پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں اہم کیا ہے؟

وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے پیش کردہ بل کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ نے جمعرات کو پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

جمعرات کو ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور ایوان بالا (سینیٹ) نے پاکستان میں مسلح افواج کے ڈھانچے اور کمان سے متعلق بل منظور کیا، جو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کے عہدے، اختیارات اور ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے قیام سے متعلق ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

جمعرات ہی کو وفاقی کابینہ نے بھی مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے ’پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026‘ کی منظوری دہ دی تھی۔

نئے قانون کے مسودے کے مطابق، یہ گذشتہ برس نومبر سے نافذ العمل تصور ہوگا تاہم اس کی ابھی پارلیمان سے منظوری باقی ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مسلح افواج کے درمیان مشترکہ رابطے، آپریشنل ہم آہنگی اور قومی سلامتی سے متعلق امور میں بہتر نظم و نسق کے لیے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ تیار کیا ہے۔

اس قانون کا بنیادی مقصد ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کے عہدے کو قانونی بنیاد فراہم کرنا اور دفاعی افواج کے ہیڈ کوارٹرز کا قیام عمل میں لانا ہے۔

اس بل کے مطابق جہاں جہاں ’چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی‘ کا ذکر ہے، وہاں ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز وزیراعظم کے قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور پر پرنسپل ملٹری ایڈوائزر ہوں گے، جبکہ انہیں مسلح افواج کی آپریشنل کمان اور کنٹرول حاصل ہوگا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے درمیان کثیر الجہتی انضمام، آپریشنل ہم آہنگی، رابطہ کاری اور نگرانی کے لیے ضروری اختیارات استعمال کرنے اور فرائض انجام دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

مجوزہ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق قوانین کے تابع کسی بھی شخص کو ریٹائر کرنے، سروس سے فارغ کرنے، استعفیٰ قبول یا مسترد کرنے، ملازمت سے برطرف کرنے یا سروس میں برقرار رکھنے کا اختیار ہوگا۔

بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا سروس کی مدت میں نرمی دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً ایکٹ کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے قواعد و ضوابط بنا سکے گی، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے لیے ہدایات اور احکامات جاری کر سکیں گے۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق: ’اگر ایکٹ پر عمل درآمد میں کوئی مشکل پیش آئے یا اس کی دفعات اور کسی دوسرے قانون کے درمیان تضاد پیدا ہو تو صدرِ مملکت حکم کے ذریعے ایسی مشکل دور کر سکیں گے۔‘

ایکٹ کے اہم مقاصد

مسودے کے مطابق، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو نے حاصل کی اس قانون کے تحت مسلح افواج کے مابین مشترکہ منصوبہ بندی، تربیت اور آپریشنل رابطوں کو مؤثر بنانا ہے۔

اس کے علاوہ دفاعی افواج کے ہیڈ کوارٹرز (Defence Forces Headquarters) قائم کرنا، چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کا تعین کرنا، قومی سلامتی اور دفاعی امور سے متعلق مشترکہ پالیسی سازی اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے۔

ہیڈ کوارٹرز کا قیام

ایکٹ کے تحت دفاعی افواج کا ایک مستقل ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات

مسودے کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز:

مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری اور انضمام کو فروغ دے گا۔

قومی سلامتی، جنگی تیاری اور دفاعی منصوبہ بندی سے متعلق امور میں کردار ادا کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آرٹیکل 243 کے تحت مقرر کردہ اہلکاروں کی تعیناتی، تبادلے، ریٹائرمنٹ، برطرفی یا سروس سے متعلق دیگر معاملات کی نگرانی کر سکے گا۔

وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق دیگر اختیارات بھی استعمال کر سکے گا۔

قواعد و ضوابط

وفاقی حکومت کو ایکٹ کے مقاصد پورے کرنے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز ان قواعد کے نفاذ کے لیے احکامات اور ہدایات جاری کر سکے گا۔

مشکلات کے ازالے کی شق

اگر ایکٹ کے نفاذ میں کوئی قانونی یا انتظامی مشکل پیش آئے تو صدرِ مملکت کو اختیار ہوگا کہ وہ حکم نامے کے ذریعے ایسی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر سکیں۔

سابقہ قوانین کا تسلسل

مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلح افواج سے متعلق موجودہ قوانین، قواعد، ضوابط اور احکامات اس وقت تک نافذ العمل رہیں گے جب تک وہ اس نئے قانون سے متصادم نہ ہوں۔

اس مجوزہ قانون کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ کمان اور رابطہ کاری کے نظام کو مزید ادارہ جاتی شکل دیتا ہے۔

اس کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کے کردار، اختیارات اور دفاعی ہیڈ کوارٹرز کے انتظامی ڈھانچے کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان