خودکش حملوں کے لیے تیار بی ایل اے سے منسلک دو لڑکیاں گرفتار: بلوچستان حکومت

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مکران میں کارروائی کرتے ہوئے بی ایل اے سے منسلک دو کم عمر لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو 29 اگست، 2026 کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (سکرین گریب)

وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے ہفتے کو کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مکران ڈویژن میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک دو کم عمر لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے، جنہیں مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔

لانگو نے کوئٹہ میں دونوں لڑکیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والی لڑکیوں کی عمریں 16 اور 12 سال ہیں اور دوران تفتیش ان کے بیانات سے بی ایل اے کی جانب سے کم عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق 16 سالہ زینب کے شوہر سیف سمیت خاندان کے 8 سے 10 افراد کو مبینہ طور پر بی ایل اے نے قتل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے ایک مقامی کمانڈر نے سیف سے تنظیم کے لیے کام کرنے کے لیے رابطہ کیا، تاہم انکار پر انہیں قتل کر دیا گیا۔

ضیاء اللہ لانگو کے مطابق سیف کے قتل کے بعد بھی مقامی کمانڈر زینب سے رابطے میں رہا اور اسے باور کرایا گیا کہ ان کے شوہر کو سکیورٹی اداروں نے قتل کیا، جس کے بعد انہیں بدلہ لینے کے لیے تنظیم کا حصہ بننے پر آمادہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 12 سالہ فاطمہ زینب کی کزن ہے اور ہر وقت ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے وہ بھی کمانڈر کے رابطے میں آ گئی۔

وزیر داخلہ کے مطابق فاطمہ کے والد کو بھی مبینہ طور پر بی ایل اے نے نشانہ بنایا، جس کے بعد اسے بھی جذباتی طور پر ورغلا کر تنظیم میں شامل ہونے پر آمادہ کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں لڑکیوں کو بی ایل اے کے پاس پہنچنے کے بعد تقریباً 40 روز تک ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا، جہاں ان کی مبینہ طور پر ذہن سازی کی جاتی رہی۔

ان کے مطابق زینب اور فاطمہ نے تنظیم کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہیں بتایا گیا کہ اعلیٰ کمانڈر کسی ہمسایہ ملک کے دورے پر ہیں اور واپسی پر ان کی ملاقات کرائی جائے گی۔

لانگو نے بتایا کہ دونوں لڑکیوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔

پریس کانفرنس کے دوران فاطمہ نے بتایا کہ اس کے والد کا نام نثار ہے اور وہ جنوبی بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔

اس کے مطابق والد کو دہشت گردوں نے قتل کیا، جس کے بعد اسے بتایا گیا کہ اس کے والد کو سرکاری اداروں نے مارا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاطمہ کے مطابق بی ایل اے کے مقامی کمانڈر نے انہیں تنظیم میں شامل ہونے اور ’سرکار پر خودکش حملہ‘ کرنے کے لیے کہا، جس کے بعد وہ اور زینب اس کام کے لیے تیار ہوگئیں۔

اس نے بتایا کہ دونوں کو ایک نامعلوم مقام پر لے جایا گیا اور تقریباً 40 روز تک وہاں رکھا گیا۔

فاطمہ کے مطابق کچھ عرصے بعد دونوں نے اس عمل کو غلط قرار دیتے ہوئے گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کی، جس پر انہیں مبینہ طور پر تشدد اور ہراساں کیا گیا۔

اس نے کہا بعد ازاں سکیورٹی فورسز نے انہیں حراست میں لے لیا، جس پر وہ ان کی شکر گزار ہیں کہ ’انہوں نے ہمیں نئی زندگی دی۔‘

وزیر داخلہ نے کہا گرفتار لڑکیوں سے ہونے والے انکشافات سے بی ایل اے کے مبینہ عزائم اور کم عمر افراد کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش سامنے آتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک روز قبل سکیورٹی اداروں کی جانب سے گوادر، تربت، مند اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی نو خواتین کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے فی خاتون 10 لاکھ روپے انعام کے اعلان کے بعد سامنے آئی۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ خواتین مبینہ طور پر بی ایل اے کے کیمپوں میں موجود ہیں اور انہیں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان