ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔
اس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے بیشتر ممالک پر ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
امریکہ کے توانائی کے ادارے اینرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
آبنائے ہرمز کیا ہے؟
آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک بحری پٹی ہے۔ اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ 33 کلومیٹر چوڑی ہے، لیکن اس مقام پر جہازرانی کا راستہ صرف تین کلومیٹر چوڑا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ 30 سے 40 بحری جہاز گزرتے ہیں۔ یہ جہاز دو کروڑ سے زیادہ بیرل تیل لے کر جاتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ تمام خطے کو فراہم کیے جانے والا ساز و سامان بھی اسی راستے سے آتا ہے۔
آبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے۔ البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جائے گی۔
ایران ایک عرصے سے کہتا چلا آیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ اس آبنائے کو بند کر دے گا۔ خدشہ ہے کہ اس گزرگاہ کی بندش سے تیل کی قیمتیں یک دم بڑھ جائیں گی اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔
امریکہ اور دوسرے ملکوں کا ردعمل کیا ہو گا؟
آبنائے ہرمز کے قریب بحرین میں قائم 34 ملکوں کا بین الاقوامی اتحاد جہاز رانی کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ بھی قریب ہی تعینات ہے اور ان کی طرف سے اس بندش کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا کہ کیوں کہ یہاں سے گزرنے والے 83 فیصد تیل کا خریدار ایشیا ہے، صرف 7.5 فیصد یورپ کو جاتا ہے۔ خود ایرانی تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس سے آنے والی آمدن کی موجودہ حالات میں اسے سخت ضرورت ہے۔