وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کے شکوک وشبہات کی وجہ سے معدنیات (منرل) کے لیے کمپنی بنانے کے بل کی قانون سازی کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے جمعے کو ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا: ’خیبر پختونخوا کی حکومت جیسے انرجی اور تیل و گیس کے لیے اپنی کمپنی ’کے پی او جی ڈی سی ایل‘ (KPOGCL) بنا چکی ہے، اسی طرح معدنیات کے لیے بھی ایک کمپنی بنانا چاہتی ہے تاکہ خیبرپختونخوا کے عوام اپنے قیمتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں اور غیرقانی کان کنی اور مافیاز کا خاتمہ ہو-‘
تاہم سہیل آفریدی کے مطابق: ’چونکہ عوام میں مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے کئی چیزوں کو لے کر ابہام اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، لہٰذا ہم اس کمپنی اور قانون سازی کے عمل کو فی الحال یہیں پر روک رہے ہیں۔ عوام کا اعتماد ہی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘
خیبر پختونخواہ کی حکومت جیسے انرجی اور تیل و گیس کے لیے اپنی کمپنی KPOGCL بنا چکی ہے ایسی ہی معدنیات کے لیے بھی ایک کمپنی بنانا چاہتی ہے تاکہ خیبرپختونخوا کی عوام اپنے قیمتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں اور غیرقانی مائننگ اور مافیاز کا خاتمہ ہو- اُس کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) January 23, 2026
خیبر پختونخوا کابینہ نے گذشتہ دنوں مائنز ایبڈ منرل ڈولیپمنٹ اینڈ مینیجمنٹ کمپنی بنانے کے بل لانے منظوری دی تھی لیکن صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مطابق اس بل کو سابقہ مائنز اینڈ منرل بل کے ساتھ جوڑا گیا، جس پر حزب اختلاف اور بانی چیئرمین عمران خان نے تنقید کی تھی اور بل روکنے کا کہا تھا۔
صوبائی مشیر اطلاعات شفیع جان نے کمپنی بنانے کے بل کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ کابینہ میں جو بل منظور ہوا تھا، اس کا تعلق صرف منرل کمپنی بنانے سے تھا۔
انہوں نے بتایا: ’معدنیات ڈولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کا مقصد خیبر پختونخوا میں معدنی وسائل کی منظم تلاش اور ترقی کو فروغ دینا، سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو آسان بنانا اور معدنیات کی پروسیسنگ اور متعلقہ سہولیات کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کو سپورٹ کرنا ہے۔‘
شفیع جان کے مطابق کمپنی کے قیام کا مقصد معدنی وسائل کی زنجیر کے شفاف اور موثر انتظام کو یقینی بنانا، نگرانی کو بہتر بنانا اور غیر قانونی طور پر مائننگ کی روک تھام ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ’کمپنی صرف صوبائی حکومت کی ماتحت کام کرے گی، جیسے کہ جیسے صوبائی پاور انرجی یا صوبائی گیس کمپینز کرتی ہیں۔‘
منرل ڈولپمنٹ اینڈ مینیجمنٹ کمپنی کے قیام کی منظوری اس سے پہلے 2024 میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی دی تھی اور اس کمپنی کے بنانے کے لیے منرل ڈپارمنٹ نے کنسلٹنٹ کو بھرتی کرنے کے لیے مئی 2025 میں اشتہار بھی دیا تھا۔
تاہم سوشل میڈیا پر لوگ کمپنی بنانے کے اس بل کو گذشتہ سال مائنز اینڈ منرل بل سمجھ بیٹھے، جو کمپنی بنانے کے موجودہ بل سے مختلف ہے۔
معدنیات بل پر گذشتہ سال کیا مسئلہ پیدا ہوا تھا؟
گذشتہ سال اپریل میں صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بل پر حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت پی ٹی آئی نے تنقید کی تھی اور عمران خان نے بل منظور کرنے سے روک دیا تھا۔
بل میں معدنیات کی لیز، لائسنسنگ سمیت مختلف دیگر امور کا احاطہ کیا گیا تھا۔ اس وقت تنقید کرنے والوں کا خیال تھا کہ یہ بل صوبائی معدنیات بل وفاقی حکومت کی نگرانی میں دینے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ سال کے بل میں مجوزہ قانون کے تحت ایک ایسا نظام بھی بنانے کا کہا گیا تھا، جس میں تمام تر لائسسنگ، نیلامی و ادائیگیوں کی تفصیل، درخواستوں کی وصولی اور دیگر معلومات فراہم کی جائیں گی۔
مجوزہ بل کے مطابق کان کنی نظام اس بات کا بھی پابند ہو گا کہ وفاقی حکومت کے مائننگ ونگ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس نظام کے تحت ایک رجسٹر مرتب کیا جائے۔ اس رجسٹر میں لیز دینے، لیز کی تجدید، لیز ٹرانسفر اور صوبے بھر میں لیز ہولڈرز کی تمام تر معلومات موجود ہوں گی۔
گذشتہ سال کے مجوزہ بل کے مطابق صوبے میں معدنیات سیکٹر کی ترقی کے لیے منرل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن اتھارٹی قائم کی جانی تھی، جو تمام صوبوں کے معدنیات کے حوالے سے معاملات اور اس سیکٹر کی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔
اس اتھارٹی کو خود یا وفاقی حکومت کی تجاویز کے مطابق لیز اگریمنٹ میں تبدیلی، فیس رینٹ اور رائلٹیز میں تبدیلی، نیلامی کے دوران سکیورٹی ڈیپازٹ میں تبدیلی، معدنیات سیکٹر میں سامان بیرون ممالک سے درآمد کرنے پر ٹیکس میں رعایت اور صوبائی لائسسنگ اتھارٹی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اختیار ہوگا۔