آئرلینڈ کی نورا رچرڈز، جنہوں نے جدید پنجابی ڈرامے کی بنیاد ڈالی

آج شاید ہی کوئی واقف ہو کہ 1911 سے 1920 کے درمیان نورا رچرڈز لاہور کی علمی و ثقافتی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار تھیں۔

نورا رچرڈز (درمیان)، معروف ہندوستانی پنجابی سیاست دان، مصلح و ماہر نباتیات ایم ایس رندھاوا اور عقب میں مشہور شاعرہ اور نثر نگار امرتا پریتم کی یادگار تصویر (امرجیت چندن آکائیو)

یہ مسز نورا رچرڈز( 1971- 1876) کی تصویر ہے، جسے 1960 میں اتروایا گیا۔ مسز رچرڈز کے داہنے ہاتھ پر ایم ایس رندھاوا (معروف ہندوستانی پنجابی سیاست دان، مصلح و ماہر نباتیات) اور عقب میں مشہور شاعرہ اور نثر نگار امرتا پریتم کھڑی ہیں۔

آج شاید ہی کوئی اس بات سے واقف ہو کہ 1911 سے 1920 کے درمیانی نو برسوں میں نورا رچرڈز لاہور کی علمی و ثقافتی تاریخ کا ناقابل فراموش کردار تھیں۔

نورا کا تعلق آئرلینڈ سے تھا۔ وہ 1911 میں اپنے بے مثال نثر نگار اور معروف نامہ نویس شوہر پروفیسر فلپ ارنسٹ رچرڈز (1920-1875) کے ہمراہ لاہور آئیں۔

رچرڈز دیال سنگھ کالج، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔

تقسیم ہندوستان سے پہلے لاہور کے انگریزی ادبی رسائل اور اخبارات رچرڈز کے انشائیوں کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔

نوبیل انعام یافتہ نثر نگار، رڈیارڈ کپلنگ بھی ان کی نثر کے دل دادہ تھے۔ رچرڈز نے اپنے مخصوص اسلوب میں لاہور کے گلی کوچوں خصوصاً انارکلی کو اس طور سے عکس بند کیا کہ ایک صدی پہلے کے مناظر انگڑائی لیتے معلوم ہوتے ہیں۔

رچرڈز اور نورا کو لاہور سے بے پناہ محبت تھی۔ ان کی تحریروں میں لاہور کی گرمی اور دھول کو ایک کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔

ان کے شہرہ آفاق خطوط میں سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو ’ہندوستان کو خوب صورت بنانے والی اہم شے یہاں کا گرد و غبار ہے۔

’ہر چیز پر اور فضا میں چہار اطراف پھیلا ہوا غبار۔ اس کے باوجود درخت حیرت انگیز طور پر تازہ اور شاداب دکھائی دیتے ہیں۔

’زمین دھوپ میں تپی ہوئی، ہلکے بھورے رنگ کی ردا اوڑھے رہتی ہے۔ مقامی لوگوں کے گرد آلود سفید لباس، مٹیالے رنگ کے ساتھ نہایت وقار سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔

’یہاں تک کہ سرخ اینٹیں بھی گرد آلود ہو کر دھوپ میں کندن بنی زمین کا جزو معلوم ہوتی ہیں۔

لیکن میں نے یہاں وہ تھکن اور پژمردگی نہیں دیکھی جو گرمیوں کی دوپہر میں انگلستان کے فضا میں نمایاں ہوتی ہے۔ روشنی کی چکا چوند اور چمک سِٹّی گم کر دیتی ہے۔

’یہاں وہ نازک سبزہ بھی نہیں جو سرعت سے مرجھا جائے۔ دوپہر کی جھلسا دینے والی زمین اور اس پر رہنے یا اسے سہنے والی ہر چیز، چاہے انسان ہو، جانور یا پودا، تھکن سے ماورا معلوم ہوتی ہے۔

’نصف النہار کا سورج ایسی شان سے دمکتا ہے، جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستانی مٹی اس نئی زندگی کی منتظر رہتی ہے جو سورج غروب ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے۔

’زمین و آسمان اور عمارتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ ستاروں سے بھرا ہوا، جگمگاتا آسمان مخلوقات پر اپنی سکون بخش برکت نازل کرتا ہے۔

’انارکلی میں رات گئے چارپائیوں پر سوئے بے فکر تنومند نوجوان، دبے پاؤں چلتی ہوا، گھوڑے کی دُلکی چال۔۔۔۔ لاہور ایک طلسم ہے، جس میں الف لیلہ کے کردار زندہ ہونے لگتے ہیں۔‘

ستم ظریفی دیکھیے، لاہور کی یہی گرمی رچرڈز کی جوانا مرگی کا سبب بنی۔ وہ جون 1920 میں 45 برس کی عمر میں لاہور کی گرد آلود زمیں کا پیوند بن گئے۔

ان کے سنگ مزار پر یہ فقرہ کھدا ہے:

He shines like a star among us

رچرڈز کے گزر جانے کے بعد ان کی چہیتی بیوی ہندوستانی تمدن کا نمونہ بن گئی۔ نورا نے آکسفرڈ سے تھیٹر اور ڈراما کی تعلیم حاصل کی تھی۔

قیام لاہور کے دوران یہ آموزش ان کا عصا بنی۔ انھوں نے دیال سنگھ کالج اور اسلامیہ کالج لاہور کے لیے شاہکار ڈرامے لکھے۔ نورا کے ڈرامے ہندوستانی تمدن کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

انھوں نے 1914 میں رچرڈز کے ہمراہ جدید ڈراما سیریز کے عنوان سے پہلا پنجابی ڈراما ’دلہن‘ پیش کیا۔ ڈرامے کو دیال سنگھ کالج کے ہونہار طالب علم ایشور چندر نندا نے لکھا تھا۔

بعد ازاں اس کا انگریزی ترجمہ’ دی برائیڈ‘ بھی ہوا۔ نورا نے 1915 میں گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈرامے میں اہم کردار ادا کیا۔

انھوں نے گورنمنٹ کالج میں ’دی سائیکالوجی آف ڈراما‘ کے عنوان سے لیکچرز بھی دیے۔ نورا کی ریاضت اور لاہور سے محبت کی بنیاد پر انھیں ’مدر آف دی کالج‘ کا لقب دیا گیا۔

بعد ازاں انھیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ انھیں دیال سنگھ کالج کا اعزازی وائس پرنسپل بھی بنایا گیا۔ ڈرامے کی ترویج اور ہندوستانی تمدن کی تفہیم کے لیے نورا نے دور دراز کے سفر کیے۔

وہ اردو، ہندی، بنگلہ فارسی اور پنجابی سے بخوبی واقف تھیں۔ ان کی شہرت یہاں تک پہنچی کہ 1915 میں تعمیر ہونے والے دیال سنگھ کالج کے ڈراما ہال کا نام ان سے منسوب ہوا۔

انہوں نے دیال سنگھ کالج ٹرسٹ لائبریری کی ترتیب و تزئین میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنے نام کے ساتھ bibliophile لکھنا نہیں بھولتی تھیں۔

لاہور میں رچرڈز اور نورا چار مقامات پر اقامت گزین رہے۔ پہلے پہل ان کی کوٹھی لیک روڈ پر تھی۔ یاد رہے، آزادی سے پہلے لیک روڈ انگریز پروفیسروں کی کالونی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

علامہ اقبال کے استاد تھامس آرنلڈ اور سنسکرت کے معروف عالم اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر الفریڈ وولنر کا گھر بھی یہیں تھا۔

لیک روڈ کے بعد دونوں میاں بیوی برانتھ روڈ، سرکلر روڈ اور رانی کوٹ روڈ کے کشادہ بنگلے میں رہتے رہے۔ رچرڈز نے اپنے خطوط میں ان مقامات کی ثقافتی زندگی کو متحجر (fossilized) کر لیا ہے۔

1920 میں پروفیسر رچرڈز کی ناگہانی موت کے بعد نورا انگلستان لوٹ گئیں۔ لیکن ہندوستان کی محبت انھیں دوبارا یہاں کھینچ لائی۔ 1924 میں انھوں نے کانگڑہ (ہماچل پردیش) کی دل کش وادی میں اینڈریٹا نامی گاؤں میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

اینڈریٹا کو فنکاروں کا گھر کہا جاتا ہے۔ پالم پور کے قریب اس جگہ نے ہندوستان بھر کے ادیبوں اور فن کاروں کو متوجہ کیا۔ پہاڑوں اور گھنے سبزے کے دامن میں نورا کا کچا گھر آج بھی فن کاروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

انگریزی عہد کے ایک برطانوی افسر نے اپنی 15 ایکڑ کی جائیداد نورا کے نام کر دی۔ بعد ازاں یہ زمین وُڈ لینڈز سٹیٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ مقامی لوگ اس گاؤں کو ’میم دا پنڈ‘ کہتے تھے۔

نورا نے بقیہ دنوں میں دیہاتی طرز زندگی کو شیوہ بنایا۔ پھونس کی چھت والا مٹی کا ایک گھر سجایا جس کا نام ’چمیلی نواس‘ رکھا۔

ان کی ایکڑوں زمین پھولوں اور جانوروں سے بھری رہتی لیکن اقامت گاہ میں تازہ پہاڑی مٹی اپنا جادو جگاتی۔ یہیں پر انھوں نے ’رچرڈز سکول‘ نامی ادارے کی بنیاد بھی رکھی۔

یہ ادارہ مقامی ڈرامے کی ترویج کے لیے بنایا گیا تھا۔ سکول نے پنجابی اور دیسی ڈرامے کی عالمی تشہیر کے لیے خاطر خواہ کام کیا۔

نورا کے آنجہانی شوہر کے کئی پنجابی شاگرد بھی اس ادارے سے منسلک ہوئے اور اسے چار چاند لگائے۔ ان میں ایشورچند نندا، ڈاکٹر ہرچرن سنگھ، بلونت گارگی اور گرچرن سنگھ معروف ہیں۔

نورا ہر سال گرمیوں کے موسم میں بہترین ڈراما پیش کرتیں۔ ڈراما پہاڑوں کے دامن میں کھلے سارے میں پیش کیا جاتا۔ فطری ماحول سے سیٹ کا کام لیا جاتا۔

یہ سلسلہ سالوں جاری رہا۔ دیو آنند، پرتھوی راج کپور اور بلراج ساہنی ان کے ڈراموں میں بلا تعطل شرکت کرتے۔ نورا کو رچرڈز کے شاگردوں نے کبھی تنہا نہ چھوڑا۔

تقسیم ہندوستان کے بعد جے دیال اور سوبھا سنگھ بھی اندریٹا میں بس گئے۔ جے دیال کا تعلق لاہور سے تھا۔ رچرڈز نے اپنے خطوط میں جے کا بہت ذکر کیا ہے۔

جے کئی سالوں تک لاہور میں رچرڈز خاندان کے ہمراہ رہا۔ بعد ازاں اس کا شمار ہندوستان کے اہم چترکاروں میں ہوا۔

سوبھا سنگھ معروف مصور تھے۔ انارکلی (لاہور) میں ان کا سٹوڈیو پڑھے لکھے لوگوں کا تکیہ بنا رہا۔ تقسیم کے وقت بہ دقتِ ہزار انھیں لاہور چھوڑنا پڑا۔ انھوں نے اپنے فن سے سکھ دھرم کو تصویروں میں محفوظ کیا۔

1971 میں نورا کے گزرنے کے بعد انڈریٹا میں ان کے گھر کو پنجاب یونیورسٹی پٹیالہ نے تحویل میں لے کر قومی عجائب گھر کا درجہ دے دیا۔ یہ عجائب گھر نورا کی استعمال شدہ چیزوں کا ثقافتی مرکز ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیاح اور شائقین شوق سے آتے ہیں اور مسز رچرڈز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ معروف مجسمہ ساز اور پدم بھوشن، بھابیش چندرا سنیال نے نورا کو اپنی خود نوشت میں ان الفاظ سے یاد کیا ہے:

’نورا نے کام کے اوقات کو حقّے کے وقفے، چائے کے وقفے، آرام کے وقفے اور کھانے کے وقفے میں تقسیم کر رکھا تھا۔

’وہ اپنے تھیلے میں رکھی الارم گھڑی کی مدد سے سیٹی بجاتی: ’حقہ پیو، حقہ پیو!‘ پھر مقررہ وقت گزرنے پر دوبارہ سیٹی بجا کر سب کو کام پر واپس بلا لیتی۔

’دن کے اختتام پر اس کے تمام ملازم اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے اور وہ بالکل اکیلی رہ جاتی۔ اس کے بعد وہ اپنی ادبی مصروفیات، خط و کتابت اور مطالعے میں غرق ہو جاتی۔

’مٹی کے تیل کا چھوٹا سا چراغ آدھی رات کے بعد تک جلتا رہتا اور اس کی ٹائپ رائٹر کی ٹک ٹک صبح کاذب ہی سے سنائی دینے لگتی تھی۔

’وہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں مکمل انگریز خاتون (میم) تھی۔ دیہاتیوں پر تنقید کرتی کہ وہ کیوں کر کھیتوں کو گندا کرتے ہیں اور بیت الخلا کے لیے گڑھے نہیں کھودتے۔

’اس کی فطرت ایسی تھی کہ ہر کام فوراً اور بلا تاخیر ہو جانا چاہیے۔ بے ترتیبی کو کہیں راہ نہ ملتی تھی۔‘

نورا کی انگریزی نثر میں تازہ کاری ملتی ہے۔ ان کے خطوط ادبی اسلوب کا شاہکار ہیں۔

وہ تین مارچ 1971 کو ووڈلینڈ ریٹریٹ میں پیوند خاک ہوئیں۔ ان کے سنگ مزار پر یہ الفاظ کندہ ہیں:

’Rest Weary Heart - Thy work is Done‘

ڈاکٹر ارسلان راٹھور جی سی یونیورسٹی لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ