امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے طویل سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہا کہ وہ ایران کے مسئلے کو ’سفارت کاری‘ سے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ خطاب ایسے وقت میں کیا ہے جب دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ممکنہ معاہدے پر جنیوا میں بالواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث دو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔
گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو وہ ایک محدود حملے پر غور کر رہے ہیں، جس پر تہران نے عزم ظاہر کیا کہ وہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی حملے کے خلاف ’سختی سے‘ جوابی کارروائی کرے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا: ’میری ترجیح ہے کہ اس مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ میں دنیا میں دہشت گردی کے نمبر ون سرپرست، جو کہ وہ بلاشبہ ہیں، کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں ہونے دیا جا سکتا۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا: ’انہوں (ایران نے) پہلے ہی ایسے میزائل تیار کر لیے ہیں جو یورپ اور بیرونِ ملک ہمارے اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور وہ ایسے میزائل بنانے پر کام کر رہے ہیں جو جلد ہی ریاست ہائے متحدہ امریکہ تک پہنچ سکیں گے۔‘
ٹرمپ نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری سائٹس پر کیے گئے امریکی فضائی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’مڈنائٹ ہیمر کے بعد انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام، خصوصاً جوہری ہتھیاروں کی بحالی کی کوئی آئندہ کوشش نہ کریں۔ اس کے باوجود وہ جاری ہیں، وہ سب کچھ دوبارہ شروع کر رہے ہیں، ہم نے اسے ختم کر دیا تھا، اور وہ اسے دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایک مرتبہ پھر گذشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان میں ہونے والی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ثالثی سے یہ معاملہ ٹل گیا۔
ٹرمپ نے کہا: ’میری حکومت کے پہلے دس مہینوں میں، میں نے آٹھ جنگیں ختم کروائیں، جن میں کمبوڈیا بھی شامل ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان جوہری جنگ ہو سکتی تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ اگر میری مداخلت نہ ہوتی تو 35 ملین لوگ قتل ہو جاتے۔‘
ٹرمپ نے کوسوو اور سربیا۔ اسرائیل اور ایران۔ مصر اور ایتھوپیا۔ آرمینیا اور آذربائیجان۔ کانگو اور روانڈا اور غزہ کی جنگ کے خاتمے میں اپنی حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو عہدے سے ہٹانے کی امریکی کارروائی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں اپنی انتظامیہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔
’ہمارا ملک جیت رہا ہے‘
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ انہوں نے اندرونِ ملک روزگار اور مینوفیکچرنگ میں اضافہ کیا جبکہ بیرونِ ملک ایک نیا عالمی نظام مسلط کیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار امریکیوں کو یہ قائل کرنا تھا کہ معیشت اتنی کمزور نہیں جتنی بہت سے لوگ سمجھتے ہیں اور انہیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں رپبلکنز کی حمایت کر کے اسی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے ووٹ دینا چاہیے۔
اس دوران انہوں نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا اور گذشتہ برس کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں دیے گئے 100 منٹ کے خطاب سے بھی زیادہ طویل تقریر کی۔
ٹرمپ نے بعض مواقع پر حب الوطنی کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی اور اچانک مہمانوں کی ایک فہرست متعارف کرائی جس میں امریکی فوجی ہیرو، ایک سابق سیاسی قیدی جسے ان کی انتظامیہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے بعد رہا کیا گیا اور اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم شامل تھی۔
ٹرمپ نے ہاکی ٹیم کو متعارف کروانے سے قبل کہا: ’ہمارا ملک دوبارہ جیت رہا ہے۔ درحقیقت، ہم اتنا جیت رہے ہیں کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں، براہِ کرم، مسٹر صدر، ہم بہت زیادہ جیت رہے ہیں۔ ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے۔‘
تمغوں اور’یو ایس اے‘ کے الفاظ پر مشتمل سویٹر پہنے ہوئے ہاکی کھلاڑیوں کو دونوں جماعتوں کی جانب سے کھڑے ہو کر داد و تحسین ملی۔ ٹرمپ نے ایوان کے ڈیموکریٹک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مذاقاً کہا: ’یہ پہلی بار ہے کہ میں نے انہیں کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔‘
ٹیرف سے متعلق ’بدقسمتی پر مبنی فیصلہ‘
ٹرمپ نے اپنے امیگریشن کریک ڈاؤن اور ان وسیع ٹیرف کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا دفاع کیا جنہیں سپریم کورٹ نے حال ہی میں منسوخ کر دیا تھا۔ انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے ان کی پالیسیوں کو کالعدم قرار دینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’بدقسمتی پر مبنی فیصلہ‘ تھا، جبکہ اس سے پہلے ’سب کچھ بخوبی چل رہا تھا۔‘
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ درآمدات پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے ’متبادل‘ قوانین استعمال کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے قانون سازوں سے کہا: ’کانگریس کی کارروائی ضروری نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایک دن ٹیرف جدید انکم ٹیکس نظام کی ’نمایاں حد تک جگہ لے لیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ ٹیرف کی ادائیگی غیر ملکی ممالک کرتے ہیں، حالانکہ شواہد بتاتے ہیں کہ اس کا بوجھ امریکی صارفین اور کاروبار برداشت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’یہ ہمارے ملک کو بچا رہا ہے۔‘
جب ٹرمپ نے قانون سازوں کے اندرونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کا وعدہ کیا تو ڈیموکریٹس بھی کھڑے ہوئے، جس پر ٹرمپ نے کہا: ’میں بہت متاثر ہوا ہوں۔‘ تاہم سب نے تالیاں نہیں بجائیں۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن مارک تکانو نے آواز لگائی: ’پہلے آپ خود کریں!‘ جبکہ مشی گن سے ڈیموکریٹ رکن رشیدہ طلیب نے کہا: ’آپ سب سے زیادہ بدعنوان صدر ہیں!‘
جب شور شرابا جاری رہا تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ کو شرم آنی چاہیے۔‘ بعد ازاں انہوں نے ڈیموکریٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ لوگ پاگل ہیں،‘ انہوں نے مزید کہا: ’ڈیموکریٹس ہمارے ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔‘
ڈیموکریٹ رکن ال گرین کو اس وقت ایوان سے باہر لے جایا گیا جب انہوں نے ایک احتجاجی بینر لہرایا جس پر لکھا تھا: ’سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں!‘ یہ بینر ایک نسل پرستانہ ویڈیو کی جانب اشارہ معلوم ہوتا تھا جو صدر نے پوسٹ کی تھی، جس میں سابق صدر باراک اوباما اور خاتونِ اول مشیل اوباما کو جنگل میں بندروں کے طور پر دکھایا گیا تھا۔ ال گرین کو گزشتہ سال بھی ٹرمپ کے خطاب کے دوران ہٹا دیا گیا تھا۔