاسے اور سلطان راہی نے وی سی آر کے زمانے میں ایک خاص شناخت دی، تو دوسری طرف عشق، ہجر، لوک داستانوں اور رومان کی وہ دنیا ہے جس میں ہیر، رانجھا، سوہنی اور مرزا جیسے کردار نسل در نسل ہماری کہانیوں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
یہ اپنی جگہ اہم اور خوبصورت تھا، مگر اس کے بیچ پنجاب کی ثقافت، اس کے بدلتے سماج اور عام آدمی کی زندگی کہیں پسِ منظر میں چلی گئی جسے سینیما، کتاب یا عوامی گفتگو نے اپنا موضوع بحث نہیں بنایا۔
پنجاب کیا پورے ملک سے سینیما کا تو صفایا ہو گیا۔ اب رہ گیا سوشل میڈیا اور کتاب۔ کتاب کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنا کچھ پنجابی زبان میں آج لکھا جا رہا شاید ہی پہلے لکھا گیا ہو۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملکی اور عالمی سطح پر مقامی زبانوں کے لٹریچر کی بے پناہ پذیرائی ہے۔
ہمارے پنجابی لکھنے والوں کو ہمیشہ شکوہ رہا کہ پنجاب میں سرکاری سطح پر زبان کی سرپرستی نظر نہیں آتی۔ پتہ نہیں کون کتنا مطمئن ہے لیکن سرکار پنجابی میں کبھی کبھار گفتگو بھی کر لیتی ہے، چھوٹے بڑے شہر سڑک کنارے لگے پنجابی زبان کے بورڈ بھی نظر آتے ہیں۔
عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک مثال ڈاھاں ایوارڈ ہے جو 2013 میں شروع ہوا۔ رواں برس پہلی بار ایسا ہوا کہ فائنل تک پہنچنے والی تین کتابوں میں سے دو ہمارے پنجاب کی ہیں۔ ان میں اکمل شہزاد گھمن کا ناول ’پرچھاواں‘ بھی ہے جس کا موضوع پنجاب کی بدلتی ثقافت اور سماج ہے۔
یہ ناول محض ایک گاؤں، چند کرداروں یا مذہبی انتہا پسندی کی کہانی نہیں، جب ایک سماج اپنی پرانی شناخت کھو رہا ہو اور نئی شناخت ابھی پوری طرح تشکیل نہ پائی ہو تو اس خلا میں کون سی آواز جگہ بناتی ہے؟ یہ ہی اس ناول کا موضوع ہے۔
’پرچھاواں‘ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب کی مذہبی شناخت کو اس کے روایتی ثقافتی وجود سے الگ کر کے نہیں دیکھا گیا۔ پنجاب میں مذہب ہمیشہ صرف مسجد یا مدرسے کی چیز نہیں رہا۔ صوفی روایت، درگاہ، میلہ، لوک گیت، قصہ، قوالی اور پنجابی شاعری نے مذہبی احساس کو روزمرہ ثقافت میں جذب کیا ہے۔ یہاں عشق بھی مذہبی زبان میں بیان ہوا اور مذہب بھی محبت، رواداری اور مقامی روایت کے استعاروں میں۔
ناول میں یہ ہی دنیا ایک نئی کشمکش سے گزرتی دکھائی دیتی ہے۔ مذہب کی زبان موجود ہے مگر اس کے لہجے بدل رہے ہیں۔ بیرونی دنیا کے سیاسی اور مذہبی واقعات اب گاؤں کے گلی محلوں میں زندگی کا رخ متعین کرنے لگے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کا روایتی سماج صرف معاشی تبدیلی سے نہیں گزر رہا بلکہ اس کی ذہنی ساخت بھی تبدیل ہو رہی ہے۔
گاؤں کی زندگی میں بڑی تبدیلیاں عموماً بڑے واقعات کی طرح نہیں آتیں۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا کہ آج سے پرانا زمانہ ختم اور نیا شروع ہو گیا۔ جیسے زندگی میں ٹھہراؤ ہوتا ہے، تبدیلی بھی ویسے ہی دھیرے سے آتی ہے۔
ڈیرے پر بیٹھنے کا انداز، میلوں کی رونق، گیتوں کے بول، لباس، گفتگو کا لہجہ، لوگوں کے درمیان فاصلہ، سب کچھ ایسے بدلتا ہے جیسے آپ بستر پہ لیٹے ہوئے کروٹ بدلتے ہیں۔ یہ غیر محسوس تبدیلی غیر محسوس انداز میں دکھانا سینیما یا فکشن کا نقطہ عروج ہے۔ ہمارا سینیما اس سے قاصر رہا لیکن فکشن ’پرچھاواں‘ کی صورت میں ایسی حیرت تخلیق کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
بدلتے سماج کو تاریخ کی بجائے فکشن یا سینیما میں پیش کرنا ایک الگ اہمیت رکھتا ہے۔ تاریخ کی کتاب تاریخ کا ریکارڈ تو رکھتی ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کہ بدلتا ہوا معاشرہ ایک عام آدمی کے روزمرہ زندگی کے ساتھ اچھا یا برا کیا کرتا ہے۔ ’پرچھاواں‘ اسی روزمرہ کی تاریخ لکھتا ہے۔ گلی محلے میں گفتگو اور لہجے بدلنے لگتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہاں چودھری ہیں، زمیندار ہیں، مولوی ہیں، میراثی ہیں، خواجہ سرا ہیں اور عام دیہاتی ہیں۔ بظاہر یہ سب ایک ہی گاؤں کے کردار ہیں، مگر ہر کردار پنجاب کے ایک الگ سماجی چہرے کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ کوئی زمین اور طاقت کی نمائندگی کرتا ہے، کوئی مذہبی اختیار کی، کوئی لوک ثقافت کی اور کوئی اس معاشرے کی جسے صدیوں سے مرکزی دھارے کے کنارے پر رکھا گیا۔
گھمن کا کمال یہ ہے کہ وہ ان کرداروں کو محض علامت بنا کر نہیں چھوڑ دیتے۔ وہ انہیں جیتے جاگتے انسان رہنے دیتے ہیں۔
آپ پنجاب کے چھوٹے چھوٹے گاؤں دیہات میں چلے جائیں، وہاں کی خوراک اور کھانے کا ذائقہ آپ کو یہ سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ تبدیلی کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔
پنجاب میں صدیوں سے شوربے والا سالن رائج رہا، یہاں کے گرم موسم کے مزاج سے ایسا سالن لگا کھاتا ہے۔ اب کڑاہی ہی کڑاہی ہے۔ شوربہ طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ مرچ مسالے ہر چیز پیکنگ میں دستیاب ہے، ہر جگہ ایک جیسا ذائقہ ہے، ایک جیسی ریسپی ہے۔
گلوبل ویلیج کے نام پر یہ ریسپی صرف کھانے پینے کے لیے نہیں بیچی گئی، رہن سہن، پہننے اوڑھنے، بولنے سننے اور سوچنے سمجھنے تک ہر چیز میں ایک ’معیار‘ قائم کیا گیا اور اس کے سانچے میں معاشرے کو ڈھالنے کی کوشش کی گئی۔
یہ غیر محسوس تبدلیاں ایک خطے کو کیسے تبدیل کرتی ہیں، یہ جاننے کے لیے ’پرچھاواں‘ غیر معمولی دستاویز ہے۔
اس ناول کی ایک بڑی خوبی اس کی زبان ہے۔ اکمل شہزاد گھمن نے پنجابی کو صرف مکالمے کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ پورا ثقافتی ماحول اسی زبان سے تخلیق کیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف معنی نہیں دیتے، اپنے ساتھ ایک زمانہ بھی لیے ہوتے ہیں۔ پنجابی کا محاورہ، لہجہ، طنز، گالی، محبت اور روزمرہ کی بے تکلفی سب مل کر ایک ایسی دنیا بناتے ہیں جسے کسی دوسری زبان میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے، مگر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ’پرچھاواں‘ پنجابی زبان کا لسانی حافظہ ہے۔
’پرچھاواں‘ کی اہمیت اسی میں ہے کہ اس نے پنجاب کی ایک بہت بڑی تبدیلی کو کسی نعرے میں نہیں سمیٹا۔ اس نے اسے لوگوں کے رویوں، زبان، یادوں اور زندگی کے معمولی سے واقعات میں پھیلا دیا ہے۔
آپ ناول پڑھتے ہوئے ابتدا میں ایک گاؤں میں داخل ہوتے ہیں لیکن کتاب ختم ہونے تک پورے پنجاب کی سیر کر چکے ہوتے ہیں۔ پنجاب جو دھیرے دھیرے، آپ کی نظروں کے سامنے اپنی پرانی شکل سے نکل رہا ہے۔