پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت

پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت سے یکجہتی کا اظہار اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے حل کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے (مستقل پاکستانی مشن ایکس اکاؤنٹ)

پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت سے یکجہتی کا اظہار اور فریقین پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے حل کریں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہم اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے بھی اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔‘

پاکستانی مندوب نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے کہ جب یمنی حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کو نشانہ بنایا، یہ حملہ اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا جب حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا الزام عائد کیا تھا۔

دونوں فریقوں کے درمیان برسوں بعد یہ سب سے بڑی کشیدگی ہے، جس سے طویل عرصے سے جمود کا شکار تنازع دوبارہ بھڑکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو وہاں اترنے سے روکنا تھا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی تھی جب سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران جانے والے حوثی وفد کو یمن کی قومی فضائی کمپنی یمنیہ کی پرواز کے ذریعے واپس لانے کی کوشش ناکام ہو گئی اور وفد نے اس پرواز میں سوار ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔

اقوام متحدہ میں نائب پاکستانی مندوب عثمان جدون نے اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف یمنیوں کی قیادت اور ملکیت میں جاری ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جسے اقوام متحدہ کی معاونت حاصل ہو اور جو تمام یمنیوں کی جائز خواہشات اور خدشات کا احاطہ کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ اس پیش رفت کو آگے بڑھائیں اور ملک گیر اور دیرپا جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری انداز میں بات چیت جاری رکھیں۔ ‘

یمن کے عوام کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے عثمان جدون نے کہا کہ ’مزید کشیدگی امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے اور شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔‘

انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے امدادی عملے اور سفارتی اہلکاروں کی مسلسل من مانی حراست، نیز اقوام متحدہ کی عمارتوں اور اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حراست میں لیے گئے تمام اہلکاروں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور اقوام متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کو حاصل مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام کیا جائے۔‘

نائب پاکستانی مندوب نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے اسلام آباد کی جانب سے مخلصانہ کوشش کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ رابطوں کے ذرائع کھلے رکھیں، ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافہ کریں اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کی راہ اختیار کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان