پاکستانی بحریہ کا سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘ کا آغاز

آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام قومی توانائی کی فراہمی کے بلاتعطل بہاؤ اور سمندری راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی 9 مارچ 2026 کو جاری کردہ تصویر میں پاکستان بحریہ کے جہاز کو ایک تجارتی جہاز کو ایسکورٹ کرتے دکھایا گیا ہے (آئی ایس پی آر)

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ نے آپریشن محافظ البحر‘ کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد قومی جہاز رانی اور تجارت کو لاحق خطرات سے نمٹنا ہے۔

آئی ایس پی آر نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ’علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے بدلتے ہوئے ماحول اور اہم سمندری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں‘ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایران پر امریکہ اور اسرائیل بمباری کر رہے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ملکوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز کئی دنوں سے بند ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی توانائی کی فراہمی کے بلاتعطل بہاؤ اور سمندری راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا: ’پاک بحریہ کے سکارٹ آپریشنز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کیے جا رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق: ’پاک بحریہ موجودہ سمندری صورت حال سے پوری طرح باخبر ہے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ان کی نقل و حرکت کی فعال نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ چونکہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، اس لیے اس آپریشن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اہم سمندری راستے محفوظ اور بلاتعطل رہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان بحریہ کے جہاز دو تجارتی جہازوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ’پاک بحریہ ابھرتے ہوئے میری ٹائم سکیورٹی چیلنجز کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور قومی جہاز رانی کی حفاظت اور علاقائی سمندری سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان