بلوچستان اسمبلی نے وفاقی اداروں کے خلاف مبینہ ہرزہ سرائی کرنے پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور منظوری کر لی۔
صادق عمرانی نے 31 اگست کے اجلاس میں امن و امان پر پیش کی گئی قرارداد پر بحث کے دوران کہا تھا کہ اسلام آباد میں امن کانفرنس میں بلوچستان سے بلائے گئے اراکین اسمبلی اور قبائلی زعما کو مبینہ طور پر بے عزت کیا گیا۔ ان کے اس ریماکس پر جمعرات کو ہونے والے اجلاس کی کارروائی معطل کر کے پیپلز پارٹی کے ہی ایک وزیر علی مدد جتک نے دیگر وزرا میرضیا اللہ لانگو، بخت محمد کا کٹر، نور محمد دومڑ، برکت رند، اسفند یار خان کاکڑ، ہادیہ نواز پارلیمانی سیکرٹری فرح عظیم شاہ، اشوک کمار اور دیگر اراکین کی جانب سے مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ 31 اگست 2026 کی اسمبلی نشست میں صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کی جانب سے گمراہ کن الفاظ ’235 افراد کو اسلام آباد کانفرنس میں بلایا اور ایم پی ایز قبائلی عمائدین سمیت وہاں بیٹھے تھے گالیاں کھا کے وہاں سے بے عزت طریقے سے آئے ہیں۔‘ قرار داد میں کہا گیا کہ ایسے گمرہ کن، نامناسب اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے جو نہ صرف معزز اراکین اسمبلی کی توہین اور ان کی پارلیمانی حیثیت بلکہ پورے ایوان کے تقدس وقار اور استحقاق کو بھی شدید مجروح کیا اور عوام کو ریاست کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی۔ جس پر یہ ایوان ان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
قرار میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ اراکین اسمبلی عوام کے منتخب نمائندے ہیں ان کی عزت تکریم در اصل عوام کے مینڈیٹ جمہوری اقدار اور پارلیمانی ادارے کے احترام کی عکاسی کرتا ہے کسی بھی معزز رکن کے خلاف غیر پارلیمانی تحقیر آمیز گمراہ کن یا توہین آمیز الفاظ کا استعمال محض ایک فرد کی دل آزاری نہیں بلکہ اس ایوان اور اس کے تمام منتخب اراکین کی اجتماعی توہین تصور ہوتا ہے۔
لہذا یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ 31 اگست 2026 کی اسمبلی نشست میں صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کی جانب سے ادا کیے گئے الفاظ کو اسمبلی کی کارروائی سے فوری طور پر حذف کیا جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قرارداد پر وزرا اور اراکین اسمبلی نے میر صادق عمرانی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کی خاطر ہزاروں جانیں قربان کیں، پارٹی نے جس رکن کو پارلیمانی لیڈر بنایا اس کا رویہ قابل مذمت ہے۔ صادق عمرانی نے اسمبلی کے فلور پر جو زبان استعمال کی وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جانے والے وفد کے بارے میں گمراہ کن باتیں کر کے ان کی عزتِ نفس مجروح کی گئی، بلوچستان کے وفد کا ایئرپورٹ پر استقبال کیا گیا اور فائیو سٹار ہوٹل میں قیام کرایا گیا اور میزبان نے باعزت طریقے سے ان کی باتیں سنیں اور سوالات کے جواب دیے۔
اراکین کا کہنا تھا کہ صادق عمرانی نے سنی سنائی باتیں دھرا کر بے بنیاد الزامات لگائے، یہ قرارداد صرف چند لوگوں کی نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے باعزت لوگوں کی طرف سے ہے، بلوچستان کا مسئلہ ہی اس طرح کے نفرت انگیز بیانیے کی وجہ سے ہے۔ صوبائی وزیر اپنے بیان پر معافی مانگیں۔
وزیر آبپاشی صادق عمرانی نے تاہم اپنے وضاحتی تقریر کہا کہ انہوں نے زمرک خان کی قرارداد کے جواب میں کہا تھا کہ اپ کو کانفرنس میں یہ بات کہنا چاہیے تھی۔ ’ہم نے ہمیشہ حق کی بات کی ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔ میں نے جو بات کی ہے اس پر قائم ہوں۔
صادق عمرانی کی تقریر کے درمیاں میں وزیر صحت بخت کاکڑ کی مداخلت پر دونوں وزرا کے درمیاں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ صادق عمرانی نے کہا کہ وہ اپنے اداروں کا سب سے زیادہ دفاع کرنے والے ہیں۔
بحث کے بعد سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق نے قراداد منظوری کے لیے ایوان میں رائے شماری کرائی جس پر ایوان نے متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
نماز کے وقفے کے بعد وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے پوائینٹ آف آرڈر پر بتایا کہ صادق عمرانی اسمبلی میں تقریر کرنے پر خاتون رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ کے ساتھ بد تمیزی کی اور انہیں سنگین نوعیت کی دھمکیاں دی۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اس واقعے کا نوٹس لے۔
انڈپنڈنڈٹ اردو نے جب فرح عظیم شاہ اس حوالے سے دریافت کیا تو انہوں نے صادق عمرانی کی جانب سے منفی اور دھمکیاں دینے کی تصدیق کی ہے۔
صادق عمرانی پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں اور بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں۔