بلوچستان میں تشدد واقعات میں اضافے اور غیر یقینی صورت حال کے باوجود حکومت پر بظاہر سرفراز بگٹی کی گرفت مضبوط دیکھائی دے رہی ہے لیکن دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر مالک بلوچ اسلام آباد میں اہم ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔
صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر مالک بلوچ نے گذشتہ چار روز میں وفاقی دارالحکومت میں دو اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ چار روز قبل وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملے تھے اور اتوار کو انہوں نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی ہے۔
اس سلسلے میں جب ڈاکٹر مالک سے رابطہ کر کے ان سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے تو انہوں نے اس ضمن میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میری ملاقاتوں کو میڈیا نے غلط رنگ دیا ہے لہذا پارٹی سے مشاورت کے بعد باقاعدہ بیان جاری کروں گا۔‘
ھنہ اوڑک اور زیارت میں مسلح حملوں اور درجنوں اہلکاروں اور افراد کی موت کے خلاف سیاسی جماعتوں اور مرنے والوں کے اہل خانہ نے دس روز دھرنے دیے۔ اسی دوران ڈاکٹر مالک بلوچ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اِسحاق دار سے ملاقاتوں کیں جاس کے بعد بلوچستان کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تبدیلی کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ تاہم ایسی کسی تبدیلی کی نہ تو ڈاکٹر مالک اور نہ ہی حکومت نے تصدیق یا تردید کی ہے۔
ڈاکٹر مالک بلوچ اور ان کے دیگر تین ساتھی سوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن صوبے اور مرکز میں حکمران جماعتوں کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ شاید وفاقی حکومت ڈاکٹر مالک بلوچ کو وزیر اعلی بنانے یا انہیں دوبارہ سے علیحدگی پسند وں سے مذاکرات کا ٹاسک سونپا جا رہا ہے۔ لیکناس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ان کی پارٹی کے پارلیمانی ارکان سمیت ملاقات میں بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کے عوام کی معاشی ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے چار دن قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سابق وزیراعلی بلوچستان، رکن صوبائی اسمبلی عبدالمالک بلوچ کی وفد کے ہمراہ ملاقات کی تھی۔ سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پہلی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، سینیٹر جان محمد بلیدی، رکن قومی اسمبلی پولن بلوچ، رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملک بھی شامل تھے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں تاحال عوام کو ووٹ کا حق حاصل نہیں عوام کے مینڈیٹ پر شب و خون مارا جاتا ہے بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہیے اس حوالے سے مثبت کردار ادا کریں اور عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے حقیقی قیادت اور حقیقی سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے۔
بیان میں ڈاکٹر مالک نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور ایسے مسائل کو بات چیت و مذاکرات سے حل کیا جاتا ہے اس لیے بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی منفی پالیسی کو ترک کرکے مذاکرات کے عمل کو بروئے کار لایا جائے۔ ’مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ ماحول کو سازگار بنایا جائے، رویوں میں مثبت تبدیلی لائی جائے، اعتماد کی فضا بحال کی جائے اور بلوچستان کے مسئلے کا مختلف زاویوں سے جائزہ لے کر ریفارمز لائی جایں۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہر قسم کے ماوراے آہین و ماورائے عدالت عوامل سے اجتناب کیا جائے۔‘
نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو جمہوری طریقے سے آواز بلند کرنے اور آزادی اظہار رائے کا حق فراہم کرتا ہے اگر کوئی بھی شخص آئین کے منافی اقدام کرتا ہے تو اس کے حل بھی آئین میں موجود ہیں۔ ’عوام کی رائے کا احترام ضروری ہے اور وہ جن کو ووٹ کے ذریعے منتخب کراتے ہیں تو ان کو نمائندگی حق حاصل ہو، انتخابی عمل میں دھاندلی و مداخلت عوامی و ملکی مفاد میں ٹھیک نہیں۔‘
سرحدی تجارت کے بارے میں نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ سے بلوچستان کے عوام کا روزگار وابستہ ہے۔ بارڈر ٹریڈ کی بندش سے بلوچستان میں مشکلات بڑھ رہی ہے اس لیے ٹریڈ کو بحال کیا جائے اور ساتھ ہی بےورزگار نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔
ادھر سوموار کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر مس جین میریٹ نے ملاقات کی۔ سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، بلوچستان میں ترقیاتی تعاون اور دوطرفہ روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلوچستان میں تعلیم، صحت، گورننس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں امن، پائیدار ترقی اور عوامی فلاح حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ ’بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔‘