ٹرمپ کا ایران سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے جمعے کو کہا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو ہر صورت بلا رکاوٹ یقینی بنانا ہوگا۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ’ایران کو اس بات پر رضامند ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کرے گا۔ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جانا چاہیے، بغیر کسی ٹول کے، تاکہ دونوں سمتوں میں بلا رکاوٹ بحری آمد و رفت ہو سکے۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود تمام آبی بارودی سرنگیں (اگر کوئی ہیں) ختم کی جائیں گی۔ بقول ٹرمپ امریکہ نے متعدد سرنگیں ختم کرد ی ہیں جبکہ ایران فوری طور پر باقی ماندہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے یا دھماکے سے ختم کرنے کا عمل مکمل کرے گا۔
انہوں نے اپنی ’حیرت انگیز‘ اور ’غیر معمولی‘ بحری ناکہ بندی کی وجہ سے پھنس جانے والے جہازوں کو بھی’گھر واپسی‘کی نوید سنائی۔
افزودہ مواد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس حوالے سے ’ایران کے ساتھ قریبی رابطے اور تعاون میں ہے اور اس کے ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی شامل ہوگی اور اسے مکمل طور پر تباہ کیا جائے گا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اگلے نوٹس تک کسی قسم کی رقم کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔‘
آخر میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیگر کم اہم امور پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔ ’میں اب سچوئیشن روم میں ایک حتمی فیصلے کے لیے ملاقات کر رہا ہوں۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کی آبنائے ہرمز کے مستقبل پرعمانی ہم منصب کو فون
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو بتایا کہ انہوں نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں ’کسی بھی خطرے کے خلاف عمان کے ساتھ ایران کی یکجہتی کا اظہار کیا۔‘
In very productive call with FM @badralbusaidi, expressed Iran's solidarity with Oman in face of any threat.
We discussed Hormuz and its future administration in line with our sovereign responsibilities and international law.
We welcome consultation with all neighboring states. pic.twitter.com/MB6EVYNkNn
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 29, 2026
انہوں نے ایکس پر لکھا ’ہم نے اپنے خود مختارانہ فرائض اور بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز اور اس کے مستقبل کے انتظام و انصرام پر تبادلہ خیال کیا۔
’ہم تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ مشاورت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘
امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی پاکستانی کوششیں قابل تعریف: ایران
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کو کہا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور مؤثر کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ایران کی پالیسی تمام شعبوں میں مسلم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔‘
اپنے ایکس پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’عید الاضحیٰ کے موقع پر ملائیشیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے گفتگو کے دوران، انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اور ایران کے سفارت کاری کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے، میں نے ملائیشیا کا اس کے انسانی ہمدردی کے موقف پر شکریہ ادا کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جانب سے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور مؤثر کوششوں کو سراہا۔ ایران کی پالیسی یہ ہے کہ تمام شعبوں میں مسلم اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے۔‘
تاریخی مقامات پر اسرائیلی حملوں کے بعد لبنانی حکومت کا اظہار مذمت
لبنان نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں سے ملک کے جنوب میں واقع تاریخی اور ثقافتی ورثے کے مقامات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی حکام نے جمعرات کو کہا کہ یونیسکو کے محفوظ کردہ تاریخی مقامات اور یادگاروں کے قریب حملے کیے گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزیرِ ثقافت غسان سلامہ نے دنیا بھر میں اپنے ہم منصبوں اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں سے رابطے کر کے انہیں جنوبی لبنان میں آثارِ قدیمہ کے مقامات اور تاریخی علاقوں کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ کیا۔
انہوں نے قدیم شہر صور اور ضلع نبطیہ میں واقع بیوفورٹ قلعے کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ ان میں سے کئی مقامات یونیسکو کی خصوصی حفاظت میں ہیں، اس لیے انہیں کسی بھی اسرائیلی فضائی یا توپ خانے کے حملے سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نواف سلام نے بھی ایک بیان میں کہا کہ صور اور نبطیہ کے علاقوں پر جاری حملوں اور ان کے تاریخی آثار کی تباہی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیل نے جنوبی ساحلی شہر صور کے مختلف علاقوں کو خالی کرنے کے متعدد انتباہات جاری کیے ہیں اور وہاں شدید حملے بھی کیے ہیں۔
جمعرات کی صبح اسرائیلی فوج نے خبردار کیا کہ وہ صور میں ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنائے گی جو شہر کے آثارِ قدیمہ کے علاقے کے بالکل قریب واقع ہے۔
ایران۔امریکہ ممکنہ معاہدہ، تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد کم
ان خبروں کے بعد کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کر لیا ہے، اگرچہ اسے ابھی حتمی شکل دی جانی باقی ہے، جمعے کو تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ کی کمی ہو گئی ہے۔
تیل کی قیمتیں اپریل کے اوائل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی کی طرف جا رہی تھیں۔
روئٹرز کے مطابق جی ایم ٹی کے مطابق 0330 بجے جولائی کے لیے برینٹ کروڈ فیوچرز 1.1 فیصد یا 1.04 ڈالر کم ہو کر 92.67 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ امریکی تیل کے فیوچرز 1.26 ڈالر یا 1.4 فیصد کم ہو کر 87.64 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔
اس ہفتے برینٹ میں 10.5 فیصد کی نمایاں کمی آئی، جو 6 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سے سب سے بڑی گراوٹ ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 9.2 فیصد گر گیا، جو 13 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہے۔
تیل کی صنعت سے منسلک عالمی کمپنی آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ ’اتفاق رائے یہی ہے کہ تنازع ختم ہو چکا ہے، اور ایک معاہدہ ہونے والا ہے۔ جب تک یہ بات برقرار ہے، خام تیل میں 80 ڈالر کی نچلی سطح پر ٹرینڈ لائن سپورٹ کی طرف کمی گنجائش موجود ہے۔‘
ایران کے ساتھ معاہدے میں ’کافی پیشرفت‘ ہو چکی: امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کی جانب اچھی پیش رفت کی ہے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی اس کی منظوری دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق امریکی ذرائع کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پانے کی خبر کے چند گھنٹے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم زبان کے چند نکات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ ہم نے اس میں کافی پیش رفت کی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امید ہے کہ ہم پیش رفت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور صدر اس پوزیشن میں ہوں گے جہاں وہ معاہدے کی توثیق کر سکیں، لیکن ظاہر ہے کہ ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔‘
روئٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے معاملے پر ’ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا‘ لیکن فریقین ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ تہران کے ایٹمی پروگرام کو نمایاں حد تک پیچھے دھکیل سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار رواں ہفتے دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور اسلام آباد کی امن کوششوں پر بات کی جائے گی۔
فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے اور اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
اسلام آباد نے بارہا اس تنازعے میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے، جس نے عالمی کارگو اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا کہ اسحاق ڈار نیویارک میں اپنی ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد جمعے کو واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوں گے، جہاں وہ مارکو روبیو سے ملاقات کر کے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بات کریں گے۔
