وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بل پر عوام میں ’ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لہٰذا ہم کمپنی اور قانون سازی کے عمل کو فی الحال یہیں پر روک رہے ہیں۔‘
قانون سازی
نئے قانون کے مطابق مستقبل میں ایران کی جوہری تنصیبات کا کوئی بھی معائنہ صرف اس وقت ممکن ہوگا جب تہران کی قومی سلامتی کونسل اس کی منظوری دے گی۔