پارلیمان میں ساتھ، سیاست میں فاصلہ؟ پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں تعاون کہاں تک پہنچا؟

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن میں موجود دونوں جماعتیں قانون سازی اور دیگر پارلیمانی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان گذشتہ برسوں کے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بعض معاملات پر تعاون بڑھ رہا ہے، تاہم دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے مطابق فی الحال یہ تعاون پارلیمانی امور تک محدود ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن میں موجود دونوں جماعتیں قانون سازی اور دیگر پارلیمانی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔

جے یو آئی ف کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمان میں مشترکہ مؤقف حکومت کے مقابلے میں ان کے کردار کو مؤثر بنا سکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس تعاون کو مستقبل میں وسیع تر اپوزیشن اتحاد کی طرف لے جانے کی خواہش رکھتی ہے۔

تعاون کی بنیاد کیا ہے؟

عبدالجلیل جان کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان موجودہ تعاون کی بنیادی وجہ دونوں جماعتوں کا اپوزیشن میں ہونا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی بل یا پارلیمانی معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک مؤقف اختیار کریں تو وہ حکومت کے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں اپنا موقف پیش کر سکتی ہیں۔

ان کے بقول جمعیت علمائے اسلام کے لیے یہ تعاون کسی ایک جماعت کے ساتھ مستقل سیاسی صف بندی سے زیادہ پارلیمان میں مشترکہ کردار ادا کرنے سے متعلق ہے۔

شوکت یوسفزئی بھی کہتے ہیں کہ فی الحال دونوں جماعتوں کے درمیان ’انڈرسٹینڈنگ‘ پارلیمان کی حد تک ہے اور کسی بل یا معاملے پر اپوزیشن کو متحد ہو کر فیصلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور پارلیمان سے باہر بھی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی لائحہ عمل تشکیل پائے۔

تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ماضی کے اختلافات کہاں گئے؟

پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان موجودہ رابطے اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیوں کہ دونوں جماعتیں گذشتہ ایک دہائی کے دوران کئی سیاسی معاملات پر ایک دوسرے کی سخت ناقد رہی ہیں۔

جے یو آئی کے ترجمان عبدالجلیل جان ماضی کی اس سیاسی کشیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات صرف قیادت تک محدود نہیں رہے بلکہ کارکنوں کی سطح تک بھی ان کے اثرات موجود تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ اب دونوں جانب سے رابطے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مختلف ملاقاتوں میں اس معاملے پر بات ہوئی ہے۔

شوکت یوسفزئی بھی ماضی کے اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے شدید سیاسی بیان بازی ہوتی رہی ہے، تاہم اب رابطوں میں بہتری آئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی کی تلخیوں کو ختم کرنے میں وقت لگے گا، لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں اور بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔

کیا یہ سیاسی اتحاد بن سکتا ہے؟

موجودہ رابطوں میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا پارلیمان میں ہونے والا تعاون مستقبل میں کسی باقاعدہ سیاسی اتحاد یا مشترکہ تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالجلیل جان کے مطابق فی الحال جے یو آئی کی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور موجودہ تعاون کو سیاسی اتحاد کہنا درست نہیں ہوگا۔

دوسری جانب شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ مستقبل میں کسی مشترکہ سیاسی جدوجہد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق اگر دونوں جماعتوں کے درمیان موجودہ رابطے آگے بڑھتے ہیں اور مشترکہ اپوزیشن تشکیل پاتی ہے تو ممکن ہے کہ پارلیمان سے باہر بھی تعاون کی صورت نکلے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سیاست میں کوئی چیز ایسی نہیں کہ ممکن نہ ہو‘، لیکن اس وقت دونوں جماعتوں کی بات چیت کا دائرہ پارلیمانی تعاون تک ہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس کا کیا اثر ہوگا؟

پی ٹی آئی اور جے یو آئی دونوں کی خیبر پختونخوا میں اہم سیاسی موجودگی ہے، اس لیے وفاقی پارلیمان میں ان کے درمیان بڑھتے رابطوں کو صوبے کی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں جماعتوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں کسی مشترکہ سیاسی یا انتخابی حکمت عملی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

فی الحال دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تعاون کا آغاز پارلیمانی معاملات سے ہوا ہے۔ اسے وسیع تر سیاسی اتحاد یا انتخابی مفاہمت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔

یوں پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان برسوں کی سیاسی کشیدگی کے بعد رابطے ضرور بڑھے ہیں، لیکن ان رابطوں کی آئندہ سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں جماعتیں پارلیمان سے باہر مشترکہ سیاسی معاملات پر کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ چلنے پر اتفاق کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست