امریکہ، اسرائیل حملے کے بعد ایران کی جوابی کارروائی، آبنائے ہرمز میں جہازوں کا داخلہ بند

یورپی یونین کے بحری مشن کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے جہازوں کو یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔‘

  • امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے مطابق ایران سے ان کو درپیش ’خطرات‘ کو کم کرنا ہے۔
  • امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے۔
  • ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
  • ایران نے اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس

رات 11 بج کر 25 منٹ: ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں‘


رات 10 بج کر 05 منٹ: ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں‘

یورپی یونین کے بحری مشن کے ایک عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے جہازوں کو یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ ’کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔‘

یورپی بحری مشن کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران نے تاحال باقدعدہ طور پر ایسے کسی حکم نامے کی تصدیق نہیں کی ہے۔


رات 9 بج کر 40 منٹ: بحری جہاز خلیج سے دور رہیں

امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ نے ہفتہ کو تجارتی بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خلیج کے علاقے سے دور رہیں۔

محکمے کی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز، خلیج عرب، خلیج عمان اور بحیرۂ عرب میں اس وقت نمایاں عسکری سرگرمیاں جاری ہیں، اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ جہاز جہاں تک ممکن ہو اس علاقے سے گریز کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کے پرچم تلے چلنے والے، امریکی ملکیت یا امریکی عملے کے حامل جہاز کسی بھی امریکی عسکری جہاز سے کم از کم 30 ناٹیکل میل کے فاصلے پر رہیں، تاکہ انہیں غلطی سے خطرہ نہ سمجھ لیا جائے۔


رات 9 بج کر 38 منٹ: صدر ٹرمپ ایرانی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں: وائٹ ہاؤس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین ہفتہ کو اپنے فلوریڈا ریزورٹ سے ایران کی صورت حال پر نظر رکھے رہے۔

وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایکس پر کہا، ’صدر اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم پورے دن صورت حال پر قریبی نظر رکھیں گے، اور مزید کہا کہ ٹرمپ نے بھی مارلاگو میں رات بھر صورت حال کی نگرانی کی۔‘

ادھر اسرائیل کے ایک فوجی سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر جاری حملے اس ملک کے خلاف ایک ’غیرمعمولی‘ کارروائی کا حصہ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا: ’ہم دفاعی اور جارحانہ دونوں لحاظ سے اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہم اب ایرانی دہشت گرد حکومت کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم، فیصلہ کن اور غیرمعمولی آپریشن کر رہے ہیں۔


رات 8 بج کر 48 منٹ: ایرانی سپریم رہنما زندہ ہیں: وزیر خارجہ

ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے سپریم رہنما اور تمام اعلیٰ حکام امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود زندہ ہیں۔

وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو تہران سے دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ان کے علم کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای خیریت سے ہیں، اور تمام اعلیٰ عہدے دار بھی محفوظ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خلیجی ریاستوں سے بات چیت ہوئی ہے اور انہیں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کا ان ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ وہ اپنے دفاع کے تحت امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ نہیں، تاہم اگر امریکی حکام بات چیت کرنا چاہیں تو وہ جانتے ہیں کہ ان تک کس طرح رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کشیدگی میں کمی کا خواہش مند ہے۔


رات 8 بج کر 45 منٹ: بچیوں کے سکول پر حملے میں 85 طالبات جان سے گئیں: ایران

ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک اسرائیلی حملے کے نتیجے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بچیوں کے ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث کم از کم 85 طالبات جان کھو بیٹھی اور 60 زخمی ہو گئیں۔

میناب کے گورنر محمد ردمہر نے ہفتہ کو بتایا کہ شجرۂ طیبہ سکول پر براہِ راست حملہ کیا گیا اور 53 طالبات اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

گورنر کے مطابق سکول میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ شہر کی مجموعی سکیورٹی صورت حال قابو میں ہے۔

مرنے والوں کی تعداد کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

رات 8 بج کر 45 منٹ: شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کی شام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کی تاکہ پاکستان کی جانب سے ایران پر اسرائیلی حملے اور خلیجی خطے میں حملوں کے بعد خطرناک علاقائی کشیدگی کی سخت مذمت کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے بعد میں عربی زبان میں بھی پوسٹ کی۔


رات 7 بج کر 10 منٹ: چین کی تشدد روکنے کی اپیل

چین نے ہفتہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھانے کی کوششوں کے خلاف سخت تنبیہ کرتے ہوئے فوری طور پر تشدد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین فوری طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، فریقین کو کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کی تلقین کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مکالمے اور مذاکرات کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اور تمام اقدامات بین الاقوامی اصولوں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے مطابق ہونے چاہییں۔



شامی بچے ایک ایرانی راکٹ کے ملبے کا معائنہ کر رہے ہیں جسے مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز نے قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے میں، گولان کی پہاڑیوں کے قریب غدیر البستان کے علاقے میں گرا دیا تھا (اے ایف پی)

شام 7 بج کر 06 منٹ: الظفرہ اڈے سے دھواں

دو عینی شاہدین نے ہفتہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے ابوظبی کے الظفرہ اڈے سے دھواں اٹھتے دیکھا، جہاں امریکی فوجی تعینات ہیں۔

موقع پر موجود ایک گواہ نے کہا، ’الظفرہ امریکی اڈے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔‘ ایک اور گواہ نے اس رپورٹ کی تصدیق کی اور کہا کہ علاقے میں کام کرنے والی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو جانے کو کہا تھا۔


شام 6 بج کر 58 منٹ: مزید دھماکوں کی آوازیں 

متحدہ عرب امارات، قطری اور بحرینی دارالحکومتوں میں رہائشیوں اور اے ایف پی کے رپورٹرز نے ہفتہ کو مزید دھماکوں کی آوازیں سنیں، جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خلیج میں جوابی حملے شروع کیے۔

مناما میں اے ایف پی کے ایک نمائندے نے کم از کم دو دھماکوں کی آواز سنی، جبکہ قطر کے صحافیوں نے دھماکوں کی نئی لہر کی اطلاع دی۔ ابوظبی کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں کی آواز سنی۔


شام 6 بج کر 54 منٹ: 20 سے زائد ایرانی صوبے متاثر

ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ ایران کے 31 صوبوں میں سے 20 سے زیادہ ہفتے کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔


شام 6 بج کر 42 منٹ: ایرانی صدر محفوظ ہیں: ارنا

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔ ارنا کے مطابق ایوان صدر کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔


شام 6 بج کر 10 منٹ: متحدہ عرب امارات کا ایرانی میزائلوں کی دوسری لہر ناکام بنانے کا دعویٰ

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ ملکی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی دوسری لہر کو کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیا جبکہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

وزارت دفاع کے مطابق افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور ریاست کی سکیورٹی و استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش کا بھرپور جواب دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

حکام نے بتایا کہ تباہ کیے گئے میزائلوں کے کچھ ٹکڑے ابوظبی کے مختلف علاقوں، جن میں جزیرہ سعدیات، خلیفہ سٹی، بنی یاس، محمد بن زاید سٹی اور الفلاح شامل ہیں۔


شام 6 بج کر 07 منٹ: متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی کی موت

متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی وام نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کو ایران کی جانب سے کیے جانے والے میں حملے میں ایک پاکستانی شہری کی موت ہوئی ہے۔

وام نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مرنے والے پاکستانی شہری کے اہلخانہ سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔


شام 5 بج کر 40 منٹ: ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملہ 

ایرانی کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کو جنوبی ایران میں ایک لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے حملے میں مرنے والوں کی تعداد 51 ہو گئی ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ’میناب کے گرلز ایلیمنٹری سکول میں ابتدائی طور پر 40 اموات ہوئی تھیں جن میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں مزید 45 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘


سہ پہر چار بج کر 12 منٹ: متحدہ عرب امارات کا ایرانی میزائل کامیابی سے روکنے کا دعویٰ

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی دفاعی افواج نے انتہائی مؤثر انداز میں کئی ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روکا ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابوظبی کے ایک رہائشی علاقے میں گرنے والے میزائل سے عمارت کو نقصان پہنچا اور ایک ایشیائی شہری کی موت ہوئی ہے۔

متعلقہ حکام نے تصدیق کی کہ ملک میں سکیورٹی صورت حال قابو میں ہے، اور تمام متعلقہ فریقین 24 گھنٹے پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


سہ پہر چار بجے: ایرانی پاسداران انقلاب کی کارروائی، ’وعدہ صادق 4‘

ایران کے پاسداران انقلاب نے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد اپنی جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جن میں بحرین میں ’ففتھ فلیٹ‘ بھی شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہپاسداران انقلاب  نے ’وعدہ صادق 4‘  نامی آپریشن کے تحت ’مجرم امریکی فوج اور بچوں کے قاتل صہیونی حکومت‘ کے خلاف خطے میں دشمن کے اہداف پر جامع حملے کیے۔

پاسداران انقلاب نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔


سہ پہر تین بج کر 23 منٹ: ایرانی سپریم لیڈر، صدر کو نشانہ بنایا، نتائج واضح نہیں: اسرائیلی عہدیدار

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز اپنے حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں کے نتائج واضح نہیں ہیں۔

عہدیدار نے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔


سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ: کامیابی قریب ہے: رضا پہلوی

ایران کے جلاوطن شہزادے رضا پہلوی نے، جو تقریباً 50 سال سے بیرون ملک مقیم ہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کامیابی قریب ہے۔‘

ہفتے کو ہونے والے اسرائیلی اور حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’وہ امداد جو امریکہ کے صدر نے ایران کے بہادر عوام سے وعدہ کی تھی، اب پہنچ گئی ہے۔‘

 


دوپہر 2 بج کر 30 منٹ: ایران کے مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے

ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کے ردعمل میں اسرائیل کے بعد مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔ ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ تمام امریکی اڈے اور مفادات ایران کی پہنچ میں ہیں۔

روئٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ہفتے کو متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔

اسی طرح کویت میں بھی سائرن کی آواز سنی گئی جب کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی ملیشیا حشد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے جنوب میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز پر فضائی حملوں میں ایک شخص کی جان گئی اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔


دوپہر 2 بجے: ایران پر حملوں کے آپریشن کو ’ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا ہے: پینٹاگون

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ہفتے کو بتایا ہے کہ امریکہ نے ایرانی فوجی اہداف کے خلاف اپنے بڑے پیمانے کے حملوں کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے۔

محکمہ دفاع نے اس نام کا اعلان سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کیا لیکن ان حملوں کے حوالے سے اب تک مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج تہران کی بحری اور میزائل قوتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔


دوپہر 1 بج کر 55 منٹ: اسرائیل کی طرف ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ: پاسداران انقلاب

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب نے ہفتے کو کہا ہے کہ حملے کے بعد ااسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز اور میزائلوں کی ’پہلی لہر‘ روانہ کر دی ہے۔


دوپہر 1 بج کر 21 منٹ: ایران سے آنے والے میزائلوں کو روک رہے ہیں: اسرائیل

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی حملے سے ہونے والے کسی نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔


12 بج کر 35 منٹ دوپہر: ایران پر حملے کا مقصد خطرات کو ختم کرنا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ امریکہ نے ایران میں ’اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہمارا مقصد امریکی عوام کا دفاع اور ایرانی حکومت سے فوری خطرات کو ختم کرنا ہے۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ایران کے میزائل تباہ کر دیے جائیں گے اور ان کی میزائل صنعت کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ ‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ اور دوسروں کے لیے خطرہ ہیں۔ ’ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے منڈلاتے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔‘

امریکی صدر نے زور دیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کو ’ہتھیار ڈال دینے چاہییں۔‘ بقول ان کے: ’ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا اور مکمل تحفظ دیا جائے گا، ورنہ انہیں یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ نے اس خطے میں اپنے لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں کی ایک بڑا بیڑہ جمع کر رکھا ہے تاکہ ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال سکے۔


دوپہر 12 بج کر 25 منٹ: امریکہ ان حملوں میں شامل ہے: امریکی عہدیدار

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار اور اس آپریشن سے واقف ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ ان حملوں میں شامل ہے۔

 امریکی شمولیت کس حد تک ہے، یہ واضح نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا 86 سالہ خامنہ ای اس وقت اپنے دفاتر میں موجود تھے۔ امریکہ کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے باعث وہ کئی دنوں سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سے کیے جا رہے ہیں۔


دوپہر 12 بج کر 10 منٹ: حملے امریکہ کی مشاورت سے کیے: اسرائیلی عہدیدار

ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہفتے کو ایران کے خلاف اسرائیلی حملہ امریکہ کی مشاورت سے کیا گیا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور اس کے آغاز کی تاریخ کئی ہفتے قبل ہی طے کر لی گئی تھی۔


دن 11 بج کر 40 منٹ: ایران میں دھماکوں کی آوازیں، فضائی حدود بند

ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے حوالے سے خبر دی کہ تہران میں یونیورسٹی سٹریٹ اور جمہوری کے علاقے میں کئی میزائل گرے ہیں۔

اسی طرح اصفہان، قم، کرج اور کرمان شاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

اے ایف پی نے تسنیم نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایرانی سول ایوی ایشن ایجنسی نے بتایا ہے کہ دارالحکومت تہران اور دیگر مقامات پر متعدد دھماکوں کے بعد ایران نے ہفتے کو اپنی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ’پورے ملک کی فضائی حدود تاحکم ثانی بند رہیں گی۔‘


دن 11 بج کر 30 منٹ: ایران نے اسرائیل پر حملہ کر دیا

 اسرائیل نے ہفتے کو کہا ہے کہ اس نے ہفتہ کو ایران پر پیشگی حملہ کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا: ’ریاست اسرائیل نے اپنے اوپر منڈلاتے خطرات کو ختم کرنے کے لیے ایران پر پیشگی حملہ کیا ہے۔‘

اے پی کے مطابق اسرائیل کے مختلف حصوں میں بھی سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو یہ تیاری دینے کے لیے ایک پیشگی الرٹ جاری کیا کہ ممکن ہے ریاست اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘

روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل بھر میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور عوام کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ملک میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسی طرح اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اعلان کیا کہ ’سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر اسرائیل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر کو ریاست اسرائیل کی فضائی حدود شہری پروازوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔‘


حملوں سے ایرانی جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدیں مزید مدھم

اس نئی صورت حال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔

امریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔

تاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔

ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

تہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

اس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔

جون میں، امریکہ ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ایک اسرائیلی فوجی مہم کا حصہ بنا تھا، جو اسلامی جمہوریہ کے خلاف اب تک کی سب سے براہ راست امریکی فوجی کارروائی تھی۔

جس پر تہران نے قطر میں واقع مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے امریکی ہوائی اڈے ’العدید‘ کی جانب میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔

مغربی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل منصوبہ علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے اور اگر اسے مزید تیار کر لیا گیا تو یہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم تہران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا