بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے میں بیرونی سرپرستی میں عناصر سرگرم: فیلڈ مارشل

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی جانب سے ثابت قدم، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل کے ذریعے ان مذموم عزائم کو شکست دی جائے گی۔‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے 21 اگست 2026 کو جاری ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر  بلوچستان کی معزز شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے (آئی ایس پی آر)

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’فتنۃ الخوارج‘ اور ’فتنۃ الہندوستان‘ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے ایسے عناصر ہیں، جنہیں دشمن قوتیں بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے، اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے ان خیالات کا اظہار بلوچستان کی معزز شخصیات اور سیاسی قیادت سے ملاقات کے دوران کیا۔

فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کی اصطلاحات پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت ملک بھر خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جن کے بارے میں پاکستان کا موقف ہے کہ انہیں افغان طالبان اور انڈیا کی ریاستی سرپرستی اور پشت پناہی حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان میں عسکریت پسندی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن کے دوران عام شہریوں کے علاوہ سکیورٹی اہلکاروں کی بھی اموات ہوئی ہیں۔

رواں ماہ ہی یوم آزادی کے موقع پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کے قافلے کو مستونگ میں مسلح افراد نے سنائپر سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے جبکہ ان کی گاڑی کو چھ گولیاں لگیں اور سکیورٹی کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔

اسی طرح صوبے میں سرکاری عمارتوں اور بینکوں پر حملوں اور انہیں جلانے کے واقعات کے بعد نیشنل بینک سمیت مختلف بینکوں نے بھی آٹھ اگست سے اپنی متعدد شاخیں ایک ہفتے کے لیے بند کر دی تھیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی جانب سے ثابت قدم، پُرعزم اور فیصلہ کن ردعمل کے ذریعے ان مذموم عزائم کو شکست دی جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بلوچستان کی معزز شخصیات اور معاشرتی رہنماؤں کے امن کے فروغ، سماجی ہم آہنگی کے استحکام اور تعمیری قومی مکالمے کو آگے بڑھانے میں کردار کو سراہتے ہوئے ’دشمن پروپیگنڈے کا جامع اور بلاجھجک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان اور اس کے عوام کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور امنگوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘

بقول فیلڈ مارشل: ’بلوچستان کی تقدیر صرف بلوچستان کے عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘

ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ ’بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔‘

انہوں نے زور دیا کہ ’واضح قومی بیانیہ اور دیرپا امن و استحکام صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اس کے وسیع انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کے لیے ٹھوس خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔‘

فیلڈ مارشل کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے نوجوانوں میں نہ صلاحیتوں کی کمی ہے اور نہ مواقع کی، جو ہمارے معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان